مسلم لیگ نون کی داخلی سیاسی کشمکش

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مسلم لیگ نون کی سیاست ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہے۔ بظاہر جماعت نواز شریف کی قیادت میں متحد ہے اور یہ کریڈیٹ اسے دیا جانا چاہیے کہ وہ فی الحال عملی طور پر کسی بڑے ٹکراؤ یا تقسیم کا شکار نہیں ہوئی۔ لیکن نواز شریف، مریم نواز اور شہباز شریف کی سیاسی حکمت عملی، بیانیہ یا سیاسی اقتدار سمیت خاندان میں بالادستی کی جنگ کا پہلو نمایاں طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ جنگ جو بظاہر بیانیہ، جمہوریت، پارلیمان کی عملی بالادستی، قانون کی حکمرانی یا اسٹیبلیشمنٹ کی سیاسی مداخلت کے خلاف نظر آتی ہے، مگر اس جنگ کی حقیقی حقیقت اقتدار کی سیاسی جنگ یا عملاً خاندان میں کون بالادست ہو گا کی جنگ نظر آتی ہے۔ مریم نواز کے بقول نواز شریف خاندان اور پارٹی کے ہی حقیقی وارث یا سربراہ ہیں اور دونوں سطحوں پر ان ہی کے فیصلے کو ہی سیاسی بالادستی حاصل ہوگی۔ ان کے بقول شہباز شریف اور حمزہ شہباز قابل احترام اور ان کی پارٹی کے لیے قربانیاں اپنی جگہ مگر فیصلے نواز شریف یا ان ہی کے چلیں گے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ شہباز شریف جو پارٹی کے صدر ہیں مگر ان کی سیاسی بے بسی پارٹی کی نائب صدر مریم نواز کے سامنے بے بسی کی ہی نظر آتی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اب مریم نواز اور شہباز شریف کے اپنے اپنے حامیوں کے ساتھ منعقدہ اجلاس اور اپنے اپنے موقف کو ہی سچ بنا کر پیش کرنے سے یقینی طور پر پارٹی انتظامی کے ساتھ ساتھ سیاسی طور پر بھی تقسیم نظر آتی ہے۔ خواجہ آصف اور رانا تنویر کے بیانات کا تجزیہ یہ ہی ظاہر کرتا ہے کہ دونوں اطراف کے فریقین نے ایک دوسرے کے خلاف سیاسی لنگوٹ کس لیا ہے اور کوئی بھی اپنے اپنے سیاسی، ذاتی یا شخصی مفاد پر سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔

بنیادی طور پر نواز شریف یا مریم نواز کی حکمت عملی یہ ہے کہ وہ ایک بڑا سیاسی دباؤ مزاحمت کی سیاست کا کارڈ کو استعمال کر کے پس پردہ قوتوں سے محفوظ راستہ تلاش کریں۔ عملاً نواز شریف اور مریم نواز بھی پس پردہ قوتوں سے اپنے ہی سیاسی مفاد پر سمجھوتہ کرنا چاہتے ہیں۔ جبکہ شہباز شریف یہ ہی کام مفاہمت کے سیاسی کارڈ کی بنیاد پر کھیلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان دونوں خاندانوں کی باہمی طاقت کی لڑائی نے عملی طور پر پارٹی کو ایک بڑے سیاسی تضاد، ٹکراؤ کی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے۔

اس وقت عملی صورتحال یہ ہے کہ پارٹی کو بیک وقت لندن یا جاتی عمرہ یا ماڈل ٹاؤن سے چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مریم نواز کا یہ اعلان کافی واضح ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں نواز شریف کے بعد متبادل قیادت کے طور پر دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں اور جس نے بھی مسلم لیگ نون میں سیاست کرنی ہے اسے ان کی قیادت کو قبول کرنا ہو گا۔ وہ مسلم لیگ نون جس نے حکمران جماعت کا مقابلہ کرنا تھا اس وقت جماعتی سطح پر اپنے ہی اندر ایک دوسرے کے خلاف حکمت عملیوں کو ترتیب دے کر جماعتی معاملات کو میڈیا یا سیاسی جلسوں کی زینت بنا کر خود کو ہی مشکل صورتحال سے دوچار کر رہے ہیں۔

شہباز شریف کی کوشش تھی کہ وہ مصالحتی کارڈ کی مدد سے ہی پارٹی میں اپنی سیاسی گرفت کو مضبوط بنا کر خود کو 2023 کے انتخابات میں ایک متبادل قیادت کے طور پر پیش کریں۔ شہباز شریف کی ایک برتری مسلم لیگ نون کے ارکان اسمبلی یا انتخابی امیدواروں کی حمایت کا حصول ہے۔ کیونکہ جو لوگ بھی انتخابی سیاست کی عملیت پسندی کو جانتے ہیں وہ یہ اعتراف کرتے ہیں کہ اگر مسلم لیگ نون نے 2023 میں اپنے لیے سیاسی راستہ محفوظ بنانا ہے تو یہ کام ٹکراؤ یا مزاحمت سے نہیں بلکہ مفاہمتی کارڈ سے شہباز شریف کی قیادت میں ممکن ہو سکتا ہے۔

مریم نواز جانتی ہیں کہ شہباز شریف یا حمزہ شہباز کی ساری کوشش 2023 کے انتخابات میں بڑی طاقتوں کے سامنے خود کو قابل قبول بنا کر عملی طور پر اپنے لیے اقتدار کا راستہ ہموار کرنا ہے۔ جبکہ مریم نواز اگر خود اقتدار میں نہیں آتیں تو وہ اپنے ہی خاندان سے کسی دوسرے کو یہ راستہ دینے کی حامی نہیں۔ میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کے حمزہ شہباز یا شہباز شریف کی نگرانی میں ہونے والے اجلاسوں میں مریم نواز گروپ کے لوگوں کو کیسے نظرانداز کیا جاتا ہے او ریہ ہی کھیل مریم نواز کے اجلاسوں میں شہباز شریف کے حامیوں کے ساتھ بھی ہو رہا ہے۔

سب سے بڑی مشکل مسلم لیگ نون کے اہم راہنماؤں کو ہے جو میڈیا یا سیاسی محاذ پر اپنی ہی جماعت میں کس کی حمایت یا مخالفت میں پیش ہوں۔ کئی اہم مسلم لیگی راہنما اول میڈیا کے سامنے آنے سے گریز کر رہے ہیں یا آتے ہیں تو واضح جواب دینے سے قاصر ہیں۔ رانا ثنا اللہ جو نواز شریف شہباز شریف کے معاملے میں وکٹ کے دونوں طرف کھیل رہے ہیں ان کو بھی یہ اعتراف کرنا پڑا کہ پارٹی میں ایک بڑی تعداد نواز شریف یا مریم نواز کے ٹکراؤ کی پالیسی کے حامی نہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا نئے انتخابات سے قبل مسلم لیگ نون ایک ہی بیانیہ کی بنیاد پر انتخابی عمل میں حصہ لے سکے گی اور داخلی محاذ پر یہ فیصلہ بھی کرسکے گی کہ اس کی واضح حکمت عملی کیا ہوگی؟ اگر ایسا نہیں ہوتا تو کیا مسلم لیگ نون دو حصوں کے بیانیہ کی بنیاد پر انتخابی عمل کا حصہ بنے گی اور اگر ایسا ہوتا ہے تو اس تقسیم کا فائدہ یقینی طور پر ان کے سیاسی مخالفین کو ہی ہو گا۔ سیاسی مخالفین میں محض تحریک انصاف ہی نہیں بلکہ خود پنجاب میں پیپلز پارٹی بھی اس تقسیم سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گی۔

جبکہ اس کے برعکس تیسرا نقطہ نظر یہ ہے کہ پارٹی کو واضح طور پر اپنی سیاسی حکمت عملی کو ایک ہی بیانیہ میں ڈھالنا ہو گا وگرنہ پارٹی کی واضح تقسیم کو روکنا ممکن نہیں ہو گا اور اسی جماعت کے لوگ اس باہمی ٹکراؤ کی وجہ سے اپنے لیے الگ محفوظ راستہ تلاش کریں گے۔ اس لیے اگر واقعی مسلم لیگ نے شہباز شریف کی قیادت میں مفاہمت کی سیاست سے ہی آگے بڑھنا ہے تو یہ کام محض کسی کمزور دلیل یا کمزور اقدامات سے ممکن نہیں۔

شہباز شریف، خواجہ آصف، رانا تنویر، راجہ ظفر الحق، خواجہ سعد رفیق، سردار ایاز صادق کو عملاً کچھ اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ پارٹی میں موجود کنفیوژن کا خاتمہ ہو۔ اگر شہباز شریف یہ سمجھتے ہیں کہ وہ مریم اورنگزیب کے مقابلے میں اپنا پارلیمانی یا سیاسی ترجمان بنا کر پیدا ہونے والے تضادات کو ختم کرسکیں گے تو یہ کسی بھی صورت میں ممکن نہیں ہو گا۔ کیونکہ مریم نواز کے حامی بھی میدان میں ہیں اور وہ کسی بھی صورت میں شہباز شریف یا حمزہ شہباز کو ریلیف نہیں دیں گے۔ ان کی ہر ممکن کوشش ہوگی کہ مریم نواز کی بالادستی بھی قائم رہے اور شہباز شریف کے بیانیہ پر بھرپور جواب بھی دیا جائے۔

یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ عملی طور پر مسلم لیگ نون خاندان کی لڑائی میں خود کو الجھا چکی ہے یا اپنے آپ کو تقسیم کرچکی ہے۔ ہمارے وہ دوست جو کل تک نواز شریف اور مریم نواز کی لڑائی کو ایک بڑے سیاسی جمہوری بیانیہ کی صورت میں پیش کر کے ان کو ایک بڑے انقلابی کے طور پر پیش کر رہے تھے اب کافی مایوس نظر آتے ہیں۔ اس طبقہ کو بھی محسوس ہوا ہے کہ بیانیہ کی جنگ واقعی ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر نواز شریف، مریم نواز نے استعمال کیا ہے اور اصل لڑائی جمہوریت کے مقابلے میں اقتدار یا طاقت کی رسہ کشی کی ہے۔

اس لیے مسلم لیگ نون کے پاس وقت زیادہ نہیں او ران کو ہر صورت میں اگر 2023 کے انتخابات میں ایک بڑے فریق کے طور پر پیش ہونا ہے تو تضاد پر مبنی سیاست سے خود کو بھی اور پارٹی کو بھی نکالنا ہو گا۔ کیونکہ اب اس لڑائی میں جو شدت دیکھنے کو مل رہی ہے اور تواتر کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر ٹکراؤ کے مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں اس کو ختم کیے بغیر یا ایک داخلی محاذ پر ایک بڑے سیاسی اتفاق رائے کے بغیر یہ بحران حل نہیں ہو سکے گا بلکہ مزید سیاسی انتشار پیدا کر کے ان کی مشکلات میں اور زیادہ اضافہ کا سبب بنے گا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments