اندر کی اندھی گلیاں

ہمارے بیچ زندگی نہیں، ایک لمبی چیخ بسی ہوئی ہے، ایسی چیخ جو وقت کی گلیوں کی دیواروں سے ٹکرا کر لوٹ آتی ہے اور پھر سانسوں میں تحلیل ہو جاتی ہے۔ زینب مر گئی، کسی نے نوٹس نہیں لیا۔ یوسف نے خودکشی کی، خبر اگلے دن اخبار کے نچلے حصے میں شائع ہوئی، اور پھر سب بھول گئے۔ لوگ مر رہے ہیں، مگر مرنے سے پہلے ہی مر جاتے ہیں ؛ ان کے خواب مر جاتے ہیں، محبتیں دم

Read more

ستر لاکھ مردہ فالورز کے بیچ ایک زندہ تنہا لاش

میں اور منٹو ایک سائے دار گلی میں کھڑے تھے، جہاں شام کا غبار دھیرے دھیرے مدھم ہو رہا تھا۔ وہ شہر، جو کبھی زندگی کی گہما گہمی سے گونجتا تھا، آج ایک ایسے واقعے کی گونج سے بھرا تھا جو دل کو خون کے آنسو رلاتا ہے۔ ہم سامنے ایک خاموش فلیٹ کی طرف دیکھ رہے تھے جہاں ایک عورت کی لاش پڑی تھی، حمیرا اصغر کی۔ یہ وہی حمیرا تھی جسے ستر لاکھ لوگ سوشل میڈیا پر فالو

Read more

تاریخ کی تختی نہیں بدلتی

کہتے ہیں کہ تاریخ بڑی بے رحم ہوتی ہے، لیکن درحقیقت تاریخ سب کچھ یاد رکھتی ہے۔ وہ نہ صرف نیکیوں کا حساب رکھتی ہے، بلکہ تختیوں کی چوری بھی درج کر لیتی ہے۔ جو لوگ دوسروں کے نام اور کام پر اپنی تختی لگاتے ہیں، وہ وقتی واہ واہ تو سمیٹ لیتے ہیں، مگر تاریخ ان کے لیے کبھی دعائیہ جملے نہیں لکھتی، صرف طنزیہ حاشیے چھوڑ جاتی ہے۔ ہمارے ملک میں سیاست کا ایک نیا فن رائج ہو

Read more

کاری

سندھ کے بالائی علاقوں میں جولائی کا مہینہ یوں تو بہت گرم ہوتا ہے لیکن ستائیس جولائی کی شب اس بار کچھ زیادہ ہی گرم تھی، یوں لگ رہا تھا جیسے سورج زمین پر اتر آیا ہو۔ رات کے بارہ سوا بارہ بج رہے تھے لیکن گرمی تھی کہ کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ ہر سو جھینگر کی آوازیں گونج رہی تھیں، گاؤں کے کتوں کے بھونکنے کی آواز دھیمی دھیمی سنائی دے رہی تھی۔ دور

Read more

حکومتیں، پیر، سید اور میر

معروف مورخ ڈاکٹر مبارک علی کہتے ہیں کہ جب سندھ میں تقسیم سے پہلے انتخابات ہوئے تو اس میں پیروں کا آل انڈیا مسلم لیگ میں شامل ہونا، ان کے ذاتی مفاد میں تھا، کیونکہ انہیں یقین ہو گیا تھا کہ ملک کی تقسیم کے بعد مسلم لیگ حکمران جماعت ہوگی۔ لہذا اس کے بعد سے آج تک سندھ کے پیر، سجادہ نشین اور جاگیردار اپنے مفادات کے تحت اپنی سیاسی وفاداریاں بدل لیتے ہیں، اس وقت خصوصیت سے اس

Read more

ایم آر ڈی میں آمریت کے سائے تلے صحافت

ایم آر ڈی کے دوران فوج کی تشدد کا نشانہ بننے والے پرانے صحافی کہتے ہیں کہ دیگر آمروں کی طرح ضیا بھی نمائشی، مکار اور منافق ثابت ہوئے۔ ضیا نے بھی 90 دن کے اندر انتخابات کروانے کے ساتھ ساتھ یہ وعدہ بھی کیا کہ پریس آزاد ہے اور پریس ان کی ایڈمنسٹریشن اور حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرنے کے لئے با اختیار ہے۔ لیکن بات بگڑتی ہی چلی گئی اور پھر نہتے صحافیوں اور حکومت میں کشیدگی شروع

Read more

ہر شہر کو ایک این آئی سی وی ڈی کی ضرورت ہے

امراض قلب ہمیشہ جان لیوا ہوتی ہیں، امراض قلب سے متاثرہ لوگوں کو بعض اوقات معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ کسی مرض میں مبتلا ہیں، بالآخر وہ اس کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں، لوگوں کو ہر شش ماہی یا سال میں ایک بار اپنے دل کا معائنہ ضرور کروانا چاہیے، تاکہ وہ بے وجہ موت کے منہ میں جانے سے بچ سکیں اور دنیا میں اپنے حصے کے کاموں کو تکمیل تک پہنچائیں۔

Read more

کورونا کے دنوں میں دل کے روگ اور پریوینٹو کارڈیالوجی

وبائیں یا پھر بڑی بڑی قدرتی یا انسانی آفتیں، ہمیشہ بڑے اور ناقابل فراموش سبق دے جاتی ہیں، ان ناقابل فراموش اسباق کی بنیاد پر انسان اپنی زندگی اور مستقبل کے معاملات طے کرتا ہے، ۔ لیکن، ہم ایسی اقوام میں سے ہیں جو کبھی بھی کی بڑی مصیبت یا پھر وبا سے کچھ بھی نہیں سیکھتے اور سب کچھ بہت جلد بھول جاتے ہیں، ہماری یادداشت بطور قوم بہت ہی کمزور ہے۔ نیز، ایک عجیب و غریب نفسیاتی خوش

Read more

کورونا ویکسین اور افواہوں کی بھرمار

کورونا ویکسین کے حوالے سے افواہوں کی بھرمار ایک بار پھر شروع ہو گئی ہے، جبکہ اس وقت دنیا کے بیشتر ممالک ویکسینیشن کر چکے ہیں اور لاکھوں، کروڑوں میں نہیں لگ بھگ دنیا کی آدھی آبادی کورونا سے بچاؤ کی ویکسینیشن کروا چکی ہے۔ اس وقت طرح طرح کی افواہیں سامنے آ رہی ہیں۔ کورونا کی موجودگی صورتحال میں کچھ دوا ساز کمپنیاں، جو قدرتی اجزاء کی ویب سائٹس اور اس کا بزنس کرتے ہیں انہوں نے اس موقعے

Read more

جنہیں کوئی نہیں پوچھتا تھا وہ عاصمہ کا پتہ پوچھتے تھے

وہ عورت نہیں تھی، وہ ایک مردہ سماج میں جیتی جاگتی اور چلتی پھرتی جدوجہد تھی، ایک ایسی جدوجہد جو کبھی ختم نہیں ہونی، نہ کبھی شکست خوردہ ہونی ہے۔ وہ حقوق انسانی کی علمبردار، وہ گھپ اندھیروں میں گھرے اور پھنسے ہوئے لوگوں کے لئے روشنی کا استعارہ تھی، وہ مسلمان تھی یا نہیں تھی؟ وہ سگریٹ پیتی تھی یا نہیں پیتی تھی؟ اس کے خیال کیسے تھے؟ کیا وہ خدا پر یقین رکھتی تھی؟ ان تمام سوالوں کو

Read more

سندھ کے فلاحی ہسپتال اور پرائیویٹ مافیا کے گدھ

پاکستان میں بیک وقت نہ جانے کتنے متوازی قوانین نافذ ہیں، جن کو طاقتور حلقے جب چاہیں، جس طرح چاہیں، اپنی مرضی سے، فائدے حاصل کرنے کے لئے استعمال کرتے رہتے ہیں۔ پاکستان میں ایسا ہی ایک قانون فلاحی بہبود کا بھی ہے، اس قانون کے تحت پاکستان میں درجنوں نہیں سینکڑوں ادارے رجسٹرڈ ہیں۔ اس قانون کے تحت رجسٹرڈ ادارے لوگوں کو مفت خدمات فراہم کرنے کے پابند ہوتے ہیں، لیکن ایسے ادارے پاکستان میں صرف کاغذوں میں پابند ہیں، حقیقت میں وہ ان کے منافی ہی کام کر رہے ہیں، اور ”فلاح“ یا ”فلاحی کام“ کے نام پر یہ ایک قسم کا دھندا ہے جو زوروں شوروں سے چل رہا ہے، جو ایک بہت ہی بڑے مالیاتی سسٹم میں جا پہنچتا ہے۔

Read more

وفاق کی پیپلز پارٹی دشمنی اور سندھ کے اداروں پر لٹکتی تلوار

اگر موجودہ حکومت کے سیاسی ثمرات کا جائزہ لیا جائے تو موجودہ سرکار پاکستان کے تاریخ کی واحد سرکار ہے، جو کسی بھی صورت وفاقی تو دور کی بات، ”حکومت“ ہی نہیں لگ رہی۔ وفاقی سرکار اب ایسا چوہدری، یا وڈیرا بن گئی ہے جو کسی بھی کسان کی فصل اترنے پر آ کر کھڑا ہو جاتا ہے اور سارا غلہ پانی اپنے گھر اٹھا کر لے جاتا ہے۔ یوں تو سندھ کے تمام ہسپتال بہت ہی اہمیت کے حامل

Read more