یہ جو تیرے دل میں اک گھر ہے میرا


دل اپنا بھی تنگ ہوا کرتا تھا ۔ نیت خراب اور سوچ کمینی ہی تھی ۔سمجھ پوری سی تھی اور اب بھی ویسی ہی ہے ۔ لوگوں کو خانوں میں تقسیم کر کے دیکھنا ۔ مذہب فرقہ رنگ نسل یہ سب تب میٹر کرتے تھے ۔ شائد اس لیے بھی کہ یہ سب سننا سہنا بھی پڑا ۔ اپنی تب نہ اوقات تھی نہ عمر ۔

کھیلنے کے لیے جاتا کٹ کھا کر آ جاتا ۔ پوری بات تو بتانا مشکل ہے لیکن آپ اسی پر گزارہ کریں کہ کٹ پڑتے یہ سننا پڑتا کہ اس کا رنگ کالا ہے مارو ۔ کچھ اور بھی جملے ہوتے تھے ، سنے اور سہے ۔ اب سنوں تو ہنسی آتی ہے ۔ یہ ہنسی بھی جلدی آنے لگ گئی تھی ۔

ہوا یہ کہ دوست بدل گئے ۔ جیسے آسمان سے برسا دیے ہوں مالک نے ۔ بہت سے شنواری آفریدی دوست ہمارے ارد گرد رہنے آ گئے ۔ سکول میں افغانی بچوں نے داخلہ لے لیا جو کابل سے مہاجر ہو کر آئے تھے ۔ ہمارے نگران بھی عبدالخالق آفریدی تھے اور ابا کے دوست ایک محسود ملک ۔

اس کے بعد کی کہانی مختصر ہے ۔ وہی مشر کی ہمسائے میں آمد ۔ اس کے درجنوں کزنوں کے ہمراہ اپنا گھومنا پھرتا مٹر گشت اور شہر کی شکل ماحول اور پوزیشن سب کا بدل جانا، پشاور کا اپنا ہو جانا اور خود اس کا ہو جانا ۔ ہم چھوٹے موٹے ڈان ہی تھے سارے۔

یہ ڈان ایک دوسرے کو گندے گندے ناموں سے پکارتے ۔ رنگ نسل سوچ کے حوالے سے جو تھکڑ بات یا نام ذہن میں آتا ہے وہ آپ سوچ لیں ۔ اس میں بتانے کے قابل ایک ہی نام کالا یا طور ہے ۔ ہمارے ہاں سکول اور گھر ایک ہی جوان صفائی کرنے آتا تھا ۔ اس کے جھاڑو کو ہم بندوق کہتے تھے اور اسے چودھری ۔ ساتھ بیٹھ کر وہ چائے پی لیتا سگریٹ پی لیتا یا نسوار کا پوچھ لیتا ۔ اس کی بجائے اس کے جھاڑو یعنی بندوق سے دور رہتے تھے یا بچتے تھے ۔ اسے کہتے چودھری پہلے بندوق سائڈ پر رکھ پھر نزدیک آنا۔

اس چودھری کا جو دل چاہتا ہمیں یعنی سارے ڈان صاحبان کو  سنا لیتا ہم سن لیتے کہ ڈان پھر ایسے ہی ہوتے ہیں ۔

یہ سارے ڈان روز سکولے جاتے تو سر میسی کے ہتھے چڑھ جاتے ۔ ڈنڈے کھاتے ، سر سب سے ایک سا حسن سلوک کرتے ۔ اس میں نہ لڑکے لڑکی کا فرق تھا نہ امیر غریب کا نہ پشوری آفریدی شنواری افغانی کا ۔ سر کا موڈ اور ہماری حرکت پر منحصر ہوتا تھا ۔ حرکت ہم کرتے برکت سر ڈالتے اور ڈنڈا پھر ساری کلاس کا حال احوال کرتا  ۔ کھڑپینچ نے اک بار مسلمان کافر کا فرق بتاتی اپنی تحقیق بیان کرتے ہوئے کچھ کہا تھا ۔

وہی دن تھا جب سر نے ہماری اسلامیات کی کلاس بھی اضافی طور پر خود ہی لینی شروع کر دی ۔ ان کا ماننا تھا کہ اگر ہماری دینیات کی تعلیم میں کوئی کسر رہ گئی تو وہ کیا منہ دکھائیں گے ۔ پتہ نہیں یہ منہ انہوں نے کسے دکھانا تھا ۔ ہمیں انہوں نے بہت کچھ یاد کرا دیا ۔

کلاس کیا ہوتی تھی پندرہ منٹ میں دو سورت یاد کرو ۔ کون کرے ؟ سارا دن سارا ہفتہ تب تک کٹ کھاتے جب تک یاد نہیں ہوتی تھیں ۔ یاد ہو جاتیں تو نئی یاد کرنے کو مل جاتیں ۔ ہم کھڑپینچ کو بس داد ہی سکتے تھے، دیا کرتے کہ کفر اسلام کی باتیں بھی وہی کرتا تھا ۔

ملٹی کلچر سا سکول کا ماحول تھا ۔ پشتو دری ہندکو پنجابی بولنے والے سب ہی تھے ۔ پڑھانے والے بھی ہر طرح کے لوگ تھے کبھی کبھار کوئی غیر ملکی گورا بھی پڑھانے لگ جاتا تھا ۔ ہمارے سکول اور کلاس فیلو ایسے بھی تھے جو ذہنی طور پر کمزور تھے ، ابنارمل بچے ۔ یہ ہمارے ساتھ کھیلتے بھی لڑتے بھی تھے خفا بھی ہوتے تھے ۔ ہماری شکایتیں بھی کرتے ۔ ہماری شرارت کا حصہ بھی ہوتے ۔ جب مار پڑتی تو یہ بھی ساتھ کٹ کھاتے دکھائی دیتے ۔ ظاہر ہے ان کے ساتھ نرمی ہی ہوتی تھی لیکن یہ پورے حصے دار ہوتے تھے ۔

لڑکیاں ہم جماعت تھیں ، ہم پورے کدو ہونے کے باوجود یہ جانتے تھے کہ ہماری ٹیچر اک سے اک پیاری ہے اور ہم جماعت بھی ۔ ان سب کو اگنور مار کر ہماری ٹھرک گورا بازار کا چکر ہی ٹھہرتا ۔ یا اس کے ساتھ لگتے کباڑی بازار میں پرانے انگریزی رسالوں میں اچھی اچھی فوٹو دیکھنا ۔

ہم اگر لوفر تھے تو یہ لڑکیاں بھی ایسی سی ہی ہونگی ۔ ہمارے ڈاکٹر کو اک بار ممی ڈیڈی بچہ سمجھ کر اس کا سائکل چھین لیا تھا ۔ ہماری ہم جماعت نے ہی دیکھا تھا ۔ اسی نے غیرت دلائی کہ ڈاکٹر کے ساتھ گاؤں کے لڑکوں نے برا کیا ہے ۔ پھر ہمارے مشر نے ان لڑکوں کو سارا دن نہر میں نہانے کا حکم دیا تھا ۔ بس باہر نہیں نکلنا نہاتے رہو ۔ نہر میں جانے اور نہانے پر راضی بھی انہیں ظاہر ہے پیار محبت سے ہی کیا ہو گا ۔

پیسہ عہدہ رکھنے والی دونوں طرح کی فیملیز کے بچے بھی ساتھ تھے ۔ اور وہ بھی تھے جن سے فیس بھی نہیں دی جاتی تھی ۔ وزیروں افسروں کے بچے ۔ ہم جس طرح رل مل کر رہتے تھے ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عہدہ پیسہ دونوں ہی اب متاثر نہیں کرتے، اور ہم سکول فیلوز کی اکثریت کو نہیں کرتے ۔

ہم الٹے کاموں کے شریک شیطان رہے ہیں سب ۔ ہر الٹے کام کے لیے ہر وقت تیار ۔ یہ کوئی دور کا سفر ہو ، کوئی نزدیک کی لڑائی ہو ۔ کوئی ہوائی سی سرمایہ کاری ہو ، کوئی چھپر پھاڑی کمائی ہو ۔ یہ سب ہم مل کر کرتے رہے ۔ جیسے یہ کام تھے ویسے نتیجے نکلتے تھے یعنی منہ کی کھاتے تھے ۔ اچھی طرح جان پھنسا لیتے اور پھر بھی دوست رہتے ۔ اب ہم آپس میں کم رابطے رکھتے ہیں ۔ سارے ہی سدھر گئے ہیں ، سنبھل گئے ہیں معزز معتبر لگنے کی کوشش ضرور کرتے ہیں ۔ تب تک جب تک آپس میں ملاقات نہ ہو جائے ۔

ملاقات ہو جائے کوئی اور موجود ہو تو اک دوسرے کو حاجی صاحب بھی کہہ لیتے ہیں ، اور اکیلے ہوتے ہی پھر بھی حاجی صاحب ہی کہتے ہیں ، قسم سے ۔

زندگی اپنے سبق دیتی رہی ہے ۔ ہم نے افغان جنگ سے پہلے کا پشاور دیکھا ہے ۔ جس میں ایرانی رہتے اور پھرتے تھے ۔ جنگ کے بعد والا بھی دیکھا بھگتا جب افغانی آئے ۔ اک ہم جماعت شہزادہ تھا اور دوسرا اس خاندان سے جو روس کے خلاف لڑ رہا تھا ۔ جنگ انسانوں کو بہت اور طرح متعارف کراتی ہے ۔ وہ کچھ دکھاتی بتاتی ہے جو آپ زندگی گزار کر بھی نہیں دیکھ پاتے ۔ یہ سکول کے قصے اس لیے بھی سناتا بتاتا ہوں کہ اتنے سارے رنگ دیکھیں جو ہم نے دیکھے ۔ غربت کے مصیبت کے دوستی کے حماقتوں کے ثقافتوں کے اور مجبوریوں کے ۔

رنگ نسل مذہب سے اوپر اٹھیں تو انسان ایک سے ہوتے ہیں ۔ ان کی کہانیاں بھی ایک سی ہوتی ہیں ۔

یہ سب کہانیاں سنی ہوئی لگتی ہیں ۔ دہرائی ہوئی ۔ کسی کی بات نئی بات نہیں لگتی ۔ کسی کی الجھن ہو اکثر لگتا باتوں سے ہی سلجھ گئی ۔ یہ خود کو نہیں لگتا اسی کو لگتا ہے ۔ اصل میں ہمیں کان لڑانے کی سائنس نہیں پتہ ۔ کان لڑاتے رہیں تو لوگ پرسکون رہتے ہیں ۔ یہ کان لڑانے کی ٹرم ہمارے باچا جی کی ہے ۔ گہری بات کرنے ، ان سرگوشیوں کو کہتے ہیں جو ہم ادھر ادھر دیکھتے ہوئے ایک دوسرے کے کان میں کرتے ہیں ۔ یا وہ راز کی باتیں جو کسی کو بتانے سے منع کرتے ہیں اور سارے شہر کو پتہ ہوتی ہیں ۔ اصل میں یہ باتیں کوئی سننے والا نہیں ہوتا لوگ اکیلے ہوتے ہیں ، کہہ نہیں پاتے ۔ آپ اچھا سا کان بن جائیں ۔

ایسی باتیں کریں سنیں تو لوگ آپ کو دوست سمجھتے ہیں ۔ اور آپ دوست ہوتے نہیں ہیں ۔

اپن کا اک ڈائلاگ ہے کہ تم ہو گے میرے دوست میں تمھارا دوست ووست کوئی نہیں ۔ ہم رجے ہوئے ہیں یاریوں سے ۔ پر ہوتا یہ ہے کہ کوئی نہ کوئی اپنا قصہ سنانے بہہ جاتا ہے ۔ اپنی بات کرتا ہے ۔ اس کی سنتے اسے بتانا پڑتا ہے کہ یہ تو اتنی بڑی بات نہیں بلکہ شائد کوئی بات ہی نہیں ۔ کن چکروں میں پڑے خوار ہو رہے ہو ۔

درد کے یہ قصے اک سے ہیں ۔ پیار کی کہانیاں ساری اک سی ہی ہوتی ہیں ۔ انسانوں کے غم بھی بس ملتے جلتے ہیں ۔ زمانہ بھی ایک سی سختی کے ساتھ ڈیل کرتا ہے ۔ زندگی چیلنج لاتی ہے ۔ بس کوئی سننے والا کان ہو ۔ چپ کر کے سن لے ۔ دل تک آنے کا راستہ دے دے ۔ پھر جو بتائے جو سمجھائے وہ ایسا لگے کہ دل سے ہی نکلا ہے ۔ تو اگلے کہ دل تک روڈ بن جاتی ہے ۔ اس دل میں اک گھر بن جاتا ہے ۔ اس میں پھر آپ رہنے لگتے ہو ۔ وہ دل پھر آپ کو چاہنے لگتے ہیں اور آپ اکتانے لگتے ۔

تو یہ جو تیرے دل میں گھر ہے میرا، کوئی اس گھر سے مجھے نکال دے ۔ یہ مجھے بیچنا ہے نہیں بکتا تو کوئی کرائے پر ہی لے لے ۔ اس میں اب اور نہیں رہنا ۔ آگے جانا ہے ۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 402 posts and counting.See all posts by wisi

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments