ابلاغ کی سرحد پر ، پیغام سے مسلح، معاشرے کی بہتری کے لئے بر سر پیکار عظیم مجاہد : ریاض شاہد!



نہیں معلوم وہ عہد ہی ایسا تھا یا یہ کہ ان کا اپنے ساتھ، عہد (ایسا) تھا کہ
بغیر سوچے سمجھے، بغیر قائل ہوئے، کچھ تخلیق نہیں کروں گا۔
لکیر کا فقیر نہیں بنوں گا، ڈگر سے ہٹ کر ، اپنی راہ خود وضع کروں گا۔
اس دنیا کو جیسا دیکھتا ہوں اور ( اسے ) جیسا دیکھنا چاہتا ہوں، اس مشاہدے ( اور تجربے ) میں اپنے فلم بینوں کو بھی شریک کروں گا۔
خود سوچنے کا عادی ہوں، سینما ہال آنے والے ذہنوں کو بھی (کھیل کھیل میں ) سوچنے پر اکساؤں گا۔
مقصدیت کے بغیر میری کوئی تخلیق نہیں ہو گی،
( اور یہ مقصدیت، بوریت، اکتاہٹ اور بوجھل پن سے بالا، دل چسپی، تفریح اور ڈرامائی تقاضوں کے تمام تر اجزا کے ساتھ ہوگی۔ )

ذرا سوچیئے! آخر یہ با کمال تخلیق کار کون ہے جو اپنے کام سے اتنا سنجیدہ، اپنی صلاحیت پر اس درجہ مطمئن اور اپنے خیالات سے اتنا مخلص ہے۔

یقیناً یہ انداز، یہ جذبہ اور یہ لہجہ ہجوم کے پیچھے چلنے والے اور بھیڑ میں گم ہو جانے والے کسی فرد کا نہیں، اپنی صلاحیت، اپنے فن اور اپنے میڈیم پر پورا اعتماد رکھنے والے ایک ایسے عظیم تخلیق کار کا ہے جسے زندگی سے شدید محبت تھی اور وہ، یہ زندگی سب کے لئے خوب صورت بنا دینے کا خواہش مند تھا۔

یہ وہ ہمہ جہت فنکار ہے جس کے قلم اور کیمرے کے اشتراک نے ہمارے اردگرد پھیلی ( دکھوں سے لبریز ) کہانیوں اور ( مصائب کے شکار ) کرداروں کو وہ زبان دی کہ کہی بات دیکھنے والوں تک صرف پہنچی نہیں، ان کے دلوں میں اتر بھی گئی۔

یہ وہ ہمہ جہت فنکار ہے
جسے معاشرے میں بکھرے مسائل کو نمایاں کرنے کی تڑپ تھی،
جو اپنی اس سوچ کو تحریر میں منتقل کرنے کا ہنر جانتا تھا،
جسے کہانی کی متاثر کن بنت کے بعد مکالموں میں موتی پرونے کا سلیقہ آتا تھا،
جو نثر کی وسعت سے نکل کر ، نظم کی حدود میں رہتے ہوئے بھی، کچھ، منفرد کہہ جانے کی خواہش رکھتا تھا!

اور جسے ( بلا مبالغہ ) کہانی کو اپنا زاویہ دے کے، تخیل کی جداگانہ اور حقیقت پسندانہ تصویر کشی کی مہارت حاصل تھی۔

مختلف حساس اور سلگتے موضوعات پر مبنی، پچاس سے زائد فلموں کی بنیاد، ان کے شعلہ فشاں قلم سے وجود میں آنے والے، سکر پٹس پر رکھی گئی۔

ان کے قلم کی تیزی، چبھن ( اور کاٹ ) ایسی تھی کہ جس فلم میں ان کے ڈائیلاگ شامل ہوتے، پھر یہ بتانے کی ضرورت باقی نہیں رہتی کہ اس فلم کی سب سے بڑی خوبی کیا ہے۔ یہ اعزاز فلم کے کم ہی لکھاریوں کے حصے میں آیا ہو گا کہ آپ کا لکھا ( اور کہا ) زبان زد عام ہو جائے اور یوں غیر محسوس طریقے سے محاوروں کی شکل اختیار کرتے ہوئے، آنے والے دنوں میں اسے تحریر اور تقریر میں دہرایا جانے لگے۔

اس فہرست میں ہر چند کہ ان کی بیشتر فلموں کو شامل کیا جاسکتا ہے، جن میں ان کے فکر انگیز مکالموں نے دیکھنے اور سننے والوں کو جی بھر کے متاثر کیا، مگر سعادت حسن منٹو کے افسانے ( جھمکے ) سے ماخوذ فلم بدنام میں اداکار علا الدین کے ادا کردہ مکالموں نے جو شہرت اور زندگی پائی وہ بلاشبہ ہماری فلمی تاریخ کے سنہری حروف ہیں اور انھیں اسی طور ہمیشہ یاد دیکھا جائے گا۔

فلم آگ کا دریا میں طوائف اور ڈاکو کے درمیان یہ مکالمہ، اور کرداروں کے پس منظر اور مزاج کی عکاسی کے لئے منتخب کیے گئے الفاظ، سچیوایشن کو متاثر کن بنانے میں کس قدر معاون دکھائی دیتے ہیں :

” ہم خود لوٹنا جانتے ہیں اجنبی،
لوٹی ہوئی دولت کا نذرانہ نہیں لیتے ”
” نذرانہ واپس کرنے کا نتیجہ،
لوٹنے والا، خود مال غنیمت بن کر آ گیا ہے۔

تمہاری گستاخی کی یہی سزا ہے کہ اپنی زبان کاٹ کر پھینک دو یا اپنے کرائے کے پاؤں کو حرکت میں لاکر اتنا ناچو، اتنا ناچو کہ تمہاری ہڈیاں گھنگھروؤں کی طرح بجنے لگیں ”

اسی طرح فلم خاموش رہو، فرنگی، شہید، سسرال، مجاہد، جنگ آزادی، نظام لوہار، آگ کا دریا کے صرف عنوانات کا ہی جائزہ لیا جائے تو ان میں چھپی سچائیوں اور ان میں نمایاں کی گئی تلخیوں اور تڑپ کا کسی قدر قیاس کیا جاسکتا ہے۔

تاریخی موضوعات پر ان کی تین انقلابی فلمیں زرقا، غرناتا اور یہ امن وہ شاہکار ہیں جن میں انھوں نے بیک وقت اپنی قلمی صلاحیت اور ہدایت کار کی حیثیت سے پیشہ ورانہ قابلیت کا ساری دنیا سے سکہ منوایا۔

1969 میں ریلیز ہونے والی زرقا اور 1971 میں سینسر کے زد میں آنے والی یہ امن وہ شہ پارے ہیں جن میں فلسطین اور کشمیر کے تنازعات کو جس خوش اسلوبی، فنکارانہ مہارت اور ہنر مندی کے ساتھ اجاگر کیا گیا، اس کی کامیابی اور اثر انگیزی کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ ان فلموں کے مرکزی خیال پر مبنی ان کے تھیم سانگز آج بھی ذرائع ابلاغ میں آزادی کے استعارہ کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔

فلم زرقا کے یہ الفاظ :
”دیکھ فریاد نہ کر
سر نہ جھکا
پاؤں اٹھا
کل کو جو لوگ کریں گے
تو ابھی سے کر جا
ناچتے ناچتے آزادی کی خاطر مر جا
منزل عشق میں مر مر کے جیا جاتا ہے ”
یا فلم یہ امن کے یہ دو مصرعے :
”ظلم رہے اور امن بھی ہو
کیا ممکن ہے تم یہ کہو ”

اپنے اندر وہ معنویت رکھتے ہیں جنہوں نے عظیم تخلیق کار ریاض شاہد کے اس فکری طرز عمل کو حقیقت کر دکھایا کہ

خود سوچنے کا عادی ہوں، سینما ہال آنے والے ذہنوں کو بھی (کھیل کھیل میں ) سوچنے پر اکساؤں گا۔

Facebook Comments HS

One thought on “ابلاغ کی سرحد پر ، پیغام سے مسلح، معاشرے کی بہتری کے لئے بر سر پیکار عظیم مجاہد : ریاض شاہد!

  • 11/10/2021 at 5:36 صبح
    Permalink

    ریاض شاہد صاحب کی پیشہ ورانہ زندگی پر خوبصورت مگر تشنیع تحریر. میں انکا مدح ہو.

Comments are closed.