خاموش دستک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


اس نے نہ جانے کتنے عرصے کے بعد آج سگریٹ سلگایا تھا۔ سگریٹ کی ڈبیا تو اس کی لائبریری میں دو سال سے پڑی ہوئی تھی ایک دراز کے اندر۔ کبھی کبھی اس کا دل چاہتا کہ اسے باہر نکالے لیکن اس سوچ کو دھکا دے کر ہمیشہ ذہن سے نکال دیا کرتا تھا۔ لیکن آج کا دن مختلف تھا گرمی عروج پر تھی ہوا بھی خلاف معمول رکی ہوئی تھی جیسے کسی کے آنے کی منتظر ہو۔ ہر طرف خاموشی چھائی ہوئی تھی ایک اداس خاموشی۔ اس کی خاموشی اور تنہائی کے ساتھ پکی دوستی تھی لیکن یہ آج کی خاموشی مختلف تھی کچھ عجیب سی، ایسے کچھ ہونے والا تھا۔

وہ سکون سے اپنے دن رات گزار رہا تھا۔ اس کی معاشی جدوجہد کا دور ختم ہو چکا تھا اور اب وہ انتہائی محدود وسائل کے اندر رہ رہا تھا۔ لیکن وہ زندگی کے ہر پل کو پوری طرح جی رہا تھا۔ ہر چھوٹی سے چھوٹی اور عام سے عام تر چیز سے بھی اس کے شب و روز کو اجاگر کر دیتی۔ اگر وہ کسی درخت کو دیکھتا تو اسی میں گم سم ہو جاتا جیسے وہ اس سے گفتگو کر رہا ہو۔ اس کو محسوس ہوتا کہ وہ بھی اس درخت کا ایک حصہ ہے ایک پھول ہے جس نے مرجھانے سے انکار کر دیا ہے، کبھی وہ موسیقی سنتا تو ایسا کھو جاتا جس طرح وہ بھی اس کی ایک تان ہے۔

باہر کوئی آواز ہی اسے اس وجد سے نکالتی۔ پھر وہ دریا کے کنارے جا کر بیٹھ جاتا تو وہ اس دریا کی لہر بن جاتا، ایسی نہیں جو کنارے پہ جا کے اپنا وجود کھو بیٹھے بلکہ ایسی لہر جو بہاؤ کے ساتھ رواں دواں ہو۔ باغ میں جاتا تو اس کی قوت پرندوں کی اڑان بن جاتی وہ ایک ٹہنی سے اڑ کر دوسری ٹہنی پر بیٹھتا اور پھر اپنا نغمہ دوبارہ سناتا کسی اور کے لئے نہیں بلکہ اپنے لئے۔ جب ہوا اس کے گالوں کو تھپتھپاتی تو وہ ہوا کے ساتھ ساتھ سرسرانے لگتا۔

بادل کے ٹکڑوں کو دیکھ لیتا تو وہ بھی فضا میں تیر نے لگ جاتا روئی کے گالوں کی طرح۔ وہ صبح کی افق شام کی شفق سورج کی کرن اور رات کی ٹھنڈک بن جاتا۔ وہ پردہ ہٹا کر سوتا تاکہ چاندنی اس کے بستر کو سیراب کر دے اس سے آنکھ مچولی کھیلے اس کو محبت کا پیغام سنائے اور سنے۔ وہ کچھ کھاتا یا پیتا تو پانچوں حواس خمسہ اس سے لطف اندوز ہو کر جھومنے لگتے۔

زندگی خود ہی چلی جا رہی تھی اب اس کو زندگی چلانے کے لئے کوئی مشقت نہیں کرنی پڑتی تھی۔ اس نے حالات سے مکمل سمجھوتا کیا ہوا تھا یا حالات نے شاید اس سے سمجھوتہ کر لیا تھا۔ اب تو کندھے کا درد بھی اسے کبھی کبھار میٹھا میٹھا لگتا تھا۔ اگر کبھی یہ درد غائب ہوجاتا تو اس کو محسوس ہوتا ایسے اس کا کچھ گم ہو گیا ہو۔

اب اس کو کسی کا انتظار نہیں تھا جو آئے کچھ غم اور خوشیاں دے گئے جو نہیں آئے ان کا نہ آنا بھی کچھ غم کچھ خوشی بن گیا۔ زندگی میں جس کا انتظار کیا تھا وہ کبھی نہیں آئی اور کوئی انتظار کیے بغیر اس کے دل میں اتر آئی تھی اور اس کو اپنا لیا تھا پھر اس نے بھی اسے اپنا بنا لیا تھا۔ لیکن اسے بھی وقت اپنے بہاؤ کے ساتھ لے گیا۔ اس کے چلے جانے کے بعد اس نے جدائی کو بھی قبول کر لیا تھا۔ اپنا ساتھی کھونے کے بعد اس نے گھر کے دروازے پہ اندر سے کبھی تالا نہیں لگایا تھا۔ ’اب تو شاذ و نادر ہی یہاں کوئی آئے گا۔ اگر کوئی آنا چاہے تو اسے روکنے کی کیا ضرورت ہے۔ ‘

لیکن آج کی شام مختلف تھی۔ بس اتنی مختلف کہ اس کے سکون کے سمندر میں کچھ اضطراب آیا ہوا تھا لیکن کیوں؟ کیوں آج وہ کسی کا انتظار کر رہا تھا! اسے دستک کی آواز نہیں آئی تھی پھر بھی وہ دروازے پر کئی مرتبہ گیا مگر وہاں تو کوئی بھی نہیں تھا! ’یہ کون مجھ سے مذاق کر رہا ہے؟ پھر کیوں میں کسی کا انتظار کر رہا ہوں؟‘

اس نے اپنے دل کو منایا کہ آج اس انوکھے انتظار والے دن وہ ایک سگریٹ ضرور پئے گا۔ سگریٹ کا ایک کش لے کر وہ اس کے دھوئیں کو دیکھتا رہا۔ یہ سگریٹ کی کوکھ میں سے نکلتا ہے اور کچھ بل کھانے کا بعد ہوا میں تحلیل ہو کر اپنا وجود کھو بیٹھتا ہے، نہ جانے کتنوں کو سکون دیتا ہے اور کتنوں کو اور زیادہ بے چین کر دیتا ہے ایک انسان کی طرح۔ اس نے ایک اور کش لیا اور دھوئیں کا مرغولہ بنا کر باہر نکال دیا۔ خوبصورت مرغولہ چند ہی لمحوں بعد اپنی ترتیب کھو بیٹھا اور پھر تتر بتر ہو گیا جیسے وہ کبھی یہاں تھا ہی نہیں، کیسے آیا کیسے چلا گیا! پھر وہ بجھے ہوئے سگریٹ کو بہت دیر دیکھتا رہا۔ کچھ دیر بعد اس کا چہرہ ایک عجب مسکراہٹ سے سج گیا، حکمت کی مسکراہٹ، کسی راز کو پانے کا تبسم!

پھر کوئی دستک دے رہا تھا بے آواز دستک۔ اس نے دروازہ کھولا اور اس کو پہچان لیا۔ مگر اس کا تو کبھی انتظار نہیں کیا تھا۔ دستک دینے والی نے غور سے اس کو دیکھا، ایسی نظر سے جس میں کائنات کا سب سے اہم راز پوشیدہ تھا۔ اس نے زیر لب کچھ پڑھا اور دروازے کا دوسرا پٹ بھی کھول دیا۔ ’مجھے تمہارا انتظار تو نہیں تھا لیکن مجھے تم سے کوئی خوف بھی نہیں ہے۔ اگر میں دروازہ نہ بھی کھولتا تم پھر بھی اندر آجاتی۔ بہتر ہے کہ میں خود کو تمہارے حوالے کر دوں ایک انجانے سفر کے لیے، ایک نئی دنیا میں جانے کے لیے، چلو میں تیار ہوں۔ ‘


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
Subscribe
Notify of
guest
1 Comment
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments