خوف کے کتبے


میرے کالم کا عنوان نوجوان شاعر و ادیب ڈاکٹر سید زبیر شاہ کے افسانوی مجموعے کا نام ہے، جو گزشتہ دنوں میرے زیر مطالعہ رہی۔ خوبصورت تجریدی سر ورق کے ساتھ یہ کتاب مثال پبلشرز پریس مارکیٹ فیصل آباد کے زیر اہتمام 2011 میں چھا پی گئی ہے۔ اس میں کل سولہ افسانے ہیں اور کتاب 104 صفحات پر مشتمل ہے۔ یہ ڈاکٹر زبیر شاہ کا پہلا افسانوی مجموعہ ہے۔ ڈاکٹر صاحب ایڈورڈز کالج پشاور میں پڑھاتے ہیں اور قرطبہ یونیورسٹی میں ایم فل اردو کے طلباء و طالبات بھی ان سے مستفید ہو رہے ہیں۔

وہ افسانے کی طرف زیادہ رجحان رکھتے ہیں۔ اس کا اندازہ ان کے ایم فل مقالے ”اردو افسانے پر 9 / 11 کے اثرات“ اور پی ایچ ڈی کے مقالے ”اردو افسانے کے انتہا پسند کرداروں کا جائزہ“ سے لگا یا جا سکتا ہے۔ یعنی جو جدیدیت ان کی تحقیق میں ہے اس کا عملی تجربہ انھوں نے ”خوف کے کتبے“ لکھ کر کیا ہے۔ خوف کے کتبے میں ایک ان دیکھا خوف پایا جاتا ہے، ایسا خوف جو انسان کی روح تک کو گھائل کر کے سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔

ان کی کہانیوں کا کینوس 21 ویں صدی او ر اس کے مسائل پر محیط ہے۔ انھوں نے موجودہ انتشار اور افراتفری کو علامتی انداز میں اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے، جس میں ہر طرف بے چینی، خوف و ہراس اور دہشت ہے، جہاں ہر کردار کے گرد خوف کے مہیب سائے پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ کردار اپنے ہمزاد کو پتھرائی ہوئی آنکھوں سے دیکھ کر آنکھیں موند لیتے ہیں لیکن اندر کی دنیا اس سے زیادہ خوفناک ہوتی ہے۔ وہ چیختے ہیں لیکن ان کی چیخ پلٹ کر واپس آجاتی ہے۔

وہ اس خوف سے بھاگ جاتے ہیں لیکن وہ گول دائرے میں دوڑتے ہیں۔ وہ اس خیال کو جھٹکنا چاہتے ہیں لیکن اگلا منظر اس سے زیادہ بھیانک ہوتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی کہانیوں کے کردار بظاہر بھیڑ، چہل پہل اور بھری دنیا میں ہونے کے باوجود تنہا نظر آتے ہیں۔ انھوں نے کرداروں کی ظاہری دنیا سے زیادہ باطنی دنیا کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔ اور اس میں کافی حد تک کامیاب رہے ہیں۔

ڈاکٹر سید زبیر شاہ نے اپنی کہانیوں میں نئی اور پرانی تہذیب کا تصادم، پرانی قدروں کی پامالی، ٹیکنالوجی کا بڑھتا ہوا رجحان، معاشرتی استحصالی رویوں، مشینی زندگی، انتہا پسندی، دہشت گردی اور انسانی توہمات کو پیش کیا ہے۔ انھوں نے روایتی موضوعات اور قصوں کو بھی نئے رنگ ڈھنگ میں بیان کیا ہے۔ ان کا اسلوب طلسماتی اور فلسفیانہ ہے۔ وہ قاری پرایک خاص کیفیت اور سحر طاری کر دیتا ہے۔ کبھی کبھی ان کا انداز بیان اس قدر مبہم ہو جاتا ہے کہ قاری کو کافی ذہنی ورزش کر کے اور کئی واسطوں سے گزر کر سمجھنا پڑتا ہے۔

اور ان کے بعض افسانوں میں خطیبانہ جوش دیکھ کر مضمون کا گمان ہوتا ہے۔ ان کے افسانے کا انداز زیادہ تر بیانیہ ہے اور کرداروں کو زیادہ نمایاں کرنے اور خراش تراش کرنے کی کوشش نہیں کی ہے۔ ان کے کردار باغی نہیں ہوتے بلکہ مصنف ان کو بڑی چابکدستی سے کنٹرول کرتے ہیں۔ ان کے ہاں کرداروں سے زیادہ نفس مضمون پر توجہ دی گئی ہے۔ البتہ کرداروں کے باطن پر کڑی نظر رکھتے ہیں اور ان کی نفسیات کو خوب سمجھتے ہیں۔ ان کے ہاں خوبصورت جملے ملتے ہیں۔ جیسے : ”زندگی میں چند لمحوں کی فراغت کے لیے کتنا دوڑنا پڑتا ہے۔“ ”وقت تو مچھلی کی مانند ہوتا ہے، پکڑنے کی جتنی کوشش کرو ہاتھ سے نکلتا جاتا ہے۔“ ان کے ہاں شعور کی رو، فلیش بیک تکنیک کے ساتھ ساتھ علامتی و تجریدی انداز نمایاں ہے۔

افسانہ ”بین کرتی میا“ میں نئی تہذیب کے ہاتھوں پرانی تہذیب و مشرقی اقدار کی شکست و ریخت اور محلے کی خوبصورت منظر نگاری کی ہے۔ لوگوں کے منفی رویوں اور توہمات کو اجاگر کیا ہے۔ ”میا“ دراصل پرانے اقدار کی علامت ہے۔ اس میں قدامت پسند انسان، نئی تہذیب اور ٹیکنالوجی کا تصادم پیش کیا ہے۔ افسانے ”ہیرا“ میں تیسری جنس کے مسائل، خواہشات، آرزوؤں کو موضوع بحث بنایا ہے، جو عام لوگوں جیسی زندگی گزارنے کے لیے ترستے ہیں۔

اس افسانے کا انداز بیانیہ ہے۔ افسانے ”کتا“ میں ترقی پسند خیالات پائے جاتے ہیں۔ کرم دین ہمارے معاشرے کا پسا ہوا اور جیتا جاگتا کردار ہے، جو چند روپوں کی خاطر کروڑوں کی حفاظت کرتا ہے۔ ان کی موت سے کسی کو تکلیف نہیں ہوتی بلکہ کوئی دوسرا ان کی جگہ لینے کے لیے تیار رہتا ہے۔ اس افسانے کا عنوان بھی گہری معنویت کا حامل ہے اس میں ایک پسے ہوئے کردار سے اس کے موازنے کا عنصر بھی پایا جاتا ہے۔ ’دائرے کا سفر‘ ایک ایسا علامتی افسانہ ہے جہاں انسان مادیت میں اپنا وجود کھو بیٹھتا ہے، اپنی سمت بھول جاتا ہے، جہاں دنیا افراتفری کا شکار نظر آتی ہے اور انسان احساسات سے عاری زندگی کی دوڑ دھوپ میں لگ کر مشینی زندگی بسر کرتا ہے۔

اس کو اپنی ذات کے اندر جھانکنے کا موقع نہیں ملتا۔ ’شہر سنگین‘ کا کردار بھی ذہنی خلفشار کا شکار نظر آتا ہے۔ ایک لمحے کے لیے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ انتظار حسین کے ’آخری آدمی‘ کا کردار الیاسف ہے۔ ’پرانا خط‘ ایک رومانوی اور کرداری افسانہ ہے۔ جس میں دو بچھڑے اچانک ملتے ہیں۔ ان کی محبت مشرقی ہے اس لیے وقت کی تمازت ان کی محبت کو کم نہیں کرتی لیکن اس اچانک ملاقات میں بھی ان کی انانیت آڑے آجاتی ہے اور وہ ایک دوسرے سے جھوٹ بول کے پھر سے بچھڑ جاتے ہیں۔

اس افسانے میں جاندار اور سلجھے ہوئے مکالمے ملتے ہیں۔ ’ہنس کی چال‘ فلیش بیک تکنیک میں لکھا گیا افسانہ جس میں ماضی پرستی کا پرچار نظر آتا ہے۔ اپنی ثقافت، رسم و رواج اور لباس سے محبت اور نئی تہذیب سے بیزاری ظاہر کی گئی ہے۔ ’گرگٹ‘ کو علامت کے طور پر استعمال کیا ہے۔ افسانہ ’خالی فریم‘ جنسی ناآسودگی پر مبنی ہے جہاں نوجوان نسل بے راہ روی کا شکار ہو جاتی ہے اور وہ کسی عورت کو اپنے اندر جذب کرنے کی خواہش رکھتے ہیں لیکن اس کی تکمیل نہیں ہوتی تو خیالوں میں ہی جنسی تسکین حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

’جو اماں ملی تو کہاں ملی‘ اس افسانے میں دنیا کی بے ثباتی کا تذکرہ ہے۔ انسان موت سے بھاگتا ہے لیکن وقت مقررہ پر اس کو گلے لگانا اٹل حقیقت ہے۔ اس افسانے میں موت کو تجسیم کر کے تمثیلی انداز دیا ہے۔ ’خوف کے کتبے‘ میں اسلاف فراموشی کو موضوع بحث بنایا ہے۔ احساس سے عاری نئی تہذیب کی پروردہ مصنوعی رویوں والی نئی نسل پر گہری طنز کی ہے۔ ان رویوں سے مصنف نہ صرف نالاں ہیں بلکہ علانیہ بیزاری بھی ظاہر کی ہے۔ افسانہ ’آخری کہانی‘ میں مصنف بذات خود ’میں‘ کی صورت میں موجود ہے۔

دفتری ماحول میں موجود کینہ اور مسابقت کی فضا کو پیش کیا ہے۔ ایسا ماحول جہاں اپنائیت کا احساس نہیں ہوتا۔ دفتری زندگی میں رشوت ستانی کو اجاگر کیا ہے۔ ایسے ماحول کی عکاسی کی گئی ہے جس میں مجبور لوگ سال ہا سال دفتروں کے چکر کاٹتے ہیں مگر شنوائی نہیں ہوتی۔ سایہ بطور علامت استعمال کیا ہے جس سے مراد ضمیر ہے۔ ذہین اور ضمیر کی کشمکش بیان کی گئی ہے۔ پرتعیش زندگی اور مجبوریاں حرام خوری پر آمادہ کرتی ہے لیکن ضمیر کسی نہ کسی موقع پر اس کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کرتا ہے۔

افسانہ ”فلائٹ 10 / 8“ ترقی پسند سوچ کا حامل افسانہ ہے۔ البتہ مالی نا آسودگی کے ساتھ ساتھ اس افسانے کا بنیادی موضوع 8 اکتوبر 2005 کا زلزلہ ہے۔ جس نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی تھی۔ اسی طرح ’ابن آدم ”انقلاب“ دو مونہے‘ اور ’کوے‘ میں دہشت گردی، شدت پسندی، انتہا پسندی، فرقہ واریت، مذہب کے نام پر جنگ، انسانی خوف اور دھماکوں کو موضوع بحث بنایا گیا ہے۔ مجموعی طور پر ان افسانوں میں بتایا گیا ہے کہ ہر طرف لوگ ایک دوسرے کو قتل کر رہے ہیں، انسان گروہوں اور فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ ہر گروہ خود کو درست اور دوسرے کو غلط سمجھ رہا ہے۔ غیر جانبدار لوگوں کی سمجھ میں نہیں آ رہا کہ کون ٹھیک اور کون غلط ہے۔ وہ ان حالات سے نفسیاتی مسائل کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔ بقول سعد اللہ لالاؔ:

؂ یہ کس نے نفرتوں کا زہر گھولا
میری دھرتی تو جیسے مامتا تھی

یہ سارے علامتی افسانے ہیں۔ اور ان دھماکوں کی منظر کشی کی ہے جس نے موجودہ دور میں گلیوں، محلوں، بسوں، اڈوں اور درسگاہوں کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ انھوں نے بتایا ہے کہ سوچ میں تضاد اور اجتماعیت نہ ہونے کی وجہ زمین پر فساد کا آغاز ہوتا ہے اور ہر طرف آہ فغاں اور چیخ و پکار ہوتی ہے۔

ڈاکٹر سید زبیر شاہ کے افسانوں کا مجموعی جائزہ لینے سے ان کے ہاں ہمیں نئی تہذیب سے بیزاری، پرانے اقدار اور تہذیب سے محبت، انسان کا انجانا خوف اور موجودہ دور کے ہنگامی حالات جیسے موضوعات ملتے ہیں اور ان کی بھر پور ترجمانی بھی کی ہے۔ انھوں نے صرف ہنگامی مسائل کو اجاگر نہیں کیا ہے بلکہ ان کے ہاں اس کا حل بھی موجود ہے۔ وہ قنوطیت کے علمبردار نہیں بلکہ ان کے ہاں رجائیت پائی جاتی ہے کیونکہ جب وہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کو موضوع بناتے ہیں تو امن اور انقلاب کا رستہ بھی دکھاتے ہیں۔ انھوں نے مختصر افسانہ لکھا ہے جو کہ جدیدیت کا حامل اور موجودہ تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ اگرچہ یہ ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ہے لیکن انھوں نے ادبی دنیا کے دروازے پر دستک دے کر اپنی بھر پور موجودگی کا احساس دلایا ہے۔

Facebook Comments HS