” یاد ہے، تم اکثر میرا ہاتھ تھام کر اسلام آباد کی سب سے اونچی پہاڑی پر جایا کرتے تھے؟ مجھ سے اظہار وفا کرتے تھے؟ تم مجھے بتاتے تھے، یہ نیچے جو دنیا بس رہی ہے، میں اس سے بہت جدا سا ہوں۔ تم مجھے دنیا والوں جیسا نہیں پاؤ گی۔ یہ لوگ صرف تماشائی ہیں، لوگ کبھی ہم درد نہیں ہو سکتے، لوگ ہمیشہ آپ کے ٹوٹ کر بکھر جانے کا انتظار کرتے ہیں۔ لوگ آپ کا استعمال کرتے ہیں اور وقت گزاری کے بعد آپ کو بہت بری طرح دھکا دیتے ہیں۔ جس کے بعد آپ پھر سے کھڑے ہونے کی طاقت بھی کھو دیتے ہیں۔ تم یہ بھی کہتے تھے، میں ہی تمہارا ہم درد ہوں۔ مجھے بھی اس پہاڑی پر رشک آتا تھا، جسے ہم جیسے خوش قسمت ترین محبت کرنے والوں کی قربت نصیب ہوئی تھی۔
یاد ہے، اکثر ہم نیلم جہلم دریا کے پانی سے باتیں کرتے تھے؟ کتنی دیر تک پانی میں پاؤں رکھ کر پانی سے سکون حاصل کرتے تھے اور پھر اس سکون کو خود میں اتارتے تھے۔ تم اس وقت بھی محبت کے دعوے کرتے تھے۔ کشمیر کے پہاڑ اور دریا کا پانی بھی میری محبت پر مسکراتا رہتا تھا۔ کتنے قیمتی تھے وہ پہاڑ بھی، وہ دریا کا پانی بھی جنہیں ہماری قربت نصیب تھی۔
Read more