عین موت

تمہیں چھوڑنے کے لیے ہزار باتیں
تمہارے ساتھ رہنے کے لیے ایک بات
منال کی آنکھوں میں بے بسی کے آنسو تھے وہ احسن سے محبت کی بھیک مانگ رہی تھی وہ محبت جس کے لیے وہ ساری دنیا سے لڑ کر احسن کے ساتھ ازدواجی رشتے میں منسلک تھی۔ درد آپ کے سینے سے زبان تلک آ جائے تو سمجھ جائیں آپ ہار چکے ہیں انتظار موت سے بھی برا ہوتا ہے اور محبت کا انتظار آدھی موت کے برابر ہے۔ منال کی محبت کی الجھن بھی احسن کی یاد اور انتظار سے گزر کر اذیت بنتی جا رہی تھی
آنکھ کھلتے ہی محبوب کی یاد آنا بہت بڑی نعمت ہے لیکن محبوب کا میسر نہ ہونا کسی آزمائش سے کم نہیں
محبوب کو چاہتے جانا عبادت سے کم نہیں لیکن محبوب تک چاہت کا نہ جانا مایوسی کی طرف چلا جاتا ہے
منال اور احسن ایک ہی یونیورسٹی کے طالب علم تھے اور اردو ادب ہی ان کا اوڑھنا بچھونا تھا۔
دبلی پتلی سی منال گندمی رنگ، سیاہ بال اور ہمیشہ سیاہ جوڑا پہنے والی لڑکی تھی ہاتھ میں ہمیشہ ست رنگی ڈائری اور فل شولڈر بیگ رکھتے ہوئے
اکثر کھلے بال ٹھیک کرتے اور سیب کھاتی یونیورسٹی میں جہاں سے بھی گزرتی لوگ اس کی طرف متوجہ ضرور ہوتے۔
منال عمر میں چھوٹی لیکن دوستیاں اپنی عمر سے دس گنا بڑوں کے ساتھ رکھتی خاص طور پر اپنے اساتذہ کی محفل میں بیٹھنا عبادت سمجھتی اور دوسرے نمبر پر سینئرز کے ساتھ۔
احسن بھی منال کے سینئرز میں سے تھا جو کہ منال کے لیے خوش قسمتی سے بد قسمتی بنتا گیا۔
شروع میں تو منال کی زندگی کا کوئی دن ایسا نہ تھا احسن سے ملاقات نہ ہو اور یہی حال احسن کا تھا ایک دوسرے کو وقت دینا فرض سمجھتے تھے۔
منال کا مزاج انتہائی حساس اور نرم تھا جب کے احسن کا مزاج انتہائی بے حس اور سخت تھا ان دونوں میں سب کچھ مختلف تھا سوائے اردو ادب کے۔ یا پھر محبت کے۔
یا پھر اس کے جسے وہ محبت سمجھتے تھے۔
”تمہیں نفسیاتی مسئلہ ہے۔ میں کیا کروں؟ ،“
احسن نے کہا
”محبت کرنے والے تو ساتھ دیتے ہیں۔ وہ ہی تو حل نکالتے ہیں۔“
”نہیں میں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتا۔ میں تمہیں کبھی خوش نہیں رکھ سکتا۔ کیوں کے تم کبھی کتابی باتوں سے باہر نہیں آتی۔“
منال احسن سے اس محبت کی بھیک مانگ رہی تھی جو دنیا سے تو حاصل کر چکی تھی لیکن احسن سے حاصل کرنے سے قاصر تھی۔ کبھی کبھی محبت کا مل جانا نعمت ہوتا ہے اور کبھی کبھی محبت کا مل جانا ہی آزمائش ہوتی ہے
منال اپنی زندگی کے اس اسٹیشن پر کھڑی بھیک مانگ رہی تھی جس کی گاڑی پیچھے جاتی تو آگ میں گرتی آگے جاتی تو دریا میں ڈوب جاتی۔
احسن کے ساتھ عرصہ دراز سے محبت جیسی عبادت میں مصروف رہنے کے بعد آج اس کو احساس ہو رہا تھا زندگی میں سخت انتخاب کیسا ہوتا ہے۔
امیر جذبات رکھنے والی منال آج محبت کی بھیک مانگ رہی تھی۔

