آئی جی پنجاب سے چند گزارشات!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سابق دور حکومت میں مسلم لیگ نون نے پانچ سالوں میں تین چیف سیکرٹری اور چار آئی جی تبدیل کیے تھے لیکن اس کے برعکس پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اپنے تین سالہ دور اقتدار میں پانچ چیف سیکرٹری اور سات آئی جی پولیس تبدیل کیے ہیں جو ایک ریکارڈ ہے۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق نئے تعینات ہونے والے آئی جی پنجاب راؤ سردار علی خان 21 فروری 1965 ء میں ضلع لودھراں میں پیدا ہوئے انہوں نے لاہور کی کنگ ایڈورڈ یونیورسٹی سے ایم بی بی ایس بھی کیا اور انہوں نے 1990 ء میں پولیس سروس جوائن کی آئی جی پنجاب اپنی 31 سالہ پولیس سروس میں مختلف اہم عہدوں پر تعینات رہے وہ چاروں صوبوں سمیت وفاق میں بھی اپنی خدمات سر انجام دے چکے ہیں۔

حکمران جماعت نے جب تین سال قبل زمام اقتدار سنبھالا تو کلیم امام آئی جی پنجاب تھے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے تین ماہ بعد انہیں اس عہدے سے ہٹا کر محمد طاہر کو تعینات کر دیا ایک ماہ بعد انہیں بھی ہٹا دیا گیا اور امجد سلیمی کو یہ عہدہ سونپ دیا گیا تاہم چھ ماہ بعد امجد سلیمی کو بھی عہدے سے ہٹا دیا گیا اور ان کی جگہ عارف نواز تعینات ہو گئے لیکن سات ماہ بعد یہ عہدہ شعیب دستگیر کو سونپ دیا گیا نو ماہ بعد یہ بھی تبدیل کر دیے گئے اور انعام غنی کو یہ ذمہ داری دے دی گئی لیکن انعام غنی کی کارکردگی بھی وزیر اعلی عثمان بزدار کو مرعوب نہ کر سکی اور اب راؤ سردار علی خان کو ساتویں آئی جی کی کمان سونپ کر پولیس کا صوبائی سربراہ مقرر کیا گیا۔

پنجاب کے ترجمان فیض الحسن چوہان کی جانب سے میڈیا کو بتایا گیا تھا کہ میڈیا بھی دیکھ رہا کہ ہائی پروفائل کرائم میں اضافہ ہوا ہے اور اس کی روک تھام کے لئے تبدیلی ناگزیر سمجھی گئی۔ پنجاب میں ساتویں انسپکٹر جنرل پولیس کی تعیناتی نے جہاں حکمران جماعت کی گورننس پر سوالات اٹھائے ہیں وہیں پولیس سروس کے اندر سے بھی اٹھنے والی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ پنجاب پولیس کی موجودہ صورتحال بہت مایوس کن ہے اگر پولیس کے محکمہ میں حسب سابق سیاسی مداخلت رہی تو محکمہ پولیس کی افادیت متاثر ہوتی رہے گی اور پھر اس ادارہ کی خود مختاری کو کون یقینی بنائے گا کسی بھی فورس کے لئے ضروری ہے کہ اس میں بھرتیوں کا عمل شفاف ہو اور میرٹ پر پرموشن اور تبدیلیاں کی جائیں۔

میری اس کالم کے توسط سے آئی جی پنجاب سے چند گزارشات ہیں کسی بھی مہذب معاشرے میں پولیس کا کردار جرائم کو کنٹرول کرنے اور امن عامہ کے قیام کے لئے بہت اہم اور قابل احترام ہوتا ہے کیونکہ پولیس معاشرے میں جرائم کی روک تھام اور امن قائم کرنے کا عہد اٹھاتی ہے لیکن بد قسمتی ہے کہ محکمہ پولیس کی مجموعی کارکردگی اور رویہ ناقابل ستائش ہے۔ جدید ٹیکنالوجی اور اختیارات سے لیس پولیس فورس کو عوام دوست بنانے میں کون سے محرکات حائل ہیں محکمہ پولیس کی استعداد کار میں مثبت اضافہ ’فلاح و بہبود‘ اصلاحات ’امن عامہ کے قیام اور سائل کو بلا تعطل انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے ہر سال بجٹ میں خطیر رقم مختص کی جاتی ہے لیکن اس کے باوجود عام آدمی پر عدم تحفظ کی چادر تنی ہے یقین سے کہہ سکتا ہوں اگر پولیس اور عوام کے درمیان قائم خلیج کو ختم کر دیا جائے اور پولیس اپنے عملی کردار سے اپنے آپ کو عوام دوست ثابت کر دے تو سانحہ ماڈل‘ اخروٹ آباد ’نقیب اللہ محسود‘ سانحہ موٹر وے ’سانحہ ساہیوال جیسے واقعات سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بن کر کبھی بلیک ڈے کے نام سے یاد نہ کیے جائیں۔

پولیس آرڈر 2002 ء کا مقصد پولیس کو جوابدہ‘ خود مختار ’پیشہ ور اور سیاسی مداخلت سے پاک بنانا تھا لیکن تاحال یہ پولیس آرڈر عمل سے عاری ہے۔ محکمہ پولیس کو فعال بنانے کے لئے اہلیت کی بنیاد پر نئی بھرتیاں عمل میں لانے کی اشد ضرورت ہے قانون سازی کے ذریعے نا اہل‘ کرپٹ پولیس آفیسرز اور اہلکاروں کو محکمہ سے فارغ کیا جانا چاہیے تاکہ ذیشان کاظمی ’عابد باکسر‘ نوید سعید اور راؤ انوار جیسے کردار دوبارہ جنم نہ لے سکیں۔

اکیسویں صدی کے لاء اینڈ آرڈر اور جرائم سے متعلقہ چیلنجز سے احسن اور بھر پور طریقہ سے نمٹنے کے لئے جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہے۔ جب تک پولیس کے واچ اینڈ انویسٹی گیشن نظام کو جدید خطوط پر استوار نہیں کیا جاتا تب تک معاشرے میں امن کے خواب کو تعبیر نہیں مل سکتی پولیس کلچر اسی صورت تبدیل ہو سکتا ہے جب تھانے کی چار دیواری تک عام سائل کی بغیر سہارے رسائی ممکن ہو گی محکمہ پولیس سے عام آدمی کے خائف ہونے کی بڑی وجہ یہی ہے کہ پولیس کی تربیت میں عملی طور پر ایسے رویوں کی آبیاری نہیں کی گئی جس سے عوام اور پولیس کے درمیان روابط مضبوط ہوں پنجاب میں پولیس افسران کی ہدایت پر اب تک ہزاروں کی تعداد میں کھلی کچہریوں کا انعقاد ہو چکا ہے لیکن عام سائل آج بھی انصاف کے لئے دربدر ہے اس کی بڑی وجہ محکمہ پولیس کے متضاد عمل و کردار سے پولیس کلچر کا تبدیل نہ ہونا ہے پولیس تھانہ میں تعینات ایس ایچ او کے مواخذہ اور احتساب کا جب تک پیمانہ طے نہیں کیا جائے گا تب تک پولیس رویہ عوام سے دوری کا سبب بنا رہے گا۔

بہر حال موجودہ حکومت کو بھی ادراک کرتے ہوئے ان محرکات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے جن کے باعث محکمہ پولیس کی کارکردگی معاشرے کو اعتماد نہ بخش سکی ایسی اصلاحاتی پالیسیاں لانا ہوں گی جن کی عملداری سے اداروں کی آزادی پر قدغن نہ آئین تین سالوں میں چھ آئی جی تبدیل کرنے کا مطلب ہے کہ کسی کو بھی کام کرنے کا پورا موقع نہیں دیا گیا کسی بھی ادارے کو مضبوط کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اسے خود مختاری کے ساتھ کام کرنے دیا جائے سیاسی قیادت کا کام محکمہ کو پالیسی دینا ہے تا کہ عوام کے مسائل حل اور ان میں کمی واقع ہو سکے سیاسی مداخلت کا دروازہ بند کر دینا چاہیے اگر حالات کی سمت کا تعین نہ کیا گیا تو یہ یقین کر لینا چاہیے ’رٹ آف سٹیٹ‘ بحال نہیں ہو سکتی!


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments