روبوٹ 420 (ایک ایکٹ کا ڈراما)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

(پیشکار تھیٹر کمپنی (Peshkar) نے یہ ڈرامہ جون۔ جولائی1992ءمیںورنتھ پارک اولڈہم (Werneth Park, Oldham) اور ابراہم موس سنٹر چیتم ہل، مانچسٹر (Abraham Moss Centre Cheetham Hill, Manchester) میںپیش کیا۔ یہ جین کریو (Jan Crew) کے کھیل Robot TS137 سے ماخوذ ہے۔ ])

کردار

مرزا

نادرہ (بیگم مرزا)

روبوٹ

مسٹر اور مسز چوہدری

پہلا منظر

(مرزا کا گھر۔ مرزا ایک آرام کرسی پر بیٹھا اخبار پڑھ رہا ہے۔ نادرہ کی آواز سنائی دیتی ہے)

نادرہ: میں تو تنگ آچکی ہوں۔ ایسے کب تک چلے گا؟ میری حیثیت ایک نوکرانی کی سی ہو گئی ہے۔ (داخل ہوتی ہے) ناشتہ بناﺅ، کام پہ بھی جاﺅ۔ واپس آﺅ تو پھر کام شروع۔ حد ہو گئی۔ 2092ءآگیا لیکن ہم عورتوں کی حالت وہی کی وہی۔

مرزا: O, stop it Nadira. I’ve told you, we’re going to have another house robot soon.

میرا مطلب ہے جیسے ہی کوئی ڈھنگ کا روبوٹ ملا، خرید لیں گے، گھر کے کام کاج کے لیے۔

نادرہ: یہ تو آپ کئی ہفتوں سے کہہ رہے ہیں۔

مرزا: I wish I could get the old one repaired.

ارے، انگریزی بولنے کی ایسی عادت پڑ گئی ہے کہ گھر میں بھی اس سے جا ن نہیں چھوٹتی۔ میں یہ کہہ رہا تھا ، کاش ہم پرانے روبوٹ کی مرمت کرا سکتے۔

نادرہ: وہ روبوٹ؟ ہونہہ، بالکل بیکار۔ روٹی پکائے تو جلا دے، چاول کچے اتار لے، برتن آدھے توڑ دیے اُس نے۔ میرے تو اعصاب پر سوار ہو گیا تھاوہ۔ شکر ہے خراب ہو گیا۔

مرزا: چلو نیا خرید لیں گے، بہت جلد۔

نادرہ: نہیں، ابھی اور اسی وقت۔ پرسوں مہمان آرہے ہیں۔

مرزا: لیکن۔ ۔ ۔

نادرہ: لیکن ویکن کچھ نہیں۔ سیدھا مارز اینڈ جوپیٹر پہ چلیں۔ اپنی مسز چوہدری وہیں سے ایسا ماڈل لائی تھیں جو کھانا پکانے اور برتن دھونے سے لے کر کپڑے سینے تک گھر کا ہر کام کرتا ہے۔ اور ایسا کرتا ہے…. کہ…. بھئی واہ!

مرزا: نادرہ، چوہدریوں سے ہمارا کیا مقابلہ؟ خیر چلو، مارز اینڈ جوپیٹر۔ وہاں ہماری جیب لائق بھی کچھ نہ کچھ مل ہی جائے گا…. ضرور۔ (بیرونی دروازے کی طرف چلنے لگتا ہے)

نادرہ: جیب لائق۔ جب اپنے لیے کچھ خریدنا ہو تو چیز دیکھتے ہیں اور جب میں کچھ  لینے کو کہوں…. تو جیب…. ہونہہ۔ (دونوں باہر چلے جاتے ہیں)

فیڈ آﺅٹ

***

دوسرا منظر

(مارز اینڈ جوپیٹر (Mars & Jupiter) سٹور۔ سیلز مین، مسٹر اور مسز مرزا ، متعدد روبوٹ)

سیلز مین: آﺅ آﺅ مرزا جی، کونسا روبوٹ چاہیے؟ ہمارے پاس ہر قسم کے ہیں۔ (خود سے: سوائے اچھے والے)

مرزا : دیکھو بھئی مسٹر جوپیٹر، پہلے سے ہی بتا دوں۔ ہمیں زیادہ خرچ نہیں کرنا۔ بس ایک ایسا روبوٹ چاہیے جو گھر کا کام بھی کرے اور کھانا بھی پکائے۔

سیلز مین:  What a pity. Anyway

ٹھیک ہے، ٹھیک ہے۔ (خود سے: کنجوس)

مرزا : کیا؟

سیلز مین: ہمارے پاس کچھ بالکل نئے ماڈل ہیں۔ یہ دیکھو۔ یہ خوشدل ہے۔ یہ آج صبح ہی آیا ہے۔

خوشدل: کیا بکواس ہے۔ میں دو سال پہلے آیا تھا۔ (مسٹر اور مسز مرزا ایک دوسرے کو حیرت سے دیکھتے ہیں)

سیلز مین: یہ مذاق کرتا ہے اور آپ کو خوش رکھتا ہے۔ (خوشدل کو چپت لگاتا ہے جو کھلکھلاتا ہے) دیکھو، یہ کتنا خوشدل ہے۔ (روبوٹ سے: مذاق کے معاملے میں محتاط رہو ورنہ آج رات تمہاری بیٹری چارج نہیں کروں گا۔ )

نادرہ: نہیں مرزا، ہمیں ایسا روبوٹ نہیں چاہیے۔

سیلز مین: میں آپ کو کچھ اور دکھاتا ہوں۔ میرے پاس ایک ایسا روبوٹ ہے جو کتے کو سیر کرانے لے جائے گا اور بچوں کی دیکھ بھال بھی کرے گا۔

نادرہ: ہمارے پاس بچے یا کتا نہیں ہے۔

سیلز مین: اوہ۔ میرے پاس روبوٹ بچہ ہے۔ دیکھیں گے؟ (ایک روبوٹ بچہ آگے کرتا ہے)۔ یہ رہا۔ یہ آپ سے بات کرے گی، کھیلے گی، گائے گی، ناچے گی…. ایک عام بچے کی طرح۔ (روبوٹ بچہ کچھ حرکت کرتا ہے۔ )

نادرہ: واہ، کتنی پیاری ہے! (مرزا کی طرف دیکھتی ہے جو روبوٹ ملازمہ کو دیکھ رہا ہے)

مرزا : ہاں، واقعی، یہ تو ہے۔ (روبوٹ ملازمہ کی طرف ایک قدم بڑھاتا ہے، نادرہ کو دیکھتا ہے جو برہم ہے)

سیلز مین: ہاں، تمہیں ایسا ہی کچھ چاہیے۔ یہ گھر کا سب کام کرے گی۔ یہ پرانے زمانے کی ملازمہ ہے جب امیر لوگوں کے نوکر ہوتے تھے۔

مرزا: بہت خوب، بہت خوب۔

سیلز مین: لیکن تم صرف اسے نہیں خرید سکتے۔ یہ ایک سیٹ کا حصہ ہے: خانساماں ، ملازم ، مالی اور ملازمہ۔

نادرہ: نہیں شکریہ۔ ہمیں سیٹ نہیں چاہیے۔ ہمیں صرف ایک اچھا، جدید روبوٹ چاہیے۔

سیلز مین: میرا خیال ہے میرے پاس بالکل ایسا ایک ہے۔ (ایک اور روبوٹ دکھاتا ہے) یہ بہت مقبول ماڈل ہے۔ اِسے ’پینو‘ کہتے ہیں۔

پینو: میں کھانا پکا سکتی ہوں، کپڑے دھو سکتی ہوں، گھر کی صفائی کر سکتی ہوں اور سودا سلف لا سکتی ہوں۔ مجھے بتائیں کیا کرنا ہے اور میں وہ کروں گی۔

نادرہ: ہاں، مرزا، یہی تو ہمیں چاہیے۔

پینو: مجھ پر بہت کم خرچ ہوتا ہے اور میری قیمت بھی بیشتر نئے روبوٹوں سے بہت کم ہے: صرف تیس ہزار پاﺅنڈ۔

مرزا: تیس ہزار پاﺅنڈ! تم مذاق کر رہی ہو۔

سیلز مین: آپ نے سیکنڈ ہینڈ دکان پہ جانے کا سوچا ہے؟

مرزا: ٹھہرو۔ یہ روبوٹ کیسا ہے؟

سیلز مین: وہ جو کونے میں ہے؟ (روبوٹ کے پاس جا کر اُس پر سے گرد صاف کرتا ہے) یہ بہت پرانا ماڈل ہے۔

مرزا: یہ کیا کر سکتا ہے؟

سیلز مین: گھر کی صفائی کرسکتا ہے اور میز پر چیزیں پیش کر سکتا ہے۔ لیکن ایک مسئلہ ہے۔

مرزا: وہ کیا؟

سیلز مین: اس کا پروگرام سیٹ کرنا پڑتا ہے۔ اسے کچھ کرنے کو کہیں اور یہ وہ کام اچھے سے کرے گا۔ ۔ جب تک وہ کام اس کے پروگرام میں ہو۔ جدید روبوٹ خود سے سوچ سکتے ہیں لیکن یہ نہیں۔

نادرہ: یعنی جو جو کام اس سے لینے ہوں وہ پہلے سے ہی اس میں بھرنے پڑیں گے۔ ان کے علاوہ یہ کوئی کام نہیں کرے گا۔ نہیں بھئی نہیں، یہ نہیں چلے گا۔

مرزا: نہیں نادرہ، میرا خیال ہے کہ یہ ہمیں سوٹ کر سکتا ہے۔ میں اِس کے لیے ایک بہت اچھا پروگرام بنا دوں گا، اُن سارے کاموں کے لیے جن کی ہمیں ضرورت ہوتی ہے۔ ہر روز ایک جیسے کام تو ہوتے ہیں۔ (سیلز مین سے) ہاں، میرا خیال ہے یہ ٹھیک رہے گا۔ کیا قیمت ہے اِس کی؟

سیلز مین: اوہ، یہ بہت سستا ہے، صرف دو ہزار پاﺅنڈ۔

مرزا: بہت خوب! زبردست! دیکھو نادرہ، ہم نے کتنے پیسے بچا لیے۔ میں نئی کار خرید سکتا ہوں۔ (سیلز مین سے) میں پیسے ابھی دیتا ہوں اور کل دوپہر کو اپنے سارے کاموں کا پروگرام لے آﺅں گا۔ کیا یہ ہمیں کل شام تک مل سکتا ہے؟

سیلز مین: بالکل۔ اور جب کبھی آپ اِس کا پروگرام بدلنا چاہیں، اِسے یہاں لا سکتے ہیں۔

مرزا: ٹھیک ہے!

نادرہ: (آہ بھر کے) چلو کچھ نہ ہونے سے تو بہتر ہے۔ (سیلز مین سے) اِس کا کوئی نام ہے؟

سیلز مین: اِسے بس چار سو بیس کہتے ہیں۔

فیڈ آﺅٹ

***

تیسرا منظر

(مرزا کا گھر)

مرزا: دیکھو نادرہ، اِسی روبوٹ سے کام لینا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ ہمارے لیے کافی مناسب ہے۔ کیا پتہ یہ چوہدریوں کے روبوٹ سے بھی اچھا کام کرے۔

روبوٹ: برتن دھو ڈالے۔ اگلا کام…. اب فرنیچر صاف کروں گا (آوازیں)۔

نادرہ: خدا بچائے اِس کی آوازوں سے۔ اتنا شور کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ میرا تو ناک میں دم آگیا ہے۔ ( مرزا اور نادرہ کچھ دیر کے لیے کمرے سے باہرچلے جاتے ہیں تاکہ روبوٹ فرنیچر صاف کر سکے۔ روشنیاں مدھم ہو تی ہیں…. دوبارہ روشن ہوتی ہیں)

روبوٹ: فرنیچر صاف ہو گیا۔ اگلا کام (آوازیں)۔ اب میں کمرہ صاف کروں گا۔ (ایک وائپر کے ساتھ کمرہ صاف کرنے لگتا ہے۔ مرزا اور نادرہ واپس آتے ہیں)۔

مرزا: تمہاری تو کبھی تسلی نہیں ہوتی۔ یہ آوازیں جو چار سو بیس سے آتی ہیں، یہ بتاتی ہیں کہ وہ اگلا کام شروع کرنے والا ہے۔ لگتا ہے کہ واقعی کچھ ہو رہا ہے۔

نادرہ: میں تو اب بھی یہی کہوں گی کہ اِسے بدل کے کوئی دوسرا لے آئیں۔

روبوٹ: کمرہ صاف ہو گیا۔ اب کوڑا کچرا باہر پھینکنے جاتا ہوں۔ (چلا جاتا ہے)

مرزا: دیکھا، کیسا کام کر رہا ہے؟ کیا شاندار روبوٹ ہے! تمہارا ہر کام تو کرتا ہے۔

نادرہ: لیکن یہ پہلے سے سیٹ کیے ہوئے پروگرام کے مطابق ہی کام کرتا ہے۔ اگر کچھ اور کرنے کو کہو تو سنتا ہی نہیں۔ (کوڑا کچرا پھینکے جانے کی آوازآتی ہے)

مرزا: سنا؟ کوڑے کچرے کو کیسا ٹھکانے لگا رہا ہے؟

روبوٹ: کوڑا کچرا گیا۔ اگلا کام۔

نادرہ: ابھی کام ہی کیا کیا ہے اِس نے۔ نہ برتن دھوئے، نہ کھانا پکایا۔ ابھی تو سبزی بھی کاٹنی ہے۔ چاول تک نہیں بھگوئے، اور آپ بیٹھے اس کی حمایت کرتے رہتے ہیں (اس سے اخبار چھین لیتی ہے)۔ آپ کو اخبار پڑھنے کے علاوہ کوئی کام نہیں۔ اٹھیں اور اپنے اس چہیتے کی مدد کریں۔ مہمان کسی وقت بھی آسکتے ہیں۔

مرزا: O, stop it Nadira ایسی بھی کیا جلدی ہے؟ آپ کے دادا جان کی گھڑی تو ابھی دس ہی بجا رہی ہے اور مہمانوں نے ایک بجے آنا ہے۔

فیڈ آﺅٹ

***

چوتھا منظر

(مرزا اور نادرہ بیٹھے ہیں۔ روبوٹ داخل ہوتا ہے)

 روبوٹ: کھانا تیار ہو گیا۔ پلاﺅ، چکن، قورمہ، چنا مسالہ، کھیر اور رس گلے۔

مرزا: دیکھا، کیسا زبردست روبوٹ ہے؟ کھانا سب پک گیا۔ اور تمہارے مہمان؟ بہرحال، وہ جب بھی آئیں گے، ہمارے روبوٹ سے بہت متاثر ہوں گے۔

نادرہ : ہونہہ۔ (دروازے کی گھنٹی بجتی ہے۔ مرزا اٹھ کے دروازہ کھولتا ہے)

مرزا: آہ، مسٹر اینڈ مسز چوہدری۔ آپ کا انتظار تھا۔ آئیے آئیے۔ (مہمان اندر آتے ہیں)

مسٹر چوہدری: سو مرزا، آپ کا نیا روبوٹ کیسا ہے؟

مرزا: (حیران ہوکر) اوہ، وہ زبردست ہے۔ نادرہ اس سے بہت خوش ہے۔

مسٹر چوہدری: کتنے کا ملا؟

مرزا: پہلے آرام سے بیٹھ جائیں، پھر بات کرتے ہیں۔

مسز چوہدری: او، یہ والا؟ ہم نے دکان پہ دیکھا تھا۔

مسٹر چوہدری: (مسز چوہدری سے۔ سرگوشی میں) ہمارا اس سے زیادہ مہنگا ہے، تو ظاہر ہے اس سے بہتر ہے، نہیں؟

مرزا: یہ پرانے والے سے تو بہتر ہے۔ ہمیں اس نے بہت تنگ کیا تھا۔ یاد ہے نادرہ؟

نادرہ : یاد نہ دلائیں۔

مسز چوہدری: یہ کچھ پرانا نہیں؟

مرزا: ذرا سنیں۔ آپ کو پسند آئے گا۔ (مرزا روبوٹ کے پاس جاکے اس کا پروگرام دباتا ہے۔ گانے کی آواز آتی ہے)

مسٹر اور مسز چوہدری: او، یہ بہت اچھا ہے۔ ہمیں آپ کو نئے روبوٹ کی مبارک باد دینی چاہیے۔

مرزا: (زیادہ پُر اعتمادہوتے ہوئے) کچھ ڈرنک ہو جائیں نادرہ؟ کھانے سے پہلے؟

 نادرہ : ہاں، ہم چار سو بیس کو کس ڈرنک کا کہہ سکتے ہیں؟

مرزا: میرا خیال ہے کوئی بھی۔ (روبوٹ کے پاس جاتا ہے اور اسے مشروبات کے لیے پروگرام کرتا ہے)

روبوٹ: ڈرنک، سپرنگ واٹر یا نلکے کا پانی۔

مرزا: کیا؟ (مہمانوں کی طرف مڑتا ہے) میں دوبارہ کوشش کرتا ہوں۔

روبوٹ: (دوبارہ) ڈرنک، نلکے کا پانی، سپرنگ واٹر۔

مرزا: اوکے، کیا چلے گا؟ نلکے کا پانی یا سپرنگ واٹر؟ (ڈرنک آرڈر کرتا ہے۔ روبوٹ آوازیں پیدا کرنی شروع کرتا ہے)

نادرہ : What a racket.

مرزا: لیکن یہ میرا آرڈر لانے کی تیاری کر رہا ہے۔ (روبوٹ ایک ٹرے پر بوتلیں رکھ کے لاتا ہے) گلاس کہاں ہیں؟ (روبوٹ بوتلوں سے مشروب ٹرے میں ڈالنا شروع کر دیتا ہے)

مسٹر اور مسز چوہدری: رکو، رکو۔ یہ سب ہمارے کپڑوں پہ گر رہا ہے۔

مسٹر چوہدری: ( مسز چوہدری سے، سرگوشی میں) میرا خیال ہے ہمیں چلنا چاہیے ورنہ ہم نلکے کے پانی اور سپرنگ واٹر میں ڈوب جائیں گے۔ (مسز چوہدری اثبات میں سر ہلاتی ہے۔ ) آئی ایم سوری، مجھے یاد آیا، مجھے ایک بہت ضروری فون کرنا ہے ۔ ہمیں جانا ہو گا۔

مرزا : نہیں، رکیے، پلیز۔

نادرہ : رکیے، پلیز۔ کھانا تیار ہے۔

مسٹر چوہدری: نہیں، پھر کبھی ۔

نادرہ : آئی ایم سوری، آپ کھانے کے لیے نہیں رک سکتے۔ روبوٹ کا پروگرام غلط ہو جانے پر بہت معذرت۔

مسٹر چوہدری: اگر میں آپ کی جگہ ہوتا تو روبوٹ کو دکان پہ لے جا کے اسے ٹھیک کراتا۔

مسز چوہدری: بائی دی وے، اس نے کو نسا گانا سنایا تھا؟ بہت اچھا تھا۔

نادرہ : ٹھیک سے یاد نہیں۔ پھر آئیے گا کبھی، جلدی۔

مسز چوہدری: ضرور۔ (مسٹر اور مسز چوہدری: چلے جاتے ہیں)

نادرہ : کسی بات کی کوئی انتہاہوتی ہے۔ مجھے آج تک اتنی شرمندگی نہیں ہوئی۔ (روبوٹ داخل ہوتاہے)

مرزا : تمہیں تو بہانہ چاہیے اس روبوٹ پہ تنقید کرنے کا۔

نادرہ : مت حمایت کرو اس پرانے، لوہے کے بدصورت ڈھیر کی۔

مرزا : دیکھو، یہ روبوٹ کا قصور نہیں تھا۔ اگر کسی کی غلطی تھی تو میری تھی۔ یہ تو صرف میرے حکم پر عمل کررہا تھا۔

نادرہ : اگر ایسا ہے تو پھر میں ایک آرڈر تجویز کرتی ہوں جو تم اسے دو گے۔

مرزا : وہ کیا؟

نادرہ : اسے حکم دو کہ گھر سے دفان ہو جائے اور اپنے آپ کو کوڑے کے نزدیک ترین ڈھیر پر جا گرائے۔

مرزا :کیا؟ جس روبوٹ کے میں نے دو ہزار پاﺅنڈ دیے؟ ضرور تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے۔

نادرہ : اب اِس گھر میں یہ روبوٹ رہے گا یا میں۔ کان کھول کے سن لو مرزا صاحب۔ اتنے سال میں نے تمہاری ہر اچھی بری برداشت کی۔ تم بہت خود غرض، کمینے اور ڈھیٹ انسان ہو۔ تم اپنے علاوہ کبھی کسی اور کے بارے میں نہیں سوچتے۔

مرزا : مجھے اپنے بارے میں سوچنا پڑتا ہے کیونکہ کوئی اور میرے بارے میں نہیں سوچتا۔

نادرہ : مجھے پتہ نہیں آخر تم نے شادی کی ہی کیوں تھی؟ تمہیں بیوی چاہیے ہی نہیں تھی۔ تمہیں تو ۔ ۔ ۔ بس۔ ۔ ۔ ایک روبوٹ چاہیے تھا۔ ۔ ۔ جو نہ بحث کرتا ہو نہ تنقید۔ جو اپنے بارے میں نہ سوچتا ہو۔ بس تمہارے کام کرتا رہے۔

مرزا : شاید تم ٹھیک کہہ رہی ہو۔ میں تمہارے ہر وقت کے رونے دھونے سے عاجز آ چکا ہوں۔

نادرہ : تو ٹھیک ہے۔ تم اپنا روبوٹ سنبھالو، میں میکے جا رہی ہوں، ابھی اور اِسی وقت۔ (چلی جاتی ہے)

فیڈ آﺅٹ

***

پانچواں منظر

(دو ہفتے بعد۔ مرزا اپنے روبوٹ کے ساتھ اکیلا ہے۔ کرسی پر بیٹھا ہے۔ اخبار کھولتا ہے۔ )

مرزا : یہ ہے زندگی! سکون اور خاموشی۔ اب میں جو چاہوں کر سکتا ہوں۔ اخبار پڑھوں یا سیر کو جاﺅں، کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں۔ بس یہ عمدہ روبوٹ، اپنے کاموں میں مصروف۔ (اخبار پڑھتا ہے جبکہ روبوٹ ناشتے کے برتن اٹھا کے لے جاتا ہے۔ مرزا کلاک کو دیکھتا ہے جو رکا ہوا ہے) اوہ، یہ کلاک اتنے دنوں سے خراب پڑا ہے۔ مجھے نفرت ہے پرانے فیشن کی چیزوں سے۔ نادرہ کو بڑا عزیز تھا یہ کلاک، کیونکہ یہ اُس کے دادا جان کی نشانی ہے۔ میں کل ہی جا کے بالکل نئے ماڈل کا کلاک لاﺅں گا۔ (کلاک کو دیکھتا رہتا ہے) چلو فی الحال اسے ہی چابی دے دیں۔ (کرسی پر کھڑا ہو کے کلاک تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے۔ اچانک پھسلتا ہے اور فرش پر آ رہتا ہے۔ ) اوہ، مر گیا…. لگتا ہے میری ٹانگ کو کچھ ہو گیا ہے۔ شاید ہڈی ٹوٹ گئی ہے…. ہائے….۔ میں تو کھڑا بھی نہیں ہو سکتا۔ فون تک کیسے جاﺅں؟ (کھڑا ہونے کی کوشش کرتا ہے لیکن ہل بھی نہیں سکتا۔ ) نہیں، کوئی فائدہ نہیں۔ (روبوٹ ڈسٹر لے کے آتا ہے۔ )

روبوٹ: ناشتے کے برتن صاف ہو گئے۔ اگلا کام۔ (آوازیں) اب میں فرنیچر صاف کروں گا۔ (فرنیچر صاف کرنے لگتا ہے۔ )

مرزا: چار سو بیس، میری کچھ مدد کرو۔ میں ہل بھی نہیں سکتا۔ (روبوٹ کوئی توجہ نہیں دیتا اور صفائی کرتا رہتا ہے۔ پھر باہر جاتا ہے اور واپس آتا ہے۔ )

روبوٹ: فرنیچر صاف ہو گیا۔ اگلا کام۔ (آوازیں) اب میں کمرہ صاف کروں گا اور سارا کوڑا کچرا گٹر میں ڈال دوں گا۔

مرزا: کوڑا کچرا ؟ اوہ….نہیں…. میں تو فرش سے نہیں اٹھ سکتا۔ یہ سمجھے گا میں کوڑے کا ڈھیر ہوں…. احمق…. لوہے کا بدھو۔ اسے فرق ہی پتہ نہیں چلتا ۔ فرش پہ جو بھی چیز پڑی ہو، یہ اُسے کوڑا ہی سمجھے گا۔ یہ سوچ نہیں سکتا۔ بےوقوف۔ پہلے سے دیے ہوئے پروگرام کا غلام۔ (روبوٹ مرزا کی طرف آتاہے اور رک جاتا ہے۔ اس پر جھکتا ہے اور اسے اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔ پھر اسے کھینچتا اور گھسیٹتا ہے۔ ) رکو…. ہٹو…. میں کوڑا کچرا نہیں ہوں، احمق! میں تمہارا مالک ہوں…. چھوڑو…. ( روبوٹ ایک نہیں سنتا اور مرزا کو گھسیٹتا ہوا کمرے سے باہر لے جاتا ہے۔ )

 فیڈ آﺅٹ


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
Subscribe
Notify of
guest
1 Comment
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments