ہر شہر کو ایک این آئی سی وی ڈی کی ضرورت ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امراض قلب ہمیشہ جان لیوا ہوتی ہیں، امراض قلب سے متاثرہ لوگوں کو بعض اوقات معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ کسی مرض میں مبتلا ہیں، بالآخر وہ اس کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں، لوگوں کو ہر شش ماہی یا سال میں ایک بار اپنے دل کا معائنہ ضرور کروانا چاہیے، تاکہ وہ بے وجہ موت کے منہ میں جانے سے بچ سکیں اور دنیا میں اپنے حصے کے کاموں کو تکمیل تک پہنچائیں۔

سکھر میں ہمارے ایک صحافی دوست شوکت نوناری کو کچھ عرصہ قبل دل کی تکلیف کے باعث سکھر میں قائم این آئی سی وی ڈی لایا گیا، چونکہ ان دنوں اپوزیشن کے ایک سرکردہ لیڈر خورشید شاہ کی وجہ سے این آئی سی وی ڈی سکھر کو سب جیل میں تبدیل کر دیا گیا تھا، لہٰذا، عوام الناس کو صحت کی سہولیات کی فراہمی میں شدید مشکلات کا سامنا تھا۔ تاہم، این آئی سی وی ڈی سکھر کی انتظامیہ نے انہیں فرسٹ ایڈ دے کر این آئی سی وی ڈی خیرپور ریفر کر دیا، جہاں فوری طور پر شوکت نوناری کو اسسٹنٹ لگا کراس کی زندگی بچائی گئی اور زندگی بچانے کے اس پورے عمل میں محض 45 منٹ لگے، بات جب زندگی اور موت کی ہو تو 45 منٹ کبھی بہت کم ہیں، لیکن اتنی جلدی سروسز یا خدمات کی فراہمی پاکستان میں محض این آئی سی وی ڈی میں ہی ممکن ہے۔ اگر سکھر اور خیر پور میں امراض قلب کی سہولیات نہیں ہوتیں تو شاید ہم شوکت کو کھو دیتے۔ این آئی سی وی ڈی اور سندھ سرکار کی مہربانیاں کہ انہوں نے سندھ بھر میں امراض قلب کے لئے 31 یونٹ قائم کر لئے ہیں تاکہ عوام الناس کو بروقت دل کی بیماریوں کی وجہ سے موت کے منہ میں جانے سے بچایا جا سکے۔

حکومت سندھ سے لاکھ اختلافات، لیکن این آئی سی وی ڈی، جناح ہسپتال اور ایس آئی یو ٹی جیسے اداروں کی مناسب دیکھ بھال اور معاونت پر ہمیں حکومت سندھ کی سہولیات کی شکریہ ادا کرنا چاہیے، حکومت سندھ کی مدد سے ہی این آئی سی وی ڈی امراض قلب کا واحد ادارہ بن چکا ہے جس نے چار ہزار آپریشنز کیے ہیں، آٹھ ہزار ایک سؤ ستانوے مریضوں کو اینجیو پلاسٹی کے طریقہ کار سے پرائمری پریکاشس کو رونری انٹروینشن کی سہولیات فراہم کی، سینکڑوں امپلانٹ کیے ، اور ان سہولیات کے بدلے این آئی سی وی ڈی لوگوں سے کسی بھی قسم کی رقوم کا تقاضا نہیں کیا، تمام متاثرہ افراد کو یہ سہولیات مفت میں فراہم کی گئی ہیں۔ نیز، این آئی سی وی ڈی نے کراچی میں 8 سیٹلائٹ سینٹر بھی قائم کر رکھے ہیں، ساتھ ساتھ سندھ کے دیگر شہروں میں 10 ہسپتال اور 21 دیگر یونٹ بھی قائم کیے ہیں۔

این آئی سی وی ڈی کے ریکارڈ میں موجود اعداد و شمار کے مطابق امراض قلب میں مبتلا افراد کو علاج کی سہولیات فراہم کرنے والے اس ادارے میں محض 2019 اور 2020 میں 38 لاکھ افراد کو علاج کی سہولیات فراہم کی گئیں۔ گزشتہ چھ ماہ کے دوران اس ادارے نے کنٹونمنٹ بورڈ ملیر ہیلتھ سینٹر اور ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہاسپیٹل ٹنڈوالہ یار میں دو یونٹ قائم کر لئے ہیں۔ علاوہ ازیں، اس ادارے کے سکھر اور ٹنڈو محمد خان میں قائم دو شاخوں میں امراض قلب میں مبتلا 70 بچوں کے کامیاب آپریشن کر کے ان کی زندگیاں بچائی گئی ہیں، یہ اعزاز بھی این آئی سی وی ڈی کو ہی حاصل ہے کہ سکھر میں قائم اس کے یونٹ میں دل میں سوراخ کا شکار بچے کی اوپن ہارٹ سرجری کے بجائے ڈیوائس کے ذریعے آپریشن کر کے اس کی زندگی بچائی گئی ہے۔ یہ سب مہربانیاں ڈاکٹر محمد علی قاسم کے ہیں۔

ڈاکٹر محمد علی قاسم، دنیا میں ایک منجھے ہوئے ڈاکٹر تھے، انہوں دوسری جنگ عظیم میں برطانوی ہند میں بھی بطور ڈاکٹر خدمات سرانجام دی تھیں۔ برطانیہ اور امریکہ سے طب کے شعبے میں انہوں نے پوست گریجوئیٹ کیا۔ سنہ 1948 میں کراچی کے جناح ہسپتال، جو اس وقت جناح سینٹرل ہاسپیٹل کے نام سے جانا جاتا تھا، میں بطور ڈاکٹر خدمات سرانجام دیں۔ ڈاکٹر محمد علی قاسم ہی وہی شخص تھے جنہوں نے جناح ہسپتال کو جناح پوسٹ گریجوئیٹ میڈیکل سینٹر میں تبدیل کیا اور ڈاؤ میڈیکل کالج میں ایک لائبریری بھی قائم کی۔

1963 مین اس معتبر اور محترم ڈاکٹر نے اپنے خواب کی تکمیل کے لئے ملکی و غیر ملکی مخیر حضرات کی امداد ست نیشنل انسٹیٹیوٹ آف کارڈی ویسکیولر ڈزیز ( امراض قلب کا قومی ادارہ) کی بنیاد رکھی۔ جس کا سنگ بنیاد اس وقت کے فیلڈ مارشل ایوب خان نے رکھا تھا، این آئی سی وی ڈی نے ابھی ٹھیک سے کام ہی شروع نہیں کیا تھا کہ ہسپتال کا سنگ بنیاد رکھنے کے ایک برس بعد ہی 1964 میں این آئی سی وی ڈی کے ایگزیکٹو ڈائرکٹر کے طور پر خدمات سرانجام دینے والے ڈاکٹر محمد علی قاسم کا انتقال کیا گیا۔

این آئی سی وی ڈی کی پوری ٹیم خراج تحسین کے مستحق ہے، جنہوں نے ڈاکٹر قاسم علی شاہ کے کام کو آگے بڑھایا اور خیراتی رقوم سے اس ہسپتال کو چلانے کا کام جاری رکھا۔ اس ہسپتال کو فروغ دینے میں حکومت سندھ، خاص طور پر پیپلز پارٹی، کا کردار بہت اہم رہا ہے۔ این آئی سی وی ڈی کی معاونت کو یقینی بنانے میں حکومت سندھ، جاپان کی حکومت اور امریکی ادارے یو ایس ایڈ نے ہر ممکن کوشش کی۔ کس کو معلوم تھا کہ 1956 میں جناح ہسپتال کے وارڈ نمبر 10 میں قائم ہونے ہونے والا ایک سینٹرل ہارٹ کلینک ایک دن امراض قلب کے حوالے سے پوری دنیا کے نمبر ون نیٹ ورک کے طور پر جانا جائے گا۔

اپنے قیام کے پندرہ سال کے اندر اندر اگست 1971 میں جاپانی حکومت، حکومت سندھ اور یو ایس ایڈ کی مدد سے جناح ہسپتال کا سینٹرل ہارٹ کلینک اب امراض قلب کے بہت بڑے مرکز میں تبدیل ہو چکا تھا اور آنے والے آٹھ برسوں، 1971 سے 1979 تک این آئی سی وی ڈی نے ایک این جی او (غیر سرکاری تنظیم ) کے طور پر خدمات سرانجام دیں اور 1979 میں این آئی سی وی ڈی کو سرکاری تحویل میں لے لیا گیا۔

رواں سال 2021 میں امراض قلب کے اس دنیا کے سب سے بڑے نیٹ ورک کو بہترین خدمات کی فراہمی پر انٹرنیشنل کارپوریٹ سوشل ریسپانسبیلٹی کانفرنس کے 13 ویں نیشنل فورم اور ایوارڈ 2021 کی جانب سے خدمات کے اعتراف کے طور پر 15 مختلف ایوارڈز سے نوازا گیا ہے۔

حکومت سندھ اور عوام الناس سے گزارش ہے کہ وہ ہر ضلع اور تحصیل کی سطح پر اس ہسپتال کے یونٹ قائم کروانے میں اپنا کردار ادا کریں، مخیر حضرات آگے آئیں، اپنی زمینوں میں سے ایک چھوٹا سا ٹکڑا نکال کر اس ہسپتال کو عطیہ کریں تاکہ دنیا کا یہ سب بہترین نیٹ ورک اپنے یونٹ قائم کر کے عوام الناس کو امراض قلب کے علاج کی بروقت سہولیات فراہم کر سکے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments