جھیل کے آنسو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے پھیپھڑے برف سے بھرے ہوئے تھے۔ ڈھلوان چڑھتے چڑھتے ہماری رانوں میں جیسے تیزاب پھیل گیا تھا۔ سامنے آخری تودہ تھا۔ ہم برف میں پنجے پھنسا پھنسا کر قدم اٹھاتے آخری تودے کے اوپر چڑھ آئے۔ سامنے دیکھا! مگر یہاں تو کچھ بھی نہیں تھا۔ بس دھند کی ایک گاڑھی دبیز چادر تھی جو ہمارے چاروں طرف سے لپیٹے ہوئے تھی۔ ہم نڈھال ہو کے بیٹھ گئے اور آسمان تکنے لگے۔ اچانک برفانی ہوا کے جھونکے چلنے لگے۔ کہر چھٹنے لگی اور سارا منظر شفاف ہو گیا۔ گویا کسی سہاگن کا گھونگھٹ سرک گیا ہو۔ ہمارے سامنے بیضوی نقشے کہ برف کے گرد پھیلا ہوا گہرا نیلا پانی تھا۔ یہ آنسو جھیل تھی۔ یہ آنسو کم اور آنکھ زیادہ لگ رہی تھی۔ کسی کنواری بنگالن کی آنکھ۔ تراشی ہوئی، کاجل لگی اور پر شکوہ۔

اگلے دن جب ہم بائیکس پر مظفر آباد سے ناران کو نکلے تو ہمارا ارادہ محض آوارہ گردی کا تھا۔ پہلی منزل گڑھی حبیب اللہ کے خوشبو دار چپل کباب تھے۔ تازگی میں لاجواب اور ذائقے میں بے مثال۔ یہاں سے بالاکوٹ اور کاغان روڈ پر بائیک بھگاتے ہم شمال کو جانے لگے۔ ہم شام سے پہلے ناران پہنچنا چاہتے تھے۔ راستے میں جا بجا مصنوعی آبشاریں ہیں اور ان آبشاروں کے نیچے ٹراوٹ مچھلی کی مصنوعی افزائش کے لیے فش فارم بنائے گئے ہیں۔ ان فش فارموں کے ساتھ ترتیب سے چارپائیاں لگائی گئی ہیں جن کے نیچے ٹھنڈا پانی بہتا ہے۔ ہم تھک جاتے تو ان چارپائیوں پر دراز ہوتے، ٹھنڈے پانی میں پاؤں بھگو کر دودھ پتی کے مگ انڈیلتے اور ساری تھکن کافور ہو جاتی۔ ہم آگے چل پڑتے۔

شام ہونے سے پہلے ہم ناران بازار پہنچ گئے۔ سیزن آف تھا۔ ہم نے ارزاں نرخوں پر ایک خیمہ حاصل کیا۔ زاد راہ خیمہ میں رکھا اور ناران مال روڈ کی سیر کو نکل گئے۔ اس روڈ پر مٹر گشت کا اپنا ہی سحر ہے۔ تیز ٹھنڈ میں کافی کے کپ تھامے، منہ سے بھاپ اڑاتے قہقہے لگاتے ہوئے چلتے جانا جنت کا مزہ ہے۔

گو ہم کئی بار ناران تک جا چکے تھے مگر آنسو جھیل کے بارے فقط اتنا جانتے تھے کہ اس کی راہ جھیل سیف الملوک سے نکلتی ہے۔ ہم نے تجویز پیش کی کہ کیوں نہ صبح آنسو جھیل کا سفر کیا جائے۔ ہم چاروں یعنی راقم، زین، شقائق اور حمزہ نے فوراً اتفاق کیا، خیمہ مالک سے معلومات اکٹھی کیں۔ اس نے بتایا کہ سردیاں ہونے کی وجہ سے صبح نو بجے کے بعد اگر نکلا جائے تو شام تک واپس پہنچنا مشکل ہے۔ اور اگر راستے میں شام ہو گئی تو برف میں زندگی کی شام بھی ہو سکتی ہے۔ ہماری نسوں میں جوش سا بھر گیا۔ اور ہم خیموں میں لوٹ آئے۔

لحافوں میں دبکے ہوئے ہم اگلے روز کا پلان کرنے لگے۔ جیپوں پر جانے کے بجائے ہم نے بائیکس پر ہی سیف الملوک تک جانے کی راہ نکالی۔ صبح جلدی بیدار ہوئے۔ نیم خوابیدہ دریائے کنہار پر منہ دھویا، تیل میں چپڑے پراٹھوں کا ناشتہ کیا اور سفر شروع۔ دو تہائی روڈ تو قدرے بہتر تھی اور پھر وہی بے شمار کنکر اور بہتے جھرنے جن پر ٹائر پھسلاتے ہم سیف الملوک پہنچ آئے۔

چھپر ریستوران کے باہر دھوپ میں کرسیاں ترتیب دی گئی تھیں۔ ان پر براجمان ہوئے، دھوپ سینکتے ہوئے چائے منگوائی اور وہیں موجود ٹٹو بانوں سے مول تول کرنے لگے۔ ابھی سیاحوں کی آمد کم کم تھی لہذا ہمیں با آسانی چار ٹٹو اور ان کے ساتھ ان کے مالک اور گائیڈ بچے بھی مل گئے۔ یہ بچے پربتوں کے شاہزادے تھے۔ برف ان کی لیے ململ تھی اور چٹانیں قالینوں ایسی نرم۔ انہوں نے ہمیں آنے والے راستے کے لیے تیار مشروبات، اسنیکس اور کچی پیاز ساتھ لے جانے کا مشورہ دیا۔ کچی پیاز پر ہم نے تعجب کا اظہار کیا تو پتہ چلا کہ بلندی جب سانس اکھڑنے لگتی ہے تو یہ سانس بحال کرنے میں مدد دیتی ہے۔

پہاڑی ٹٹو پانی میں چھپا چھپ چلنے لگے۔ خوش کن منظر تھا۔ گھوڑوں کی سموں کے نیچے دھیمی موسیقی کے ایسے بہتا پانی، تاحد نظر تازہ اگی ہوئی گھاس اور گھاس کے بیچوں بیچ برف پگھلنے پر اگنے والے مخصوص مخملی سرخ پھول۔

قریبا ایک ڈیڑھ گھنٹا ایسے ہی قدرتی چشموں، چھوٹے میدانوں، کم بلند کوہساروں اور تا حد نظر دودھیا سفید برف پر ہمارے ٹٹو اپنے سم پھنساتے اوپر کو چلے جا رہے تھے۔ کئی مقامات پر ڈھلوان ایسی شدید تھی کہ گھوڑے تھکاوٹ سے ہانپنے لگتے۔ مجبوراً ہمیں نیچے اتر کر پیدل چلنا پڑتا۔ جب آکسیجن کی کمی کی وجہ سے ہماری سانسیں اکھڑنے لگتیں تو ہم برف پر ہی فراش ہو کر سانس بحال کرتے۔ ہمارے رہبر جو ٹٹووں کے مالک بھی تھے اس دشوار راستے پر بھی بجلی کی تیزی سے چڑھتے چلے جاتے تھے جنہیں دیکھ کر ہم ہمت باندھتے اور قدم اٹھانے لگتے۔

راستے میں ہمیں بے شمار سیاح ملے۔ جو راستے کی دشوار گزاریوں سے آگاہ کرتے اور اپنے نامکمل سفر کی بیتی بتاتے۔ کئی مسافر برف اور چٹانوں پر پھسلنے کی وجہ سے زخمی بھی ہو چکے تھے جو لنگڑاتے ہوئے یا لاٹھیوں کے سہارے چل رہے تھے۔

ہمارے اعصاب پر جنون سا طاری تھا۔ ہم یہ موقع ضائع نہیں کرنا چاہتے تھے اس لیے ہم نے سبھی خطرات کو نظر انداز کیا اور سفر جاری رکھا۔ دھیرے دھیرے آکسیجن کا دباؤ کم اور گاڑھی دھند کا زور بڑھ رہا تھا۔ کچھ لمحوں کو دھوپ نکل آتی اور پھر سے وہی گھپ سفید کہر۔ ایسے میں گائیڈ بچے ہماری رہنمائی کرتے۔ آخری درے کو سر کرتے ہوئے ہمیں اکا دکا لوگ نظر آرہے تھے جو ہم سے آگے سفر کر رہے تھے۔ یہاں سے اوپر تقریباً نوے کے زاویے پر برفیلی ڈھلوان تھی۔ برف کنواری اور ملائم تھی۔ گویا کسی بھی لمحے آپ کا پاؤں پھسلا اور آپ گزوں نیچے کھائی میں گر سکتے تھے۔

ایسے میں ہمارے آگے چلنے والی ٹولی جو ہم سے قریباً بیس فٹ اوپر تھی۔ اس میں سے ایک شخص نے مدد کے لیے آواز بلند کی۔ وہ سب سے آگے جا رہا تھا۔ کسی وجہ سے وہ لڑکھڑایا، خود کو سنبھال نہ سکا اور نیچے پھسلنے لگا۔ اس نے ساتھیوں کا سہارا لینے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہوا اور اس پر دو آتشہ کہ ساتھی بھی توازن نہ برقرار رکھ سکے اور نتیجتاً خوف ناک صورتحال نے جنم لیا۔ سبھی نیچے گرنے لگے۔ نیچے کھائی میں آوارہ اور خونخوار نوکدار پتھر تھے۔

جن سے ٹکرا کر جسم سالم رہنا مشکل تھا۔ یہ لوگ تیز رفتاری سے ہمارے دائیں بائیں سے گزرے اور کمر کے بل نیچے جانے لگے۔ ان کی خوش بختی تھی کہ نیچے پھسلتے ہوئے ان کی سمت بدل گئی اور یہ لوگ بجائے کھائی کے، برف کے ایک میدان میں جا گرے۔ ایک شخص کھائی میں گرا اور اس کا کندھا ایک بڑی چٹان سے بری طرح ٹکرایا مگر ظاہری چوٹ کوئی نہیں آئی۔ یہ مسافر بری طرح کراہ رہا تھا۔

ہم کچھ دیر کھڑے دیکھتے رہے پھر ان لوگوں کو بخیریت پا کر اوپر چڑھنے لگے۔ یہاں لگاتار چند قدم اٹھانا بھی نا ممکن ہو رہا تھا۔ سانس دھونکنی کی طرح چلنے لگتی۔ گائیڈ بچوں نے ہمیں کچی پیاز چبانے کا کہا۔ بادل نخواستہ ہم نے پیاز نکالی اور سیبوں کے ایسے چبانے لگے۔ اس سے واقعتاً ہماری سانسیں بحال ہو گئیں اور ہم چڑھتے چڑھتے اوپر آ گئے۔

مگر یہاں تو کچھ بھی نہیں تھا۔ چاروں طرف دھند اور برف کا راج، حد نگاہ صفر۔ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا تھا۔ ہم نڈھال ہو کر بیٹھ گئے۔ ایسے میں ٹھنڈی ہوائیں چلنے لگیں اور دھند چھٹنے لگی۔ اب ہمارے سامنے وہ منظر تھا جو شاید قدرت آوارہ گردوں کے لیے ہی تخلیق کرتی ہے۔

سامنے نیچے نیچر کی آنکھ ہمیں دیکھ رہی تھے۔ اس کا نے نقاب الٹ دیا تھا۔ گہرے نیلے رنگ کی پتلیاں اور دودھیا سفید برف سے بنا ہوا آنکھ کا تارا۔ گویا کسی کنواری بنگالن کی آنکھ۔ خوبصورت اور پر شکوہ، سلیقے سے سنوری ہوئی۔ یہ آنسو جھیل تھی۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments