جرمنی میں انتخاب: لارا ویک اینڈ پر ملنے کیوں نہیں آئی؟



اختتام ہفتہ گھر پہنچنے کے تھوڑی دیر بعد کال آئی!
دوسری طرف ایک مانوس آواز آئی: اس اتوار کو میں تمہاری طرف نہیں آ سکتی!
میں نے پوچھا کیوں نہیں؟ ہم نے تو 2 گھنٹے سائیکلنگ کرنی تھی اور کچھ تبادلہ خیال کرنا تھا۔

کہنے لگی: تمہیں نہیں پتا کل الیکشن ہو رہے ہیں، پچھلا پورا ہفتہ اور خاص کر آخری 3 دن بھی کانفرنس کے انتظامات میں لگ گئے میں پوسٹل بیلٹ بھی نہیں بھیج سکی اور اب ووٹ دینے کے لیے اپنے آبائی علاقے میں جانا ہو گا۔

میں نے کہا : اچھا!

بولی : سوری! یقیناً میں بھی چاہتی تھی کہ ہم سائیکلنگ کرنے جائیں لیکن الیکشن میں ووٹ دینا اس سے زیادہ ضروری ہے اور تم میری مجبوری سمجھ سکتے ہو کیونکہ یہ دن تو پھر چار سال بعد آئے گا اور میں نہیں چاہتی کہ میں اپنے ملک کے سربراہ کو منتخب کرنے کے لیے اپنا کردار ادا نہ کروں۔

میں نے کہا: ارے کوئی بات نہیں، میں سمجھ سکتا ہوں ہم کسی اور اختتام ہفتہ کر لیں گے لیکن تم ضرور جاؤ اور ووٹ دو ۔ ویسے کس کو ووٹ دو گی؟

میرا تو تمہیں پتا ہے انیس، میرے لیے اس دنیا کا تحفظ اور ماحول کو برقرار رکھنا بہت اہمیت کا حامل ہے، صنعتی ترقی اور گیسوں کے بے تحاشا اخراج نے اس دنیا کو رہنے کے قابل ہی نہیں چھوڑا ہے، ماحولیات تبدیلیوں سے دنیا کی ایک بڑی آبادی کو خطرہ ہے لیکن کمرشلائزیشن کے اس دور میں ہر کوئی پیسہ کمانے کی دھن میں لگا ہوا۔ لہذا میں تو اپنا ووٹ سبز جماعت (Green Party) کو دوں گی جن کے منشور میں یہ سب چیزیں شامل ہیں۔ کافی سیریس ہو کر اس نے مجھے کہا۔

بالکل صحیح کہہ رہی ہو آپ جاؤ۔ چلو سوموار کو ملتے ہیں۔ TSchuss

اس نے تو فون بند کر دیا لیکن مجھے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ الیکشن تو ہمارے ہاں بھی ہوتے ہیں، ہم لوگ بھی ووٹ دیتے ہیں۔ لیکن کیا ہمارا بھی ووٹ دینے کا معیار یہی ہے؟ کیا ہم نے کبھی کسی جماعت کے منشور یا اس کی اہلیت کو دیکھتے ہوئے ووٹ دیے؟ کیا ہمارا مطمح نظر صرف چھوٹے چھوٹے مفادات، برادری، علاقہ یا کوئی ٹھیکیدار کا مفاد نہیں ہوتا؟

کیا ہم جن لوگوں کی نجی محفلوں میں، جلسوں میں تو بہت اچھا سمجھتے لیکن ووٹ دیتے وقت نظر انداز نہیں کرتے؟ کیا ہم اقتدار کے لیے جماعتیں بدل بدل کر آنے والوں کو بار بار ووٹ نہیں دیتے؟

اسی سوچ میں ہی تھا کہ ایک دوسرے شہر سے دوست کی کال آ گئی کہ ہم کچھ دیر بعد آپ کے پاس پہنچ جائیں گے لہذا کھانے کا بندوبست کر لیں اور سیاست کا سوچتے سوچتے میں کچن کی طرف بھاگا کہ کھانے کا انتظام کر لوں۔

کھانے کا چمچہ ہلاتے ہوئے مجھے اپنے سوالوں کے کچھ جواب ملے کہ ہمارا تو اپنا بنیادی مسئلہ کھانے پینے کا انتظام کرنا ہے، تعلیم نہیں، سڑکیں نہیں، صحت نہیں، جب ہم لوگوں کے پاس یہ سب کچھ ہو گا تو ہی پھر ہم کسی عالمی مسئلہ پر اپنا ووٹ دینے کے بارے میں سوچیں گے، پھر ہی ہمیں ماحولیاتی تبدیلیوں کے مضر اثرات کا علم ہو گا اور ہم بھی منشور کی بنیاد پر ووٹ دیں گے اور پھر اقتدار میں آنے والی جماعتیں اپنے منشور پر عمل بھی کریں گی۔

Angela-Merkel

٭٭٭            ٭٭٭

آج یعنی 26 ستمبر 2021 کو جرمنی میں عام انتخابات ہو رہے ہیں۔ اس ملک میں رہتے ہوئے جہاں یہاں کی باقی اور دیگر یورپی ممالک کے کلچر، زبان، علاقوں اور لوگوں اور نظام ہا کے ساتھ اپنے تجربات کو شیئر کرنے کا جو سلسلہ جاری ہے وہی یہاں کے سیاسی نظام اور انتخابات پر مبنی معلومات بھی شیئر کی جائیں کیونکہ سیاست ایک ایسا شعبہ ہے جس پر ہمارے تقریباً ہر فرد کی رائے ہوتی اور ہمارے بازار، نجی محفلیں، دفاتر، سکول، یونیورسٹیز، ہسپتال، دوران سفر اور تقریباً ہر جگہ ہی سیاست کا موضوع ہی زیر بحث رہتا اور لوگ یہ باتیں کرنا چاہتے۔

جرمنی میں حکومت کے سربراہ کو وزیر اعظم کے بجائے چانسلر کہا جاتا اور گزشتہ 16 سال سے ایک ہی شخصیت یعنی انجیلا مرکل بار بار منتخب ہوتی رہی ہیں۔ وہ دنیا میں بہت طاقتور خاتون کے طور پر مانی جاتی ہیں اور ان کے دور میں جرمنی نے بے پناہ ترقی کی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ جرمنی کے عالمی کردار میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اس دفعہ انہوں نے مزید امیدوار بننے سے معذرت کی لی تاکہ جرمنی اپنا نیا لیڈر منتخب کر سکے۔ اس کے علاوہ بطور سربراہ مملکت یہاں صدر کا عہدہ بھی ہوتا جو اس وقت فرانک والٹر اشٹائن مائر ہیں لیکن جرمنی ایک پارلیمانی نظام حکومت ہے اور حکومت کی وفاقی چانسلر قیادت کرتا ہے اور بنیادی طور پر صدر رسمی فرائض اور نگرانی کے کام انجام دیتا ہے۔

جرمنی میں اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کا ایک واضح اور طاقتور نظام ہے، پہلے لیول پر اس کی 16 ریاستیں بہت حد تک اندرونی خودمختاری کی حامل ہیں جہاں ریاستی حکومت اپنی ریاست کی حدود کے اندر قوانین بناتی ہیں اور اپنے لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرتی اور دوسرے لیول پر بلدیاتی یا بنیادی حکومتوں کا نظام بھی بہت مضبوط ہے جہاں بنیادی تعمیر و ترقی اور چھوٹے موٹے ایشوز کے لیے شہری حکومتیں کام کرتی اور اپنے اپنے شہر یا علاقے کی تعمیر و ترقی انہی کی ذمہ داری ہوتی اور اس کے لیے ان کو وافر فنڈ اور دیگر ذرائع بھی میسر ہوتے۔

اسی لیے یہاں جنرل الیکشن سے پہلے کوئی خاص ماحول نہیں بنتا، نہ روایتی جلسے جلوس ہوتے، نہ نعرے اور ریلیاں ہوتی بلکہ ہر جماعت اپنا اپنا منشور اور پروگرام آن لائن، ٹی وی پر اور دیگر ذرائع ابلاغ کی مدد سے لوگوں تک پہنچانے اور لوگ ان کے منشور دیکھ کر فیصلہ کرتے کہ کس کو ووٹ دینا ہے۔ لوگ اپنی پسندیدہ جماعت کو اس لیے بھی ووٹ دیتے کیونکہ انہیں اس بات کا پتا ہوتا کہ یہ جیتیں گے تو اپنے باتوں اور وعدوں پر عملدرآمد کریں گے۔

جرمن پارلیمانی انتخابات میں امیدوار سے زیادہ اس کی جماعت کو اہمیت دی جاتی ہے۔ جرمنی میں اگر کوئی کسی سیاسی جماعت کا رکن نہیں ہے تو اس کے پارلیمنٹ میں پہنچنے کے امکانات بھی بہت معدوم ہوتے ہیں۔ کوئی بھی آزاد امیدوار بہت زیادہ ووٹ حاصل کرنے کے بعد ہی پارلیمان کا حصہ بن سکتا ہے۔ جرمنی کے بنیادی آئین میں درج ہے ”سیاسی جماعتیں ہی فیصلہ سازی میں شامل ہو سکتی ہیں“ ۔ سیاسی امور کے متعدد ماہرین تسلیم کرتے ہیں کہ جرمنی میں سیاسی جماعتیں فیصلہ سازی کے علاوہ یہ فیصلے بھی کرتی ہیں کہ کون سیاست کے میدان میں سرگرم رہ سکتا ہے۔

جرمنی کے الیکشن میں ہر ووٹر دو طرح کے ووٹ ڈالتا، ایک ووٹ کے ذریعے وہ اپنے علاقہ کے نمائندہ کو منتخب کرتا جس کی وجہ سے جرمنی کے ہر علاقہ کو پارلیمنٹ میں نمائندگی ملتی۔ جبکہ ہر ووٹر دوسرا ووٹ اپنی جماعت کو دیتا۔ بیلٹ پیپر پر جماعتوں کے نام لکھے ہوتے اور ووٹر اپنی پسندیدہ جماعت کو ووٹ دیتے۔ اس طرح آخر میں پورے جرمنی سے اس جماعت کو ڈالے گئے ووٹ کے تناسب سے پارلیمنٹ میں سیٹیں ملتی۔ کسی بھی جماعت کو سیٹ لینے کے لیے کم از کم 5 فصد ووٹ حاصل کرنا ضروری ہوتا۔

اس نظام کا فائدہ یہ ہے کہ ووٹر کے ووٹ ضائع نہیں ہوتے۔ جیسے ہمارے پارلیمانی نظام میں اگر 4 امیدوار ہوں اور جیتنے والا 20 ہزار ووٹ لے، اور باقی 3 لوگوں کے بالترتیب 18 ہزار، 13 ہزار اور 10 ہزار ووٹ ہوں تو 20 ہزار والا تو جیت جائے گا لیکن باقی 41 ہزار ووٹ کہیں کے بھی نہیں رہیں گے اور ان ووٹر کی رائے کہیں بھی شمار نہیں ہو گی۔

اسی طرح ایک جماعت تو 10 لاکھ ووٹ لے کر پارلیمنٹ میں 30 نشستیں جیت لیتی ہے لیکن دوسری 6 لاکھ ووٹ لینے والی جماعت شاید صرف 2 سیٹیں لے سکے۔ اس طرح یہ 6 لاکھ لوگ تو کسی پالیسی سازی میں شریک ہی نہیں ہوں گے۔ لیکن جرمنی میں لوگ اسی لیے شوق سے ووٹ ڈالنے جاتے ہیں کہ ان کا ووٹ شمار ہو گا اور کردار ادا کرے گا۔

اس طرح نشستوں کی تقسیم کے بعد جب پارلیمنٹ کے ممبر منتخب ہو جاتے ہیں تو پھر وہ مل کر اپنے چانسلر کا انتخاب کرتے ہیں جو اگلے 4 سال کے لیے اپنی کابینہ تشکیل دے کر حکومت کا نظام چلاتے۔

مبصرین کے مطابق الیکشن میں سخت مقابلے کی توقع ہے اس بار سی ڈی یو کے لیے انتخابات میں فتح آسان نہیں ہو گی، کیونکہ ایک طرف تو مہاجرین کے حوالے سے انجیلا میرکل کی پالیسیوں پر انہیں دائیں بازو کے حلقوں کی جانب سے تنقید اور دوسری طرف مہاجرین اور مسلم مخالف جماعت آلٹرنیٹو فار جرمنی (AfD) کی مقبولیت میں بڑھتا ہوا اضافہ ہے۔

اندازوں کے مطابق موجودہ الیکشن میں کسی بھی جماعت کی واضح اکثریت کا امکان نہیں ہے اس لیے زیادہ امکان یہی ہے کہ مختلف جماعتیں مل کر مخلوط حکومت بنائیں گی۔ اور یہاں یہ اتحاد ان جماعتوں کے جھکاؤ کی بنیاد پر ہوتا مثلاً دائیں بازوں، انتہائی دائیں بازو، سنٹر، بائیں بازو اور انتہائی بائیں بازو کی بنیاد پر ۔

جرمنی کے الیکشن کی ایک اور خاص بات کہ یہ سارے روایتی بیلٹ پیپر پر ہوتے۔ ٹیکنالوجی کے میدان میں اتنا جدید ہونے کے باوجود بھی یہاں الیکٹرانک ووٹنگ نہیں ہوتی بلکہ انہوں نے 2005 میں کچھ حد تک تجرباتی بنیادوں پر استعمال کر کے اس الیکٹرانک ووٹنگ کو ختم کر دیا تھا کیونکہ اس میں شفافیت کے مسائل ہو سکتے تھے۔

ایک اور اہم بات کہ اس سارے عمل میں کہیں بھی فوج یا دیگر کسی بھی حساس ادارے کی تعیناتی کے عمل دخل نہیں ہوتا۔ سارا کام ایک خود مختار الیکشن کمیشن کی زیر نگرانی ہوتا۔ اگلے کچھ دنوں تک یہاں نتائج آ کر حکومت بننے کا سلسلہ مکمل ہو جائے گا اور جرمنی کو انجیلا مرکل کے متبادل کے طور پر اپنا رہنما مل جائے گا۔

میں تو اب لارا کے انتظار میں ہوں کہ سوموار کو آ کر وہ اپنی جماعت کو ڈالے گئے ووٹوں کے بارے میں کیا کہتی ہے اور کون سی جماعتیں مل کر کر آگے کی حکومت بناتی ہیں۔