احمد رفیق اختر اور ان کی پیش گوئی
احمد رفیق اختر جنہیں ماڈرن صوفی ہونے کا اعزاز حاصل ہے، ہماری کلین شیو پڑھی لکھی کلاس ان کی بہت دل دادہ ہے، اب یہ مسئلہ بحث طلب ہے کہ ”پڑھا لکھا“ کون ہوتا ہے؟ بہت سے لوگ ایم فل اور پی ایچ ڈی ہوتے ہیں مگر ان کا مینٹل سپیکٹرم زیادہ گرون اپ نہیں ہوتا اور وہ نئی تحقیق کے بارے میں ایک طرح کا آلسی رویہ رکھتے ہیں اور جو انہوں نے پڑھ سیکھ لیا ہوتا ہے بس اس سے آگے فل اسٹاپ لگا کر آخرت کی تیاری میں مصروف ہو جاتے ہیں۔
کسی دور میں ہم جاوید چوہدری کے کالم پڑھا کرتے تھے کیونکہ وہ پانی پر بالائی چڑھانے کا فن خوب جانتے ہیں، انہوں نے اپنے ایک کالم میں احمد رفیق اختر کی شخصیت کا وہ خاکہ باندھا کہ متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور دل میں ان سے ملنے کی تمنا پیدا ہوئی۔ اتفاق کی بات ہے کہ کچھ عرصہ بعد ان کا ایک پروگرام گورنمنٹ ڈگری کالج میاں چنوں میں ہوا، جیسے ہی وہ گاڑی سے اترے تو بظاہر پڑھے لکھے سوٹڈ بوٹڈ لوگ ان کے ہاتھ اور پاؤں چومنے لگے اور بہت سے لوگ ان کے گھٹنوں کو ہاتھ لگا کر عقیدت کا اظہار کر رہے تھے۔
سب کچھ دیکھ کر سمجھ میں آنے لگا کہ یہ بندہ بھی ایک طرح کا روایتی پیر ہے بس فرق صرف اتنا ہے کہ یہ غیر روایتی طریقہ سے اپنے خیالات کا پرچار کر رہا ہے اور پڑھے لکھی کلاس میں قبولیت کا درجہ حاصل کرنے کے لئے ماڈرن گیٹ اپ (کلین شیو، پینٹ شرٹ ) اور انگریزی زبان کے بھاری بھرکم الفاظ کا سہارا لے رہا ہے، گفتگو میں بہت زیادہ پراسراریت محسوس کی اور حاضرین عقیدت کے حصار میں گم سم ہو محو گفتگو تھے۔ بر صغیر پاک و ہند میں یہ دھندا آج بھی زوروں پر ہے، برسوں سے روحانیت اور سینہ بہ سینہ علم جیسی اصطلاحات استعمال کر کے ہمیں چونا لگایا جا رہا ہے اور لوگ دھڑا دھڑ مورکھ بننے کے لئے تیار رہتے ہیں اور محرومیوں کی وجہ سے لوگوں میں اندھی تقلید کا رجحان پنپنے لگتا ہے اسی بات کا فائدہ یہ موقع پرست لوگ مختلف گیٹ اپ اختیار کر کے اٹھانے لگتے ہیں اور ایسے شعبدہ بازوں کی فالونگ ملین میں چلی جاتی ہے۔
ایسے لوگ ”کلٹ پرسنیلٹی“ کہلاتے ہیں جو اپنی سحر بیانی کی وجہ سے لوگوں میں مقبول ہو جاتے ہیں اور اپنی وسیع البیانی کے سہارے لو گوں کے ذہنوں پر غلبہ پانے کی کوشش کرتے ہیں انہیں کرشماتی شخصیت بھی کہا جاتا ہے۔ ایسے لو گوں کے چنگل میں پھنسنے کی بنیادی وجہ احساس محرومی ہوتا ہے جس کے تانے بانے معیشت سے جڑتے ہیں اور ہمارے اس خطے میں غربت کی سطح بہت زیادہ ہے۔ بے وقوف بنانا ایک دھندا ہے جو اس وقت تک چلتا رہے گا جب تک ہم خود پڑھنے، جاننے اور سیکھنے کے قابل نہیں ہوں گے، ایسے لوگوں کی دکانداری بند کرنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے اور وہ ہے خود کو زمانہ کے مطابق باشعور بنانا یہی وقت کا تقاضا ہے ورنہ صدیوں ہم اسی مکروہ جال میں پھنسے رہیں گے۔
المیہ کی بات یہ ہے کہ اس کلچر نے اب درس گاہوں کا رخ اختیار کر لیا ہے گزشتہ دنوں گورنمنٹ کالج لاہور میں وائس چانسلر ڈاکٹر اصغر زیدی نے احمد رفیق اختر کو مدعو کیا جہاں پر انہوں نے یہ پیش گوئی کر ڈالی کہ دنیا کی عمر بس 345 برس رہ گئی ہے اگر وہ چار سو برس بھی کہہ دیتے تو کیا فرق پڑتا تھا کیونکہ بھگتنی تو آنے والی نسلوں نے ہے اور ہم تو اس پیش گوئی کو سچ ثابت ہوتا دیکھ نہیں پائیں گے مگر اس انکشاف کی وجہ سے احمد رفیق کی فین فالونگ ضرور بڑھ جائے گی۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں درسگاہ کلچر اور درگاہ کلچر کو سمجھنا چاہیے تصوف روحانیت اور مذہب آپ کا ذاتی فعل ہے اور ذاتی حیثیت میں جو آپ مناسب سمجھیں وہ کریں کوئی حرج نہیں ہے لیکن درسگاہ کا کلچر بہت مختلف ہوتا ہے یہاں پر پڑھنا لکھنا سمجھنا اور سوال کرنا سکھایا جاتا ہے جب درسگاہ میں بھی عقیدت گھس آئے تو پھر نئی نسل کیا سیکھے گی کیونکہ کالج یونیورسٹی میں طلباء پراسراریت کو ڈی کوڈ کرنا سیکھتے ہیں اور الجھی پہیلیوں کو سلجھانے کا ہنر لینے آتے ہیں اگر یہاں بھی انہیں تسلیم و رضا ہی سیکھنا ہے تو ان تعلیمی اداروں کو بند کر کے روحانیت سینٹر ہی کھول دیں اور نہ صرف احمد رفیق اختر بلکہ بابا عرفان الحق، سرفراز شاہ، بابا یحییٰ، قاسم علی شاہ جیسے لوگوں کو ان اداروں کی سربراہی دے دیں اور دنوں میں روحانیت میں خود کفیل ہو جائیں۔
سو ال یہ ہے کہ ایسا کر کے پھر ہو گا کیا؟ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ آج کی ہماری زندگی لیبارٹری کی مرہون منت ہے، لیبارٹری میں بیٹھے لوگ مختلف اور کٹھن قسم کے تجربات کر کے کائناتی گتھیوں کو سلجھانے میں مصروف ہیں اور ہم 3 کروڑ سال بعد آنے والی زندگی کے متعلق پیش گوئی کر کے نام کمانے میں مصروف ہیں اور آج کے دور کے تقاضے کیا ہیں ان سے ہم بالکل بے خبر ہیں، 345 برس بعد کی فکر چھوڑئیے اور آج پر فوکس کر کے انسانی زندگیوں میں کوئی تعمیری کردار ادا کیجئے۔
پرانا انداز فکر نئی نویلی بوتل میں ڈال کر جدید ٹیگ کے ساتھ پیش کرنے سے کوئی فرق پڑنے والا نہیں ہے، آج کی جدید دنیا میں بھرپور طریقے سے شامل ہونے کے لیے ہمیں آج کے تقاضوں پر چلنے کی ضرورت ہے۔ ”ہم کیا تھے“ اس سے آج کی جدید دنیا کو کوئی سروکار نہیں ہے بلکہ آج جو ہم ہیں اسی پر ہمارا مستقبل تشکیل پائے گا۔ آج کی دنیا میں ہمارا کنٹری بیوشن باتوں کی حد تک تو بہت ہے، فزکس کے دور میں بھی ہم میٹا فزکس میں کھوئے ہوئے ہیں اور عملی طور پر ہم زیرو پوائنٹ پر کھڑے ہیں۔



all that glitters is not gold…some are gold plated….
Very well said dear Dr. Sahib
آپ کو محترم احمد رفیق اختر پر اس طرح کا ذاتی حملہ کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ، ہاں آپ ان کے نظریے کو دلیل سے رد کرنے کا حق ضرور رکھتے ہیں ۔ آپ درسگاہ اور درگاہ کے فرق سے جی ۔سی۔ یو ۔آکر ہی آشنا ہو سکیں گئے ۔ آپ کو جی سی یو کی تاریخ کا زرا سا بھی علم ہوتا تو آپ کی ایسی کم فہمی کی رائے کبھی نہ ہوتی ۔
احمد رفیق اختر کی تصانیفات کبھی فرصت ملے تو پڑھ لیجئیے گا ممکن ہے کچھ افاقہ ہو جائے
well said Mr Imtiaz
بھیا آپ کی اپنی باتوں میں تضاد ہے۔ کبھی تو آپ اس عقیدت کی وجہ احساسِ محرومی اور معیشت کو قرار دے رہے ہیں اور کبھی آپ پروفیسر صاحب کے فالورز کے بارے انکشاف کر رہے ہیں کہ وہ پڑھا لکھا طبقہ ہے ۔
جہاں تک میں جانتا ہوں پروفیسر کے فالوورز میں ایسا پڑھا لکھا طبقہ ہے جنہیں کسی بھی صورت احساسِ محرومی کا شکار یا معاشی چور پر محروموں کی لسٹ میں شامل کیا جا سکے بلکہ وہ لوگ بے معنی باتوں اور بغیر دلیل کی باتوں کو اندھی تقلید کی بھینٹ چڑھانے والوں میں سے ہو ہی نہیں سکتے۔
خیر آپ تخیلاتی تھیوری پیش کرنے کی بجائے پروفیسر کی باتوں کو دلیل سے رد کرتے تو مزا بھی تھا۔ البتہ پیش گوئی کے حوالے سے آپ کی بات سے اتفاق ہے کہ 345 برس بعد کی پریڈکشن کو سچا یا جھوٹا ہوتا دیکھنے کے لئے نہ ہم ہوں گے نہ پروفیسر صاحب اس لئے آج پر فوکس کرنا چاہئے۔
غیر متفق۔۔۔۔بات سمجھ نہیں آئی۔۔۔
سر بہت عمدہ اندازِ بیاں اور بہت اچھا احاطہ کیا ہے آپ نے۔ جیتے رہیے۔ اچھا کالم لکھا ہے، اور حالاتِ حاضرہ کا تقاضا بھی یہی ہے۔
بہت صحیح توجہ دلائ