یہ غازی، یہ تیرے پراسرار بندے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اے ارض پاک تیری آزادی کو قائم رکھنے کی خاطر، تیرے الم کی سر بلندی کے لیے تیری اک اک آواز پہ نا جانے کتنے سپوتوں نے اپنے لہو کے نذرانے پیش کیے اور لاکھوں سر پہ کفن باندھے آج بھی سر حد پہ دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار ہیں۔

چلتا ہے خنجر تو چلے میری رگوں پر
خودی بیچ کے اپنی میں کبھی جھک نہیں سکتا
مٹنے کو تو یہ دنیا بھی مٹ سکتی ہے لیکن
تاریخ کے اوراق سے میں مٹ نہیں سکتا ⁦

یہ سر زمین وطن کے بہادر بیٹے افواج پاکستان کے دلیر جوان ہیں جن کے لیے اس وطن عزیز کی مٹی ہی سب کچھ ہے۔ جو اس سوہنی دھرتی کو ماں کا درجہ دیتے ہیں۔ جن کا سونا، جاگنا، اوڑھنا، بچھونا سب اس مٹی کے ساتھ ہے

اے ارض وطن تیرا ذرہ ذرہ گواہ ہے کہ جب جب دشمن کی ناپاک نظروں نے تیری طرف دیکھنے کی جسارت کی تیرے بیٹوں نے تب تب تیری پکار پہ لبیک کہا۔ کیسے بے ضمیر لوگ ہیں جو آج اسی دشمن سے سے دوستی نبھاتے ہوئے افواج پاکستان کے خلاف شعلہ بیانی کرتے ہیں کہ جس دشمن نے 1947 میں نہتے مسلمانوں کا خون بہایا، وہ دشمن جس نے 1948 میں کشمیر پہ غاصبانہ قبضہ جمایا۔ اور وہ وقت کیسے بھول جاتے ہیں جب ٹینکوں کے نشے میں چور وہ ذلیل دشمن 1965 میں لاہور میں ناشتے کا خواب لیے ارض مقدس کی جانب بڑھا تو ہر محاذ پہ اس کا ٹکراؤ پاک فوج کے ان جری اور بہادر جوانوں سے ہوا جن کے لیے اولین اجر شہادت ہے، جن کے لیے زندگی وطن پہ قربان ہونے کا نام ہے۔

افواج پاکستان کے جوان ہی ہیں جنہوں نے زندگی کی رعنائیوں کو خود پہ حرام کر کے سر پہ کفن باندھے دشمن کے ہر وار کا کاری جواب دیا۔ برکی کے مقام پہ وطن سے وفا کی بھٹی میں جلتا عزیز بھٹی اسی فوج کا حصہ تھا جو دشمن کے ٹینکوں کہ سامنے لیٹ کے وطن پہ کیا جانے والا ہر حملہ سہتا ہے لیکن اف نہی کرتا۔ دشمن کو داد اور افواج پاکستان کو گالی دینے والو، وہ ایم ایم عالم اسی پاک فوج کا شاہین تھا جس نے سیکنڈوں میں دشمن کے طیارے گرا کر سرزمین عالی شان کو دشمن کے ناپاک ارادوں سے محفوظ کیا۔

افواج پاکستان، دھرتی کے وہ بیٹے جو آرام دہ بستروں کے بجائے دشمن کے ٹینکوں کے سامنے لیٹنے کو ترجیح دیتے ہیں، جو پہاڑوں اور سمندروں کے ساتھ ساتھ دشمن کے سینے کو بھی چیرتے ہوئے نکل جاتا ہے۔ یہ وہ عظیم ستارے ہیں جو ہمارے روشن کل کے لیے اپنا آج تاریک کیے پھرتے ہیں۔ زندگی کسے پیاری نہی ہوتی؟ لیکن یہ ظرف صرف میری فوج کے جوانوں کا ہے جو وطن کی آن، بان اور شان کو زندگی سے زیادہ عزیز جانتے ہیں، جو اپنی سہاگن کو چھوڑ کہ دوسروں کے سہاگ بچانے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔

جو میرے وطن پہ اور اس کے پہرے داروں پہ، میری افواج کے خلاف الفاظ کہ نشتر چلاتے ہیں کیا وہ ایک دن سرحد پہ گزار سکتے ہیں؟ کیا بستر شاہی چھوڑ کر کسی جنگل میں، توپوں کی گھن گرج اور بارود میں گھلی موت کی مہک کے ساتھ رات بسر کر سکتے ہیں؟ نہیں بالکل نہیں یہ وطن عزیز کے سپوتوں کا ہی حوصلہ ہے جو اپنے لخت جگر کو یتیمی میں دھکیل کر کروڑوں بچوں کے سر پہ ان کے والدین کا سایہ قائم و دائم رکھتے ہیں۔

یہ فوجی جوان ہی ہیں جو کبھی شہادت کے لہو سے سر زمین وطن کو سیراب کرتے ہیں تو کبھی غازی کے جنون سے دشمن پہ ہیبت طاری کرتے ہیں۔ افواج پاکستان ہی ہیں جن کی بدولت آج پاکستان امن کا گہوارہ ہے۔

وطن کے ان بیٹوں نے جس بہادری اور دلیری سے دہشت گردی کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کیا ہے اور کس قدر جان کے نذرانے پیش کیے ہیں وہ سنہری حروف سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔

قیام پاکستان سے لے کر اب تک پاک فوج نے لازوال قربانیاں دی ہیں۔ آج پاکستانی فوج کا شمار دنیا کی دس بہترین افواج میں ہوتا ہے۔ پاکستانی افواج کی دہشت ہے کہ بڑے بڑے جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک بھی پاکستان کی طرف نگاہ غلط سے دیکھنے کی جرات نہیں کر پاتے۔ نہ صرف سرحدوں پہ بلکہ ملک کے کونے کونے میں پاکستانی فوج کے جوان اپنا فرض نبھاتے نظر آتے ہیں۔

سیلاب ہو یا طوفان، زلزلہ ہو ہا کوئی اور قدرتی آفات پاک فوج خدمت انسانیت کے جذبے سے سرشار ہمہ وقت تیار رہتی ہے۔

عوام پاکستان اور افواج پاکستان کا محبت کا وہ لازوال رشتہ ہے کہ اندرونی و بیرونی ہرزہ سراؤں کی لاکھ کوششیں بھی اس رشتے کو زوال پذیر نہیں کر سکتی

افواج وطن کے بہادر سپوتوں کو سلام
سرزمین وطن کے مجاہدوں کو سلام


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

فضیلت اجالہ کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments