مصنوعی سہاروں سے معیشت نہیں چل سکتی


نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم کا فرار یا الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا استعمال اس وقت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ نہیں بلکہ اصل مسئلہ مہنگائی اور بیروزگاری ہے۔ ڈالر کی قیمت اس وقت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے جس سے آنے والے دنوں میں مہنگائی کے مزید بد ترین طوفان کا خدشہ ہے۔ بڑی حد تک یہ بات درست ہے کہ ہمارے ہاں ڈالر کی قیمت میں حالیہ اضافہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے فوراً بعد شروع ہوا تھا۔

کوئی شبہ نہیں کہ اس اضافے کی ایک وجہ یہ ہے کہ افغانستان کی معیشت کا تمام تر انحصار بیرونی امداد پر ہے۔ غیر ملکی افواج کے انخلا سے قبل تک افغانستان کے نو ارب ڈالرز کے زرمبادلہ کے ذخائر امریکی بینکوں میں پڑے تھے جو امریکا نے طالبان کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا جس کے بعد لین دین اور روزمرہ کے معاملات چلانے کے لیے افغانستان میں ڈالرز کی قلت پیدا ہو گئی۔ اب اطلاعات کے مطابق یہ قلت پوری کرنے کے لیے پاکستان سے روزانہ کی بنیاد پر پانچ ملین ڈالرز افغانستان اسمگل کیے جا رہے ہیں۔

حکومت کو چاہیے کہ ڈالرز کی اسمگلنگ روکنے اور اس کی قیمت کنٹرول کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے کیونکہ ڈالر کی قیمت میں اضافے سے روزمرہ استعمال کی ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے اور اس کا اثر براہ راست غریب آدمی کی زندگی پر پڑتا ہے۔ لیکن ڈالرز کی افغانستان اسمگلنگ ہی روپے کی قدر میں کمی کا واحد سبب نہیں بلکہ گزشتہ چند مہینوں میں بڑھنے والا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ روپے کی بے قدری کی اصل وجہ ہے اور حکومت کو فی الفور اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی لانے کے لیے طویل مدت تک برآمدات میں اضافے کی کوشش کرنا ہوگی اور اس حوالے سے حکومت کو اپنی اس غلطی کو دہرانے سے گریز کرنا ہو گا جس کی وجہ سے ملکی معاشی شرح نمو منفی سطح تک گر گئی تھی۔ بلا شبہ پچھلے حکومتی ادوار میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جتنا بڑھ چکا تھا اس میں کمی لانا نا گزیر تھا لیکن اس میں کمی کے لیے حکومت کو برآمدات میں اضافے کی کوشش کرنی چاہیے تھی۔ اس کے برعکس حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی بغیر سوچے سمجھے ہر قسم کی درآمدات میں کمی کر دی۔

کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی لانے کے نام پر ترقیاتی منصوبوں میں استعمال ہونے والی مشنری کی درآمد بھی مکمل روک دی جس کے نتیجے میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں عارضی طور پر کمی تو آ گئی لیکن اس حکمت عملی سے ترقیاتی منصوبوں پر بھی اثر ہوا اور ملک میں بیروزگاری میں اضافہ ہو گیا۔ یہ صورتحال حکومتی معاشی ٹیم کے لیے قابل غور ہونی چاہیے تھی اور اس کے ازالے کی کوشش لازم تھی۔ اس کے برعکس مگر حکومت نے برآمدات میں اضافے کی بالکل کوشش نہیں کی اور تمام تر انحصار ترسیلات زر اور درآمدات میں وقتی اور مصنوعی کمی پر رکھ کر ڈھنڈورا پیٹتی رہی کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر قابو پا لیا گیا ہے جس کا معیشت کو فائدہ ہونے کے بجائے الٹا ملک میں بیروزگاری بڑھ گئی۔ میں سمجھتا ہوں پچھلی ششماہی میں ترسیلات زر میں یکایک اضافے کی بنیاد بھی کوئی حکومتی پالیسی نہیں بلکہ کووڈ 19 کی وجہ سے ملازمتوں سے فارغ ہونے والے ہم وطنوں کی طرف سے جمع پونجی کی منتقلی تھا۔

حکومت کو اب ادراک ہو جانا چاہیے کہ جب تک روزگار کے نئے مواقع پیدا نہیں ہوں گے عوام کی مشکلات میں کمی نہیں آ سکتی۔ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے ترقیاتی منصوبے نہایت ضروری ہیں اور موجودہ حالات میں ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کے لیے حکومت کو اپنے غیر ضروری اخراجات میں بھی کمی کرنا ہوگی۔

حکومت کے لیے سب سے بڑا درد سر بجلی کا شعبہ ہے جس کا گردشی قرض ہر سال خطیر رقم نگل جاتا ہے پھر بھی اس کا پیٹ نہیں بھرتا۔ چند ماہ قبل آئی پی پیز سے متعلق ایک رپورٹ کا بڑا چرچا تھا جس کے مطابق بجلی بنانے کی نجی کمپنیوں سے ایسے معاہدے کیے گئے جنہوں نے وفاقی حکومت کے ہاتھ باندھ رکھے ہیں اور وہ مہنگی بجلی خریدنے کی پابند ہے۔ اس پر مستزاد ملک میں بجلی کی بڑے پیمانے پر چوری چکاری ہے جس کی قیمت ایمانداری سے بل دینے والوں اور حکومت کو ادا کرنا پڑتی ہے۔ گزشتہ آٹھ برسوں میں حکومت بجلی خریدنے کے لیے قومی خزانہ سے تقریباً سوا دو ہزار ارب روپے خرچ کر چکی ہے۔ اس کے باوجود اس وقت بجلی کا گردشی قرض ڈھائی ہزار ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ جب تک حکومت اس مسئلے کا کوئی حل نہیں نکالتی آمدن اور اخراجات میں توازن لانا ممکن نہیں۔

غیر ترقیاتی اخراجات کم کرنے کے لیے طویل مدتی، سخت فیصلوں کی ضرورت ہے اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہ کرنے جیسا غیر مقبول فیصلہ کرنا پڑے گا۔ اس وقت وفاقی اور صوبائی ملازمین کی تعداد تقریباً تیس لاکھ ہے اور پچیس لاکھ سے زائد ریٹائرڈ ملازمین ہیں جو پنشن وصول کرتے ہیں۔ سرکاری ملازمین کی تعداد کو کم کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس سے نصف تعداد بھی کار مملکت بخوبی انجام دے سکتی ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو ملازمتوں سے محروم کرنا لیکن مشکل فیصلہ ہو گا۔

حکومت نے اسٹیل مل کے 10 ہزار ملازم گولڈن شیک ہینڈ دے کر فارغ کرنے کا اعلان کیا تھا جس پر کتنا شور شرابا ہوا۔ حالانکہ یہ ملازمین گزشتہ پانچ سال سے گھر بیٹھے ٹیکس دہندگان کی خون پسینے کی کمائی سے عیش کر رہے تھے۔ اب تک قومی خزانہ سے اسٹیل مل کے نقصان کو پورا کرنے پر سینکڑوں ارب خرچ کیے جا چکے ہیں اور یہی حال پی آئی اے، ریلوے اور دیگر سرکاری اداروں کا ہے جو ہر سال قومی خزانہ سے کئی سو ارب ہڑپ کر جاتے ہیں۔

خسارے میں چلنے والے ایسے تمام اداروں کی نجکاری فی الفور ضروری ہے۔ کوئی حکومت لیکن ایسے فیصلے نہیں کر پاتی کیونکہ اپوزیشن وقتی مفاد کی خاطر اسے سیاسی ایشو بنا لیتی ہے جیسے خود تحریک انصاف نے پچھلے دور حکومت میں کیا۔ ہر حکومت ڈرتی ہے کہ احتجاج اور ہنگامہ آرائی ہوئی تو امن و امان کا مسئلہ بنے گا جو اقتدار کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اسی طرح حکومت کو آمدن میں اضافے کے لیے ٹیکس کے نظام کو عام فہم بنانے اس میں اصلاحات اور اس کا دائرہ وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔ یقیناً تاجر برادری اور پراپرٹی مافیا اس میں مزاحم ہوگی مگر ان معاملات پر دلیرانہ فیصلے اور اقدامات کیے بغیر ملکی معیشت کو پٹری پر نہیں ڈالا جا سکتا اور آج نہیں تو کل یہ کام کرنا ہو گا۔ قرض، ترسیلات زر کے سہارے یا درآمدات میں مصنوعی کمی کے ذریعے ملک کو طویل عرصہ تک نہیں چلایا جا سکتا۔

Facebook Comments HS