شیخ چلی کی ثابت قدمی، اور اُن کے شکستہ خواب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شیخ چلی کے ( جاگتی آنکھوں ) خواب، ( بغیر دیگ کے ) خیالی پلاؤ اور ان کی ( بنا وسیلے ) خیالی پرواز، ہمارے ادب کا ایسا حصہ ہے جس کی اہمیت اور حیثیت بدلتے ادوار اور ان میں جنم لینے والے بدلتے رجحانات کے باوجود ابھی بھی قائم ہے اور یہ کردار نئے اور پرانے پڑھنے والوں کے لیے بہ دستور دلچسپی کا باعث ہے۔

مختلف عالمی اور مقامی ادب میں شامل کی جانے والی کہاوتیں، ضرب المثل، حکایتیں اور کہانیوں میں پیش کیے گئے کردار دراصل انسانی معاشرے کو بہتر بنانے، زندگی کی شاہراہ پر صحیح فیصلے اور صحیح راستے کا انتخاب کرنے اور یوں بل واسطہ اور بلاواسطہ انسانی مزاج کو سمجھنے اور سمجھانے کے اشارے کہے جا سکتے ہیں۔ اصلاح کی خواہش ( اور تڑپ ) ، انسانی معاشرے کی شاید وہ ضرورت ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتی۔ اسی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے، ان کہانیوں، کہاوتوں، ضرب المثل اور ایسے کرداروں کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے۔ نئے کردار جہاں اپنی جگہ بناتے ہیں، وہاں پرانے کردار بھی، جب تک ان کی تاثیر ختم نہیں ہوتی، پڑھنے اور سننے والوں کی توجہ سے دور نہیں ہو پاتے۔

یہی کچھ حال شیخ چلی کا ہے جن کے کردار کی اہمیت اور قبولیت کا یہ عالم ہے کہ وہ ہماری زندگی میں محاورے کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔ جس طرح حاتم طائی، سخاوت، نوشیرواں، عدل اور رستم، بہادری کی علامت ہے، اسی طرح شیخ چلی کا نام کچھ ایسا زبان زد عام ہے کہ یہی دو لفظ، اس ایک نام کا مکمل تعارف بن چکا ہے اور اس سے آگے مزید وضاحت، سراسر اضافی دکھائی دیتی ہے!

ایسا اس لئے ہے کہ ان کی شخصی شناخت کچھ بھی ہو، وہ اپنی شخصیت کے عمومی تاثر کے برعکس خود کو، بذات خود کیا سمجھتے ہیں، تنقید کا تقاضا ہے کہ اسے زیادہ اہمیت اور فوقیت دی جائے۔

شیخ چلی کے کردار کے اوصاف کا جائزہ، ( دیانتداری کے ساتھ ) اگر ان ہی کی نگاہ سے لیا جائے تو وہ مختلف کہانیوں میں اپنی جن خصوصیات پر مان کرتے نظر آتے ہیں ان میں ان کی منفرد دانائی، جامع منصوبہ سازی اور زبردست معاملہ فہمی نمایاں ترین کہی جا سکتی ہیں۔

کمال کے ان تین کر داری جوہر کے ساتھ، یہ ان کا بجا طور پر حق بنتا ہے کہ کسی بھی ذمہ داری کے لئے خود کو تیار پائیں، کسی بھی مہم جوئی ( یا طالع آزمائی ) کے لئے خود کو پیش کر دیں، اور کسی بھی جانے یا ان جانے فرض کو خود پر سوار کر لیں۔

ان تمام جرات مندانہ اور دلیرانہ فیصلوں کے منطقی انجام سے باخبر ہوتے ہوئے، ان جیسی صورت حال کے لئے خود کو بار بار خوش دلی سے پیش کرنا ہی، ان کی وہ حکمت عملی ہے جس کی بہ دولت ان کا نام ادب میں، اور بہت سے دوسرے تسلیم شدہ کرداروں کی موجودگی کے باوجود، انفرادیت کا حامل ہے۔

آئیں ان کے ایک شہرہ آفاق قصے میں، ان کے ذہن کی برق رفتار
اڑان کا ساتھ دینے کی کوشش کریں۔

کسی دن (شاید اپنے حلیے کے سبب ) ایک اجنبی کا سامان اس کے گھر تک پہنچانے پر خود کو آمادہ کر بیٹھے۔ اس سامان میں سب سے اہم اور قیمتی چیز گھی کا ایک کنستر تھا جس نے اس سفر میں ان کے تخلیقی ذہن کو خوب مہمیز کیا۔

سفر شاید اتنا تیز نہ ہو جس قدر تیز ان کے خیالوں میں جنم لینے والے ان کے منصوبے تھے۔ اپنی ممکنہ اور متوقع آمدنی سے انھوں نے ایک مرغی خریدنے کا عزم کیا۔

اس مرغی سے متواتر جمع ہونے والے انڈوں کو اولاً جمع کرنے اور ثانیاً فروخت کر کے ایک بکری لانے کا طے ہوا۔

بکری کے بچوں کو بڑا کر کے ان کے عوض گائے، گھر میں بندھی دیکھی۔

گائے کے دودھ کا کاروبار ایسا چمکا کہ خوش حال اور امیر لوگوں میں شامل ہو گئے، مگر ساتھ ہی کفایت شعاری اور برد باری کی خاطر یہ ارادہ باندھا کہ بیٹے نے مٹھائی کے لئے اگر ایک کی بجائے پچاس روپے مانگے تو اسے لات مار کر یاد دلاؤں گا، آخر کل بھی تو سو روپے دیے تھے ”یہ تصوراتی لات بیٹے کو تو نہ لگی مگر کنستر کاندھوں سے زمین پر آ رہا۔

نہیں معلوم کنستر اور کنستر کے اندر موجود گھی، بکھر کر کس حال کو پہنچا، ہاں ان کے خواب سارے، چکنا چور ضرور ہوئے۔

تاہم اس تہہ دار منصوبہ بندی کے لئے، نتائج سے قطع نظر، ان کی تخلیقی صلاحیتوں سے نظریں چرانا سرا سر حقدار کی حق تلفی ہو گی۔ اس تیزی اور تسلسل سے بھلا کون اتنی دور رس طبع آزمائی کر سکتا ہے۔ کون ہے جو اپنے ذہن کے کارخانے میں جنم لینے والے، اتنے نادیدہ امکانات کو اتنے یقین کے ساتھ اپنی منطق سے جوڑتا چلا جائے اور اس پر طرہ یہ کہ وہ اسے حقیقت کا روپ ہوتا دیکھنے کے لئے، انتہا درجہ خوش فہم اور خوش گمان بھی ہو۔

شیخ چلی کے لئے ان کے زرخیز اور ہمہ وقت متحرک ذہن کے سامنے، دنیا بھر کے سارے مشاہدے، تجربے اور کتابوں سے حاصل شدہ علم، بے معنی کہانیاں اور گھڑی ہوئی داستانیں تھیں اس لئے انھوں نے ہمیشہ اپنے ذہن میں پھدپھدانے والے تخیلات پر بھروسا کیا اور ان تخیلات سے برپا ہونے والے انجام سے سبق حاصل نہ کر کے، ہر بار ایک اور ایسے ہی انجام کو دعوت دینے کو ترجیح دی۔

خوداعتمادی کی یہ انتہا تب دیکھنے کو ملتی ہے جب ایک کہانی میں شیخ چلی کو ایک درخت کے اوپر بیٹھا دکھایا گیا ہے۔ درخت پر چڑھنا تو معمول کا عمل کہا جا سکتا ہے مگر اس درخت پر وہ جو غیر معمولی کام کر رہے تھے، وہ ان ہی کا کارنامہ کہا جا سکتا ہے۔ اسے ان کے طرز عمل ( اور طرز فکر ) کا نچوڑ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ درخت کے جس شاخ پر بیٹھے ہیں، انجام کار سے بے خبر، اسے ہی پوری توجہ اور یکسوئی کے ساتھ آری سے کاٹ رہے ہیں۔

اسی سادہ لوحی اور حقیقت سے چشم پوشی کو ادب میں شیخ چلی کا نام دیا گیا ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments