بلوچستان: معاشی مشکلات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نیپرا 2020 کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں 2 / 3 فیصد گھر بجلی کی سہولت سے محروم ہیں۔ صوبے میں بیروزگاری کا تناسب 4.09 ہے جو کہ ملک میں سب سے زیادہ ہے۔ جبکہ صوبے میں 52 فیصد بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں اور زچگی کے دوران اموات کی 98 / 100000 ہے جو کہ ملک میں سب سے زیادہ ہے۔ مزید براں صوبے میں انسانی ترقی کا تناسب 0.47 فیصد ہے جو کہ ملک میں سب سے کم ہے، جبکہ صوبے میں فی کس آمدنی 1999 سے کم ہوتی آ رہی ہے۔

غربت کی شرح تیزرفتاری کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے، جہاں صوبے کی 71 فیصد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزارتے رہی ہیں۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی رپورٹ کے مطابق صوبے کے 29 اضلاع شدید خشک سالی اور پانی کی کمی کا شکار ہیں۔ تعلیم، زراعت اور لائیو سٹاک کے محکموں کی صورتحال بھی ایک تکلیف دہ منظر پیش کر رہی ہے جو کہ زوال کے کنارے پر پہنچ چکی ہے۔ یہ اشارے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ صوبے کی معاشی صورت حال انتہائی گمبھیر ہے۔

دوسرے طرف حکومت کی ترجیحات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بہت سے ریونیو پیدا کرنے والے محکموں کو بجٹ کی انتہائی معمولی رقم مختص کی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر 2021۔ 22 کے بجٹ میں صوبائی حکومت نے 5.05 فیصد زراعت، 1.1 فیصد لائیو سٹاک، 2.27 ماہی گیری، 0.6 فیصد صنعتوں، 0.70 فیصد کانوں اور معدنیات، 2.7 پاور سیکٹر کے لیے مختص کیے جبکہ 60 فیصد کنکریٹڈ منصوبوں کے لیے مختص کیے۔ ایسے درد ناک صورتحال کی موجودگی میں کس طرح صوبے میں معاشی ترقی کی توقع کی جا سکتی ہے۔ آمدنی پیدا کرنے والے شعبوں جیسے زراعت، مویشیوں، اور کان اور معدنیات پر خرچ کرنے کے بجائے حکومتوں کی توجہ کمیشن پر مبنی منصوبوں کی تعمیر پر مرکوز ہوتی رہی ہیں۔

آمدنی پیدا کرنے والے شعبوں مثلاً لائیو سٹاک، زراعت اور ہائیڈر و کاربن وسائل میں سرمایہ کاری کے بغیر کوئی معاشی ترقی ممکن نہیں۔ خوش قسمتی سے بلوچستان میں قدرتی وسائل، مویشیوں اور زراعت کے شعبوں کے لیے بہترین ماحول موجود ہیں۔ بدقسمتی سے حکومتیں ان کو استعمال کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ صوبہ اپنے ٹیکس نیٹ اور نان ٹیکس ریونیو میں اضافہ کر سکتا ہے بشرطیکہ محکمہ مائنز اور بورڈ آف ریونیو بغیر کسی سیاسی مداخلت کے محکمہ مالیات کے ساتھ مل کر کام کریں۔

ایشیائی ترقیاتی بینک نے بلوچستان کے بارے میں اپنی تکنیکی معاونت کی رپورٹ میں مشاہدہ کیا ہے کہ ”مربوط معاشی پالیسی میں کمی اور معاشی ترقی کے لیے ایک قابل عمل حکمت عملی کا فقدان ہے ساتھ ساتھ صوبائی حکومتوں نے پیداواری دھاروں (جیسے معدنیات، زراعت اور ماہی گیری) اور انسانی وسائل میں کوئی خاص سرمایہ کاری نہیں دیکھی گئی ہے۔ “

صوبے کی معاشی ترقی میں ایک اور رکاوٹ نا اہلی ہے جام کمال کے 4 سالوں کے دوران، وفاقی وصولیاں 32 فیصد اضافے کے ساتھ 229، 756 روپے سے بڑھ کر 302، 904 ملین تک پہنچ گئیں۔ جبکہ غیر ترقیاتی اخراجات 61 فیصد بڑھ کر 191، 161 ملین سے بڑھ کر 309، 032 ملین ہو گئے۔ غیر ترقیاتی بجٹ میں بہت زیادہ اضافہ حکمرانوں کی نا اہلی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کے علاوہ پچھلے بجٹ کا خسارہ 65، 800 ملین تھا جو کہ کم آمدنی اور زیادہ اخراجات کا نتیجہ تھا۔

آمدنی اور اخراجات کے درمیان یہ فرق صوبے کی پہلے سے زوال پذیر معاشی صورتحال کی تباہی کو مزید ایندھن فراہم کر رہا ہے۔ اس نا اہلی کا تجزیہ جناب محب علی خان نے ان الفاظ میں کیا ہے کہ ”قانون ساز اپنی لاعلمی یا بے حسی کی وجہ سے بجٹ کے 80 ٪ حصے کا ان کو معلومات ہی نہیں ہوتی جس کی وجہ سے پورا بجٹ سیکرٹری خزانہ اور ان کی ٹیم کی صوابدید پر چھوڑ دی جاتی ہے۔ “

بلوچستان کے بارے میں ADB کی تکنیکی معاونت کی رپورٹ نے صوبے میں بدانتظامی اور خراب حکمرانی کے بارے میں مزید ریمارکس دیے کہ، ”مالی بدانتظامی عوامی خدمت کی فراہمی کے بنیادی ڈھانچے کی خرابی کا باعث بنی ہے۔“ اس کے وجہ سے موجودہ حکومت کے پچھلے تین سالوں کے دوران 100 ارب روپے لیپس ہوئے۔ یہ بدترین قسم کی خراب حکمرانی اور نا اہلی کی مثال ہے۔ اس حکومت کی تباہ کن پالیسیاں یہاں پر ختم نہیں ہوتی۔ جام کمال حکومت نے جاوید جبار کو بلوچستان کی نمائندگی کے لئے این ایف سی کے لئے صوبے کا نمائندہ معاشی ماہر محفوظ علی خان کی جگہ نامزد کیا۔ جنہوں نے این ایف سی میں بلوچستان کا کیس بھرپور طریقے سے پیش کیا تھا دوسری طرف جاوید جبار کو اقتصادی شعبے میں کوئی تجربہ نہیں ہے۔ اس طرح کی مضحکہ خیز پالیسیوں کے ہوتے ہوئے معاشی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا ۔

پبلک سروس ڈویلپمنٹ پروگرام میں فنڈز کی تقسیم کم و بیش کنکریٹ کے منصوبوں پر خرچ کی جاتی ہے۔ اگر یہ رقوم آمدنی پیدا کرنے والے منصوبوں کی طرف موڑ دی جائیں تو معاشی ترقی کو فروغ ملے گا۔ بدقسمتی سے سیاسی وابستگی، سودے بازی، اتحادی سیاست اور کمیشن کی ہوس حکومت کو ایسا کرنے نہیں دیتی۔ سابق سیکرٹری خزانہ اور این ایف سی میں بلوچستان کے سابق رکن جناب محب علی خان کے مطابق، ”نتائج پر مبنی بجٹ کی تشکیل کے لیے ایم پی اے کو ترقیاتی بجٹ مختص کرنے کی روایت کو فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔

تمام منصوبے تکنیکی فزیبلٹی پر مبنی اور مختلف علاقوں اور اضلاع کے مابین فرق کو کم کرنے جیسے اقدامات پر مبنی ہونی چاہیے۔ اگر ہم پچھلے دس سالوں کے بجٹ کا جائزہ لیں تو ہمیں وسائل اور ساحل کی کم از کم ترجیحات دیکھ کر افسوس ہو گا، حکومت کو ترقیاتی فنڈز کے استعمال پر سختی سے نظر رکھنی چاہیے اور وقت اور لاگت کو کسی بھی طرح سے بڑھا دینا ایک معمول کے طور پر قبول نہیں کیا جانا چاہیے۔ “

صوبے میں بدعنوانی کی لعنت ہمیشہ صوبے کی معاشی ترقی میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ 2020 میں نیب نے 343 ریفرنس دائر کیے اور 7 ارب روپے برآمد کیے جو صرف ایک معمولی سی مثال ہے۔ سابق سیکرٹری خزانہ مشتاق رئیسانی کا واقعہ زیادہ پرانا نہیں جب ان کے گھر سے کروڑوں روپے برآمد ہوئے۔ مزید یہ کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل اف پاکستان نے صوبے میں بدعنوانی کے بارے میں بار بار اپنے تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ ٹی آئی پی نے جام کمال کو کوویڈ۔

19 ویکسین کی خریداری کے لیے 500 ملین روپے کے ٹینڈر میں پی پی آر اے رول 49 کی خلاف ورزی کے بارے میں متعدد بار لکھا۔ جناب محب علی خان لکھتے ہیں کہ ”اگر میں بلوچستان میں کرپشن کے بارے میں لکھنا شروع کروں تو ان کے لیے ایک کتاب کم پڑ جائے۔ میں نے عملی زندگی کے ہر قدم پر ایسی چیزیں سنی، دیکھی اور ان کا تجربہ کیا۔“

وفاقی حکومت کو بلوچستان کی معاشی زوال سے بری الذمہ نہیں کیا جا سکتا۔ وفاق کی طرف سے صوبے کی معاشی ترقی میں رکاوٹ کے اہم ترین عوامل میں سے ایک اٹھارہویں ترمیم کا نفاذ نہ ہونا ہے۔ آرٹیکل ( 3 ) 172 کہتا ہے کہ صوبے کے اندر معدنی تیل اور قدرتی گیس یا اس سے ملحقہ علاقائی پانی مشترکہ اور یکساں طور پر اس صوبے اور وفاقی حکومت کے پاس ہوں گے۔ لیکن 11 سال گزرنے کے باوجود صوبے کو پرانا حصہ دیا جا رہا ہے۔

صوبے میں دستیاب وسائل کی بنیاد کو مضبوط بنانے، آمدنی پیدا کرنے والے شعبوں کی سیاست کی نظر نہ کرنے، زراعت، مویشیوں، ماہی گیری اور معدنیات جیسے آمدنی پیدا کرنے والے شعبوں میں سرمایہ کاری، گورننس کے مسائل پر قابو پانے، کرپشن پر قابو پانے، اور ایک مضبوط معاشی پالیسی کو واضح کرنا صوبے کی معاشی ترقی میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے جو کہ صوبے کے دل دہلا دینے والے سماجی و اقتصادی اشاریوں میں بہتری لانے کا بھی باعث بن سکے گا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments