عورت کا المیہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدلیہ سے تعلق رکھنے والے حفیظ خاں کی لکھی ”تن من سیس سریر “ میں تمام کہانیوں کا محور عورت ذات ہے ۔ عورت کی بے کسی اور بیچارگی ڈسکس کی گئی ہے۔ کہانی اور افسانہ میں کیا فرق ہے ؟شاید کہانی افسانہ کی طرح ساری من گھڑ ت نہیں ہوتی۔ اس کتاب کا دیباچہ سرائیکی بیلٹ کی ممتاز علمی ادبی شخصیت شمیم عارف قریشی نے لکھا۔ بیس صفحات پر مشتمل اس سیر حاصل تحریر میں انہوں نے عورت کی مختلف ادوار میں سماجی حیثیت پر بحث کی ہے ۔ وہ لکھتے ہیں :”وادی سندھ کے ہر سہ مراکز موہنجو دڑو ، ہڑپہ اور ٹیکسلا سے دریافتہ فنون میں یہاں کے زندگی سے معمور نسوانی مجسمے ڈانسنگ گرل اور سلیپنگ سنگر ما قبل وید یا دراوڑی دور کی صحتمند اخلاقیات کا ثبوت ہیںجسے آریاﺅں کی جابرانہ بنیاد پرست اخلاقیات کے ہاتھوں تاراج ہونا پڑا‘…. ’ماقبل آریائی یا دراوڑی عہد میں عورت کی توقیر اور سربلندی ممکن تھی کہ مقامی مرد کا وسائل (بشمول زن ، زر، زمین) پر حملہ آوری انداز میں بے محابہ کشت و قبضہ کا مسئلہ نہیں بنا تھا “…. نتیجتاًوادی سندھ کی عورت جو یہاں سے زرعی سماج میں اپنے بھرپور کردار کی بنا پر سماجی ، روحانی اور فنی سطح پر ارفع رہی تھی محض اپنے باپ ، بھائی ، خاوند اور بیٹے (جو پدر سری سماج کے رشتے ہیں ) کی عزت اور ملکیت بن کر رہ گئی ۔ معاشی سطح پر قبائلی سماج کے برعکس فعال کارکن ہونے کے باوجود اسے اپنی زندگی کے فیصلوں سے خارج کر دیا گیا۔ اسے فرائض تو دراوڑی دور کے تفویض کئے گئے لیکن اس کے حقوق کا انکا رآریائی انداز میں کیا گیا۔دیہات کی ستر فیصد آبادی میں عورت مخلوط فرائض کی انجام دہی میں فحش نظر نہیں آتی۔ لیکن تیس فیصد شہری آبادی کی عورت سپورٹس اور میراتھن میں فحاشی کی مرتکب دکھائی دیتی ہے‘۔ ….’مرد کی عورت سے مکمل وفاداری کی توقعات ہی یہاں کی عورت کے المےے کو جنم دے رہی ہے‘ ….’یہاں آج کے معاشرے کے تمام ادارے بشمول خاندان ، مذہب اور ریاست بنیادی انسانی حقوق کی ادائیگی کے بغیر وفاداری کے تمام قوانین صرف اور صرف عورت پر نافذ کرنے پر تلے ہوئے ہیں‘۔ حفیظ خاں نے اپنی کتاب میں عورت کے اسی سماجی مقام کی بے انصافی پر بحث کی ہے ۔ ان کی نسل میں زبان و بیان کی تمام خوبیاں دکھائی دیتی ہیں۔

یہی بے انصافی ہمیں ادھر اُدھر دیکھنے سے ہر طرف نظر آرہی ہے ۔ سندھ شکار پور کے نواح میں ایک قبرستان ہے ۔ یہاں کسی قبر پر کوئی کتبہ نہیں۔ یہاں نعشوں کی تدفین بغیر کفن ، بغیر غسل اور بغیر نماز جنازہ پڑھے کی جاتی ہے ۔ یہاں لواحقین کو دعا مانگنے کی بھی اجازت نہیں۔ یہاں ونی عورتیں دفن کی جاتی ہیں۔ لیکن سندھ سمیت پورے پاکستان میں کہیں ونی مردوں کا کوئی الگ قبرستان نہیں۔ ملا ، مولوی نے قصوری درویش حضرت بلھے شاہ ؒ کا جنازہ پڑھانے سے بھی انکار کیا تھا۔ لیکن اس کی وجوہات شرعی تھیں۔

ہارون آباد سے ایک بڑے زمیندار گھرانے سے تعلق رکھنے والے سلمان ظفر چوہدری لاہور میں ایک بڑے صنعتی ادارے کے CEOہیں ۔ انگلینڈ کے لندن اسکول آف اکنامکس سے پڑھے ہوئے ۔ بھرپور مردانہ وجاہت کے مالک ۔ اپنے فیس بک پیج پر بڑے حاضر رہتے ہیں۔ لاہور کے حلقوں میں سگار اور بڑی گاڑی کے ساتھ اکثرایک بڑے صحافی کے ساتھ دیکھے جاتے ہیں۔ وہ اپنی تازہ پوسٹ میں لکھتے ہیں: ’مرد ایک اٹل حقیقت کا نام ہے ۔ خود کتنا ہی بے وفا کیوں نہ ہو ، وہ بے وفائی برداشت نہیں کرتا‘۔ یہاں مرد سے مرد کا معاملہ نہیں ۔ پھر جملہ یوں بھی نہیں کہ بے وفائی پسند نہیں کرتا۔ برداشت نہ کرنے میں پورے مردانہ مزاج کا بھرپور اظہار موجود ہے ۔ شاعرہ پروین شاکر نے اسی لئے شادی کا ایک عورت کی نظر میں جائزہ لیتے ہوئے اسے یوں لکھا تھا: ’ایک مرد نے اپنے من کا بوجھ دوسرے مرد کے تن پر لاد دیا ‘۔

اسلام جدید ترین الہامی مذہب ہے ۔ اس میں عورتوں کے لئے شادی ، طلاق اور وراثت سمیت ہر شعبہ زندگی میں بے پناہ حقوق ہیں لیکن ہمارے معاشرتی گھٹن ، دباﺅ اور کڑی روایات کے شکنجے میں جکڑے معاشرے نے عورت سے تمام حقوق چھین لئے ہیں۔ جب انگریزوں نے ہندوستان میں ستی کی رسم ختم کرنا چاہی تو اس پر بہت مزاحمت ہوئی تھی ۔ کئی طبقوں میں بیوہ کی دوسری شادی کا رواج ہی نہیں تھا۔ چاہے اس بیوہ کی عمر پندرہ سولہ برس ہی کیوں نہ ہو۔ شاید ان حالات میں ستی اک نعمت بھی تصور ہوتی ہو۔ روز مرنے سے ایک مرتبہ مرناکوئی گھاٹے کا سودا نہیں۔ انتہائی لبرل اور روشن خیال لوگ بھی اپنی عورتوں کو شادی ، طلاق اور وراثت کے سلسلے میں پورے حقوق دینے کو تیار نہیں۔ عورتوں کا حق وراثت بڑا عجیب و غریب معاملہ ہے ۔ نسل در نسل کڑی روایات کے باعث عورت اپنے خالق کی طرف سے دیا ہوا اپنا یہ حق اپنا سمجھنے ماننے کو تیار نہیں۔ وہ اپنا یہ حق بے طلب معاف کرنے میں خوشی اور عافیت محسوس کرتی ہے ۔ البتہ کبھی کبھی سسرالی نارو ا روےے سے تنگ اور اپنے بہن بھائیوں ، ماں باپ سے جدائی کے جذبات میں یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتی ’پتراں لئی جاگیر وے بابلا ، دھیاں لئی پردیس‘۔ لفظ ’پردیس‘ سے بے بسی ، تکلیف، بے کلی ، بے آرامی سبھی کچھ عیاں ہے ۔ عورتوں کا باپ کے ترکے میں سے اس کے شرعی حصہ سے محروم رکھنے کے سلسلے میں ڈاکٹر منظور اعجاز نے اپنی آپ بیتی میں ایک عجب واقعہ لکھا ہے ۔ ان کے والد ’وارث‘ ڈرامہ کے چوہدر ی حشمت کے سے مزاج کے باعث اپنی زندگی میں اپنے بیٹوں کے نام اپنی زمین نہ لگوا سکے ۔ وہ بے زمین مالک کے طور پر زندگی بسر ہی نہیں کر سکتے تھے ۔لیکن مرتے مرتے اپنی آخری سانسوں میں اپنی بیٹیوں کو یہ تاکید کرنا نہ بھولے’یاد رکھو !اپنے بھائیوں کو تنگ نہ کرنا ۔ ان سے زمین میں سے اپنا حصہ نہ لینا‘۔ عورت بیچاری اپنی محدود سوچ کے باعث اسی زیاں میں سود تلاش کرتی پائی گئی۔ ہماری لوک کہانی میں ایک ڈوبتی عورت نے اپنے بچے کی بجائے اپنے مرحوم بھائی کے اکلوتے بیٹے کو ڈوبنے سے بچالیا تھا کہ اس کی نسل قائم رہے ۔ اس کا خیال تھا کہ میرا کیا ہے ۔ میں ایک اور بچے کو جنم دے لوں گی ۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments