حکومتی کارکردگی اور انتخابات
الیکشن جوں جوں نزدیک آتا جا رہا ہے حکومتی صفوں میں بے چینی پھیلتی نظر آتی ہے حال ہی میں ہونے والے کنٹونمنٹ الیکشنز میں جہاں پی ٹی آئی نے باقی صوبوں میں اچھی کارکردگی دکھائی ہے وہیں سیاست کے اصلی میدان جنگ پنجاب میں پاکستان تحریک انصاف کو اپنی حریف جماعت مسلم لیگ نون کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانی پڑی ہے راولپنڈی لاہور ملتان اور بہاولپور جیسے اہم شہروں میں نون لیگ نے اسے چاروں شانے چت کر دیا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے سیالکوٹ میں ایک صوبائی نشست پر کامیابی کے بعد پی ٹی آئی نے فتح کے شادیانے بجانا شروع کر دیے تھے کہ شاید پنجاب میں بھی اس نے مقبولیت حاصل کرنا شروع کر دی ہے مگر مجموعی کارکردگی بہتر نہ ہونے کی وجہ سے یہ خوشی دیرپا ثابت نہیں ہو پائی ہے وزیراعلی عثمان بزدار عمران خان کی مسلسل آشیر باد کے باوجود رنگ نہیں جما پا رہے ہیں ان کی گورننس پر مسلسل سوال اٹھ رہے ہیں کئی چیف سیکریٹریوں اور آئی جیز کے تبادلوں کے باوجود مہنگائی اور لا اینڈ آرڈر قابو میں نہیں آ رہے۔
اس وقت سب سے بڑا درپیش چیلنج بلدیاتی الیکشن ہیں۔ پنجاب میں ضلعوں کی قیادت کے لئے گھمسان کا رن پڑنے والا ہے نون لیگ میں اندرونی اختلافات کے باوجود یہ جماعت الیکشن لڑنے کی ماہر ہے اگر عام الیکشن سے فوراً پہلے ہونے والے ان بلدیاتی انتخابات میں نون لیگ فاتح بن کر ابھرتی ہے تو عام انتخابات میں پی ٹی آئی کے ہاتھ سے پنجاب کا اہم ترین صوبہ سرک سکتا ہے پنجاب میں شکست کی صورت میں مرکز میں حکومت بنانا مشکل ترین ہو گا۔
جنوبی پنجاب صوبہ کا وعدہ وفا نہ ہوا تو وہاں پیپلز پارٹی بھی اہم حریف ثابت ہوگی افغانستان میں آنے والے انقلابی واقعات کے بعد کے پی اور بلوچستان میں مذہبی جماعتیں بھی ٹف ٹائم دے سکتی ہیں۔ اچھے دن آنے کی نوید تو سنائی گئی ہے تو کیا حکومت ایک کروڑ نوکریاں دے پائے گی اور اس وقت جب کرونا کے وار ابھی جاری ہیں اور لاکھوں مزید لوگوں کے بے روزگار ہونے کا خطرہ موجود ہے۔ کیا بے گھر افراد کو لاکھوں گھروں کی فراہمی ممکن ہو پائے گی۔
افغانستان میں ہونے والے واقعات کے بعد مغرب کی طرف سے آنے والی امداد بھی خطرے میں پڑتی نظر آتی ہے جب کچھ عالمی طاقتیں پاکستان کو اس ناکامی پر قربانی کا بکرا بنانے پر تلی ہوئی ہیں۔ تو کیا ان حالات میں معیشت کی گروتھ سرکاری تخمینوں کے مطابق ممکن ہو پائے گی؟ حالیہ واقعات کے بعد دہشت گرد گروہ حملے تیز کرتے نظر آتے ہیں جس سے سی پیک کے تحت ہونے والی سرمایہ کاری پر بھی منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ تمام تر اقدامات کے باوجود عام آدمی مہنگائی کا رونا روتا نظر آتا ہے۔
کرپشن کے خلاف جنگ کا نعرہ بھی اپنی کشش کھوتا نظر آتا ہے جب خود اس حکومت کی ناک کے تلے کئی سیکنڈل منظر عام پر آچکے ہیں جس میں مافیاز نے عوام کو جی بھر کر لوٹا ہے ان مافیاز کو نکیل ڈالنے میں بھی حکومت ناکام نظر آتی ہے احتسابی عمل کو انتقامی عمل قرار دیا جا رہا ہے ماضی میں لوٹ مار کے دوران بیرون ملک منتقل کی گئی دولت کو واپس لانے میں بھی حکومت ناکام نظر آتی ہے جس کے بہت بلند و بالا دعوے کیے گئے تھے۔ بڑے سیاستدان کرپشن کے کیسز میں ضمانت پر رہا ہو کر اپنی معمول کی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
تھانے کچہری کا نظام بھی اسی طرح چل رہا ہے ان حالات میں صرف اسٹیبلشمنٹ کے دوستانہ تعلق کے بل بوتے پر الیکشن میں کامیابی شاید ممکن نہ ہو اور اس وقت جب اپوزیشن لیڈر مسلسل اس کوشش میں ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کو اپنی خدمات پیش کر کے ان کی آشیر باد حاصل کر لیں یا کم از کم ان کو نیوٹرل کر دیں۔ اس طرح پیپلز پارٹی بھی مسلسل اس کوشش میں ہے کے وہ ہیئت مقتدرہ کی گڈ بکس میں آ کر اپنے آپ کو پی ٹی آئی کے متبادل کے طور پر پیش کرے اس چیز کو سامنے رکھ کر پیپلز پارٹی نے اپنے آپ کو پی ڈی ایم سے ایک فاصلے پر رکھا ہوا ہے ادھر بلاول بھٹو نے جنوبی پنجاب کو ٹارگٹ کیا ہوا ہے اور وہاں سے کئی الیکٹیبلز کو اپنی جماعت میں شامل کیا ہے۔
ان حالات میں پاکستان تحریک انصاف کو اپنے باقی ماندہ دو سال میں اپنی کارکردگی کو بہت بہتر بنانا ہو گا عوام سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کرنا ہو گئی شہروں کے ساتھ دیہات میں مقیم کسانوں کو ریلیف دینے کے لئے کسی بڑے زرعی پیکج کی اشد ضرورت ہے بجلی میں ٹارگٹڈ سبسڈی دینا ہوگی۔ اس حکومت کا صحت کارڈ پیکج ایک بہت اچھا قدم ہے اس کو مزید پھیلانے کی ضرورت ہے مزدوروں اقلیتوں اور خواتین کی ترقی کے لئے بہت سے اقدامات کی ضرورت ہے۔ کام کرنے والے آفیسرز کی تعیناتی ان دو سالوں میں حکومتی امیج بہتر بنا سکتی ہے۔


