غریب کون لوگ ہوتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جن احباب کا دیہاتی بیک گراؤنڈ ہے ان کو تو یاد ہو گا جب ایک گھر میں کچھ پكتا تھا تو وہ دوسروں کے گھروں میں بھیج دیتے تھے۔ زیادہ نہیں تو ایک، دو گھروں میں ضرور دیتے تھے۔

چھوٹی لڑکیاں یا لڑکے یا کبھی کبھار کوئی نوجوان یا بزرگ ہاتھ میں پلیٹ کے اوپر پلیٹ رکھ کر آتے جاتے نظر آتے تھے در اصل وہ کچھ کھانا دینے جا رہے ہوتے تھے یا کسی کے کہنے پر کچھ لے کر جا رہے ہوتے تھے۔ جب کسی گھر میں کوئی چھوٹا بچہ یا بچی نہیں ہوتی تھی اور خاتون خانہ بھی کام کاج میں مصروفیت کی وجہ سے گھر سے نہیں نکل پاتی تھی تو پیغام بھجوا دیا جاتا کہ بابا خود لے جانا۔

 یہ منظر اکثر مغرب کے وقت نظر آتا تھا۔

 یہ جو ایک دوسرے کے ساتھ کھانا بانٹ رہے ہوتے تھے کیا پورے سالن کی دیگچی یا پلاؤ کا دیگچا ایک دوسرے کو دان رہے ہوتے تھے؟

نہیں بھائی کوئی سارا کا سارا پکا ہوا کھانا اٹھا کر نہیں دے دیتا تھا، بس ایک پلیٹ چاول یا ایک کٹوری سالن کی جس میں شوربہ اور دو یا زیادہ سے زیادہ تین بوٹیاں ہوتی تھیں۔ کہیں دال اور سبزی بھی بنی ہوتی تو دے دی جاتی تھی.

کسی کے گھر میں کوئی موسمی پھل تھوڑی زیادہ مقدار میں آ گیا تو اس نے اپنے قریبی عزیز و اقارب کے گھروں میں کچھ پھل بھیج دیے آم، تربوز، کھجور یا جو بھی ہوتا۔

یہ سین دیہاتوں اور شہری محلوں میں جہاں گھر چھوٹے اور گلیاں تنگ ہیں وہاں اب بھی نظر آ تے ہیں لیکن بڑی بڑی سوسائٹیوں میں ایسا ہوتا ہے؟ فدوی کی اس بارے میں کوئی رائے نہیں ہے۔

 ایک بات اور، خیرات گھر گھر دینا اور چیز ہے اور اپنی ہانڈی سے حصہ دینا اور چیز۔

اسی طرح سے جس ہوسٹل میں یا مکان پر ہم رہ رہے ہوتے ہیں تو ہمیں کچھ ہی دنوں میں اندازہ ہو جاتا ہے کہ کون مل بیٹھ کے کھانے والا، ایک دوسرے کی چیز استعمال کرنے والا ہے اور کون دوسروں کے ساتھ شیئر نہیں کرنا چاہتا۔

 ان میں سے کچھ مزاجاً الگ تهلگ رہنے کے عادی ہوتے ہیں اور کچھ ایسے ہوتے ہیں ان کے ساتھ کھانے بیٹھ گئے یا کچھ ضرورت کی چیز مانگ لی تو صاحب کا مزاج بگڑ جائے۔

اس لئے شعوری یا غیر شعوری طور پر ہم نے ان معاملات سے دور دور رہنے کا فیصلہ کر لیا ہوتا ہے۔

ہو سکتا ہے کوئی میرے بارے میں ایسا فیصلہ کیے ہوئے ہو۔

اسی طرح سوشل میڈیا پر ہم کئی تصویریں بھی دیکھ چکے ہیں۔ ایک فیملی کسی بڑے ہوٹل پر بیٹھی کھانا کھا رہی ہے اور تھوڑی دور ان کے گھر میں کام کرنے والی بچی منہ دوسری طرف کیے بیٹھی ہوتی ہے "بظاہر امیر” گھرانے والوں نے اسے اپنے ساتھ کھانے میں شامل نہیں کیا ہوتا۔

اسی طرح سے کچھ بڑے گھر ایسے بھی دیکھے اور سنے کہ باہر تو کسی کو کیا کھلانا، گھر کے ملازم بھی بمشکل کلمہ خیر کہہ پائیں۔

اب اس مارکیٹ چلتے ہیں جہاں آپ کا اٹھنا بیٹھنا اور کھانا زیادہ ہوتا ہے اور آپ کی اپنی زندگی کے اس حصے کی اپنے یاروں دوستوں کے ساتھ بہترین یادیں بھی اس مارکیٹ کی کسی چائے کی دکان یا کھانے کے ہوٹل سے وابستہ ہوتی ہیں۔

وہاں پر آپ کی ان لوگوں سے جو وہاں اکثر آتے رہتے ہیں ساتھ میں چائے والے سے ہوٹل والے سے یا یہاں کام کرنے والے ورکروں سے اچھی سلام دعا ہو جاتی ہے اور آتے جاتے ہنسی مذاق بھی ہو جاتا ہے۔

کسی دن آپ نہ جائیں تو وہ اگلے دن پوچھتے ہیں کہ سر کہاں غائب تھے، گھر گئے ہوئے تھے وغیرہ

اسی طرح ہم بھی ڈھابے والے سے پوچھ رہے ہوتے کہ عمر دراز نظر نہیں آ رہا خیر تو ہے؟

یہاں بھی ایسے لوگ اور ورکر ملتے ہیں جنہوں نے گھر کے لئے کھانا لے کر رکھا ہوتا ہے یا کسی جگہ سے کچھ ملا تو وہ بھی رکھ لیا لیکن آپ کو دیکھ کر وہ فورا ً آپ کے سامنے کھانا لا کر رکھ دیتے ہیں یا ضد نہ سہی، تو بار بار کہتے ضرور ہے تھوڑا سا کھا لیں، ٹیسٹ تو کریں۔

 بظاہر غریب نظر آنے والے یہ لوگ دل سے بہت امیر ہوتے ہیں دوسروں کے ساتھ اپنے حصے شیئر کرنا جانتے ہیں۔

جب سے ان استادوں کو دیکھا ہے بہت سیکھنے کی کوشش کی ہے ساتھ میں امیری اور غریبی کے بارے میں ذہن بھی تبدیل ہوا ہے

ہم سنتے ہیں کہ فلاں غریب ہے یا ہم خود بھی کہہ رہے ہوتے ہیں، لوگ تو اچھے ہیں بس غریب ہیں اور حکومتوں نے بھی غریب غریب کی رٹ لگائی ہوتی کہ اتنے لوگ "خط غربت” سے نیچے آ گئے یا اوپر آ گئے۔

ہمارا اور حکومتوں کا لوگوں کی امیری غریبی کو جانچنے کا پیمانہ ان کی آمدنی ہوتی ہے یا ظاہری رہن سہن ہوتا ہے کہ کس کے پاس اپنا گھر ہے، کون خانہ بدوش ہے یا کرائے کے مکان کا مکین ہے

جنہیں ہم غریب غریب کہہ رہے ہوتے ہیں در اصل وہ low income لوگ ہوتے ہیں۔

جس طرح ہر "امیر” کھلے دل کا مالک نہیں ہوتا، اسی طرح ہر کم آمدن والا شخص دل سے غریب نہیں ہوتا۔

آپ کا خیال اس سے مختلف ہو سکتا ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر اعجاز الدین (see all)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ڈاکٹر اعجاز الدین کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments