خلط ملط

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قاسم یعقوب صاحب کا ناول ”خلط ملط“ موصول ہوا۔ ابتدائی دنوں میں بوجہ مصروفیت ٹالتی رہی۔ سوچتی رہی، نام منفرد ہے، آگے دیکھیں گے۔ بے دلی سے پڑھنا شروع کیا (یہ میری بری عادت ہے ) ۔ بس کتاب کا کھلنا تھا کہ سب خلط ملط ہو گیا۔ پہلے سوچا۔ یہ لکھنے والے نے کیوں لکھ دیا، پھر سوچا، بلا وجہ ہی خلط ملط باتیں لکھ ڈالیں اور اس کے بعد سب سے زیادہ خلط ملط بات ذہن میں یہ آئی کہ اسے گھر والوں کی نظروں سے دور رکھنا چاہیے ( مضر صحت ذہنی برائے بیمار معاشرہ۔

یہاں ہر گز انفرادی ستائش مقصود نہیں ) ۔ ہر ورق یہ سوچ کر پلٹتی رہی کہ اب کہانی میں کوئی نہ کوئی بات ضرور ”درست“ سمت میں جاتی دکھائی دے گی لیکن راجہ، باجی خالدہ، وقاص اور پیر صاحب کا بل سیدھا نہ ہو سکا۔ ہر کردار جو بیمار معاشرے کے بیمار اداروں کو استعاراتی پیرائے میں بیان کرتا رہا۔ خود سے نفرت کرنے پر مجبور کرتا رہا۔ نورین جیسی کئی عورتوں کے بسے بسائے گھر، بکھری ہوئی ذات، توقیر سسرال و سماج، عورت ذات کی ہر ممکنہ سطح پر توہین اور اس پر اس سے خدائی درجہ تک توقعات نوازش رکھنا۔

یہ سب بہت عام ہی تو ہے لیکن۔ بہت۔ عام۔ ہے! ہاں مگر مجھے رئیس جیسے کرداروں سے توقع ہے کہ اپنی ذاتی انا اور ضرورت سے آگے کا سفر حقیقتاً انسانیت کی خدمت کا سفر ہے۔ صغرٰی اور اس کے شوہر جیسے لوگ بھی ہماری دنیا میں بہت کم ہیں لیکن یہی انسان دوستی کا مان ہیں۔ یوں بھی رئیس کا آخر میں اکیلا رہ جانا ہی بنتا ہے۔ انسانی آزادی کا احترام کرنے والوں کو تنہائی، خراج کے طور پر عطا کی جاتی ہے!

کتنی بار میں نے کتاب رکھ دی اور دور سے اسے عجیب نظروں سے دیکھتی رہی۔ کیا اس سے بڑھ کر کسی کردار، پلاٹ یا بیان کی گئی سفاک حقیقتوں کا اثر انسانی نفسیات پر ہو سکتا ہے؟ سچ تو یہ ہے کہ یہ کوئی تبصرہ بھی نہیں۔ وہ کیفیت متلی ہے جسے میں کوئی معتبر شکل دینے کی کوشش میں ہوں۔ عجیب بات ہے کہ ناول کی کہانی کی سچائیوں میں کچھ نیا نہیں اور اس سے زیادہ عجیب بات۔ یہ سب وہ سچ ہے جس سے میں اور آپ ہمیشہ نظر چراتے ہیں۔

قاسم صاحب نے لکھتے ہوئے مجھ ایسے نازک دل قارئین کا خیال نہیں کیا۔ کہ ایسی بالغ نظری بڑے بڑوں کو تنہائی میں بیٹھے ایک بار جھنجھوڑتی ضرور ہے! مزے کی بات یہ ہے کہ آخر پر مجھے ان سب کریہہ کرداروں سے ہمدردی محسوس ہونے لگی۔ شاید قاسم صاحب نے انہی بیماروں سے ہمدردی کی مد میں قلم اٹھایا ہو! آپ کہیں گے میں نے ناول کا کوئی تفصیلی پہلو یہاں بیان نہیں کیا۔ تو جناب اس کی ایک وجہ ہے۔ لائل پور کی باتیں۔ نفسیات۔

مذہب۔ سائنس۔ فکشن۔ کشمکش۔ اضطراب۔ افتاد۔ مجبوریاں۔ گہرے راز۔ کریہہ حقیقتیں۔ صنف نازک کا آہنی رنگ۔ آہنی صنف کی نفسانی نزاکتیں۔ میں چاہتی ہوں۔ آپ مثال پبلیکیشنز، فیصل آباد سے یہ کتاب خرید کر یہ سب اس میں خود تلاش کریں۔ مجھے امید ہے آپ مجھ سے بہتر قاری ہونے کے ناتے بہت سے نئے پہلو بھی تلاش کر لیں گے اور میری طرح رات گئے تک اسے سوچتے رہیں گے۔

کتاب: خلط ملط (ناول)
مصنف: قاسم یعقوب
قیمت: 600
اشاعت: مئی 2021
پبلشر: مثال پبلشرز، فیصل آباد


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments