مایوس مت ہوں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہو سکتا ہے کہ یہ تحریر یا جو بھی کہیں آپ کو عجیب، بے کار و لا یعنی لگے لیکن کیا کروں جب سے یہ واقعہ سنا اور خبروں میں، سوشل میڈیا پر اس متعلق ویڈیوز دیکھیں تو کچھ عجیب کیفیات کا ورود ہوا۔ لوگ اپنے اپنے تعصبات کی عینک لگا کر اس واقعے کی منظر کشی کر رہے ہیں۔ وہاں جو کچھ بھی ہوا، اس کے پس پردہ جو بھی محرکات تھے ان سب کو یکسر ایک طرف کر کے میری اٹکل کی سوئی ”ریمبو“ پر اڑی ہوئی تھی اور وہ تمام ویڈیوز جن میں ریمبو اس ٹک ٹاکر حسینہ کو کبھی جھولی میں اٹھا کر گھماتا ہے کبھی اس کی کمر میں بانہیں ڈال کر چلتا دکھائی دیتا ہے۔

یہاں ایک بات تو واضح ہے کہ ریمبو یہ سب زبردستی تو نہیں کر رہا تھا بلکہ حسینہ کے بھرپور کانسینٹ ( رضامندی) سے کر رہا تھا کیونکہ ٹک ٹاک ویڈیوز اپنی مرضی سے ہی بنائی جاتی ہیں نہ کہ زبردستی سے۔ ان کی کچھ وڈیوز میں وہ پہاڑی علاقوں میں بھی دکھائی دیتے ہیں واللہ اعلم کہ وہ مری، نتھیا گلی کا ایریا ہے یا شمالی علاقہ جات کا ، خیر یعنی وہ دونوں ساتھ میں دور دور کے شہروں میں بھی اکٹھے گھومتے پھرتے ہیں۔ کس ناتے سے؟

ظاہر ہے دوست کے ناتے سے اور وہ بھی ایسی دوستی جسے ان کے تمام فالوورز جانتے ہیں اور سمجھنے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔ یہ بات الگ ہے کہ عائشہ اس دوستی کو جسٹیفائی کرتے ہوئے ریمبو کو اپنا بھائی کہتی ہیں۔ ایسا بھائی جس کے ساتھ وہ ”کپل شوٹ“ بھی کرتی ہیں۔ میں اس طرح کے معاملات پر قلم کشائی نہیں کرتا کیونکہ سماج اس طرح کے حادثات و واقعات سے بھرا پڑا ہے۔ اس تحریر کا واحد مقصد عائشہ اکرم، ان کے ریمبو سے تعلقات اور اس تمام صورتحال کو ایک الگ تناظر میں دیکھنا ہے۔

دوستو عموماً ایک خوبصورت لڑکی کبھی بھی یہ نہیں چاہتی کہ اس کا خاوند یا بوائے فرینڈ ان پڑھ، بے روزگار، کالا، دبلا اور پینڈو ہو بلکہ وہ اپنے ساتھی، دوست یا پارٹنر میں مذکورہ صفات کا متضاد چاہتی ہے۔ جبکہ اس کیس میں سب آپ کے سامنے ہے کہ ریمبو بے چارہ کتنے پانی میں ہے لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ عائشہ اکرم ریمبو کو جو پہلے سے شادی شدہ اور دو بچوں کا باپ ہے، اس کے ”ٹیلنٹ“ کو اتنی اہمیت دیتی ہے کہ مجھے تو حیرت ہوتی ہے۔ مجھے تو اس کے سوا ریمبو میں میں کوئی ٹیلنٹ دکھائی نہیں دیا کہ وہ دبلا پتلا سا ہو کر بھی عائشہ اکرم جیسی صحتمند اور موٹی لڑکی کو بازؤوں میں اٹھا کر گھما لیتا ہے۔ ہو سکتا ہے یہی وہ وجہ ہو جس کی وجہ سے عائشہ اکرم ریمبو کے اس زبردست ٹیلنٹ کی معترف ہے۔

دوستو پچھلے دنوں ایک مشاعرے میں ایک دوست شاعر نے ایک غزل پڑھی جس کا ایک شعر یاد آ رہا ہے کہ

یہ جملہ سانولی کی جاں لے بیٹھا ہے
زمیں زادے فقط شہزادیوں پہ مرتے ہیں

پتا نہیں وہ کون سی سانولیاں ہیں جن کو ریمبو بھی گھاس نہیں ڈالتے ہوں گے اور وہ بے چاری شہزادوں کی تمنا کیا کریں۔ بہرحال اس تمام واقعے سے ایک بات تو کھل کر سامنے آئی ہے کہ عورت کا دل کسی پر بھی آ سکتا ہے اس کے لیے کوئی خاص صفات کا حامل ہونا ضروری نہیں بس کوئی ایک ٹیلنٹ ہی ہو تو کافی ہوتا ہے اور ٹیلنٹ کا ذکر میں مذکورہ سطور میں کر چکا ہوں۔ دوستو عائشہ اکرم اس تمام ریمبوز کے لیے پیام روشن ہے جو بیچارے خود کو نا امیدی کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبتا محسوس کرتے ہیں، وہ ان تمام جوانوں کے لیے امید کی ایک روشن کرن ہے جو بیچارے اس شعر کی سی کیفیت سے دوچار رہتے ہیں۔

کسی حسین تعلق کا خواب کیوں دیکھوں
میں بد نما ہوں مجھے آئینہ دکھاتی رہو

میرے جوانو اور نو جوانو آپ نے سب سے پہلے گھبرانا نہیں ہے آپ کو کسی گاڑی، دولت، حسن، باڈی، جائیداد، بنگلے، پڑھائی کی ضرورت نہیں اس سماج میں آپ کے لیے بھی کوئی عائشہ اکرم ضرور موجود ہوگی جو آپ کا انتظار کر رہی ہے کہ کب آپ اس کو اپنے کالے، پتلے، مریل بازؤوں میں اٹھا کر گھمائیں گے اور وہ آپ پر اپنی ساری وفائیں اور حسن لٹا دے گی۔ مایوس مت ہوں

میرے خیال میں اس شعر کے ساتھ اس بے کار تحریر کا اختتام کیا جائے۔
وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments