مشہور بیانیہ اور پاکستانیوں کی خوش فہمیاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ بیانیہ جو عوام کی بڑی تعداد سننا چاہتے ہیں، وہ بات جو عوامی مزاج اور عوامی کیفیت کے مطابق ہو اور عوام وہ ہی سننا چاہتی ہو۔ ہجوم یعنی ماسز کا کوئی خاص نقطہ نظر نہیں ہوتا کیونکہ وہ فکری اور شعوری طور پر اتنے قابل نہیں ہوتے کہ اپنا کوئی بیانیہ بنائیں۔ معاشرے میں بہت سے گروہ ہوتے ہیں اور گروہ کا اپنا اپنا بیانیہ ہوتا ہے اور اس بیانیہ کی اس گروہ سے جڑے لوگ پیروی کرتے ہیں۔

مشہور بیانیہ یعنی پاپولر نیریٹیو کے مقاصد بہت سارے ہوسکتے ہیں۔ بیانیہ ترتیب دیا جاتا ہے اور اس کے بعد اس کے حوالے سے بات ہوتی ہے۔ معاشرے کا بڑا طبقہ فکر و شعور سے بہت دور ہے مگر وہ ماسز یعنی ایسے ہجوم کا حصہ ہے جس کو کوئی نہ کوئی شخص یا عقیدہ چلا رہا ہوتا ہے۔ یہ ہجوم کسی نہ کسی گروہ کی شکل میں موجود ہوتے ہیں۔

مذہبی گروہ کے لئے مسجد کا ایک عام مولوی کچھ بھی کہے تو وہ مان لیتے ہیں کیونکہ اس گروہ کے افراد کے نزدیک وہ شخص سب سے زیادہ بلند مرتبہ پر ہے۔ اس طرح سیاسی گروہ کے لئے ان کا سیاسی لیڈر کچھ بھی حکم دے تو وہ حرف آخر ثابت ہوتا ہے اور گروہ کے افراد کٹ مرنے پر تیار ہوتے ہیں۔ بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو خود سوچنے یا سمجھنے کے قائل ہوتے ہیں۔ وہ ہی لوگ سوچتے ہیں جو فکری طور پر آزاد ہوتے ہیں اور ان کا اپنا بیانیہ ہوتا ہے۔

پاکستان میں بھی مختلف قسم کے بیانیہ موجود ہیں اور بیانیہ وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔ جیسے کے حال ہی میں مینار پاکستان لاہور میں ایک واقعہ پیش آیا جس میں ایک ٹک ٹاکر خاتون کے ساتھ درجنوں مردوں نے دست درازی کی۔ جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔

پہلے پہل تو اس واقعے کے بارے میں شدید احتجاج ہوا، مگر آہستہ آہستہ ایک بیانیہ پروان چڑھا جس میں لڑکی کو ہی قصور وار بنا دیا گیا اور یہ بیانیہ معاشرے کے ان چند لوگوں نے قائم کیا جن کو لاکھوں لوگوں سنتے ہیں۔ ان میں صحافی، لکھاری اور مذہبی رہنما بھی شامل تھے۔ اس طرح ایک بیانیہ زبان زد عام ہو گیا جس میں لڑکی کو ہی قصور وار قرار دیا گیا اور نامناسب حرکات کرنے والوں کو کلین چٹ دے دی گئی۔

چند ہفتے پہلے اسلام آباد میں بھی ایک لڑکی نور مقدم کا بہیمانہ انداز میں قتل ہوا تھا۔ اس قتل پر بہت شور اٹھا اور 2 ہفتے تک قاتلوں کو فوری سزائیں دینے کے لئے لاکھوں موثر آوازیں اٹھتی رہی۔ مگر اچانک سے ایک اینکر اٹھتا ہے اور ڈھلکے چھپے الفاظ میں اس قتل ہونے والی لڑکی کو ہی قصور وار قرار دینے کی کوشش کرتا ہے۔

اس اینکر کو لاکھوں لوگ سنتے ہیں اور پھر یہ بیانیہ ان لاکھوں بنجر ذہنوں میں جاتا ہے۔ ظلم کی بات یہ ہے کہ جو ذہن چند دن پہلے اس لڑکی کے قتل کی مذمت کر رہے تھے مگر اب وہ ہی ذہن مذمت سے پہلے کیا، کیونکہ، چنانچہ اور ممکنہ کے الفاظ شامل کر رہے ہیں۔ یعنی اس بیانیہ نے ظالم کو بے نقاب کرنے کے بجائے مظلوم پر ہوئے ظلم کو ہی سوال بنا دیا ہے۔

معاشرے میں اس طرح کے بہت سے کیسز گزشتہ دور میں بھی پروان چڑھے تھے، جس میں قندیل بلوچ کا کیس سرفہرست تھا۔ ہمارا معاشرہ عام طور پر پدر شاہی معاشرہ ہے جس میں بیانیہ وہ ہی پروان چڑھتا ہے جس میں مردوں کو سہولت حاصل ہو۔ کیونکہ اگر حقیقی بیانیہ بیان ہونا اور ذہنوں میں ڈلنا شروع ہو گیا تو معاشرے کے بے شمار مرد اس کی لپیٹ میں آئیں گے اور پھر اس سے بہت سے چہرے بے نقاب ہوجائیں گے۔

داخلی مسائل کے بیانیہ کے ساتھ ساتھ خارجی مسائل پر بھی بیانیہ قائم کیا جاتا ہے۔ جیسے کے افغانستان کے معاملے میں ایک مشہور بیانیہ ہے کہ افغانستان میں طالبان جیت گیا، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ایک بیانیہ ہے کہ امریکہ کو کچھ نقصان تھوڑی پہنچا، نقصان تو طالبان اور افغانستان کا ہوا ہے یعنی امریکہ جیت گیا۔ لیکن کیونکہ طالبان کے حق میں پاپولر بیانیہ ہے اس لئے یہ ہی بیانیہ اکثریت نے قبول کیا کہ طالبان جیتا اور امریکہ ہارا۔

سماجی گروہ، مسلک، تنظیموں، سیاسی پارٹی کا اپنا اپنا بیانیہ ہوتا ہے اور وہ اپنے بیانیہ کے ساتھ معاشرے میں چلتی ہے اسی طرح خود ساختہ بیانیہ قائم کرنا ایک مشکل سلسلہ ہے اور یہ ہر کسی کے لئے ممکن بھی نہیں اس کے لئے تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ مشاہدے و تجزیے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ پاکستان میں حیرت انگیز طور پر پاپولر بیانیہ ہی مشہور ہوتا ہے اور حقائق پر مبنی بیانیہ کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہتی یا پھر اس کو سمجھنے والوں کی تعداد بہت قلیل ہے جس کی وجہ سے معاشرتی اقدار میں تنزلی ہو رہی ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments