عورتوں کا معاشرہ


معاشرہ دو طرح کا ہوتا ہے خاص طور پر ہمارے ملک میں، ایک معاشرہ مردوں کا جس پر بہت سارے لوگ لکھ چکے ہیں اور لعن طعن کر چکے ہیں خاص کر کے خواتین، یہ بھی اندازہ ہو چکا ہے کہ سارے مرد بڑے ہی ظالم ہیں اس لیے ابھی اس موضوع کو رہنے دیتے ہیں پھر کبھی سہی۔

مگر پتا نہیں کیوں خواتین یہ بات بھول جاتی ہیں کہ ایک معاشرہ عورتوں کا بھی ہوتا ہے جس میں مرد کی نہیں چلتی مرد اس معاشرے میں کٹھ پتلی ہے۔

جی ہاں عورتوں کا بھی معاشرہ ہوتا ہے اور ڈنکے کی چوٹ پہ ہوتا ہے کسی میں اتنی جرات نہیں کہ اس معاشرے کے اصول و ضوابط کو توڑے مروڑے یا اس میں تبدیلی پیدا کرنے کی کی کوشش کرے وہ خود تبدیلی کے اندر سما کر زندگی گزار رہا ہوتا ہے مگر مزے کی بات تو یہ ہے کہ اس معاشرے میں بھی سب سے زیادہ استحصال عورتوں کا ہی ہو رہا ہوتا ہے ایک مارننگ شو کی ہوسٹ سے پوچھا کہ آپ کیا بننا چاہتی ہیں تو اس نے جھٹ سے جواب دیا ساس یا پھر پھوپھو یہ ہمارے معاشرے کی سب سے زیادہ سپرپاور عورت ہے۔

یہ عورت جو زخم کھا کے زخمی شیرنی بنتی ہے مگر عورت ہی کے لئے! جو دکھ تکلیف وہ ایک نسل سے سہ کے آئی ہے اس کا ہی پرچار کرتی ہے اور مرد یہاں قدموں کی جنت کے گم ہو جانے کے ڈر سے بیوی کو ہی لتاڑتا ہے۔ اس کی کو گھر سے باہر نکال دیتا ہے کیونکہ ماں نہیں مل سکتی بیوی ہزار۔

دوسری بیوی دو ہی صورتوں میں بستی ہے یا تو ساس کی سپرلیٹو ڈگری ہو یا پھر گائے۔

دونوں صورتوں میں وقت کے گزرنے کا انتظار ہی رہتا ہے اور فتح آخر عورت کی ہی ہوتی ہے کیونکہ مرد گھریلو سیاست میں نہیں پڑتا اسے اپنے معاشرے میں ہی زندہ رہنا ہوتا ہے۔

یہاں بھی مرد کو آزادی ہوتی ہے مگر۔ ۔ ۔

پڑوس کی بچی یا خاندان کی بہن ہے اور مرد عورت کے معاشرے میں اس سے ہنس ہنس کے باتیں کر رہا ہے تو کبھی کسی کی ماں یا بہن کو تکلیف نہیں ہوتی۔

شہزادہ ہے میرا بھائی لڑکیاں ایسی تو فدا نہیں اس پر بس یہ عورت کا معاشرہ مرد کو سزاوار اور قصور وار اس وقت ٹھہراتا ہے جب وہ اپنی بیوی سے ہنس کر بات کر لے اس کا خیال کر لے، جورو کا غلام کیسا انگلی پہ نچا کر رکھا ہے ہمارا تو کبھی نہ خیال کیا اس طرح کے جملوں کی بازگشت شروع ہوجاتی ہے۔

فیس بک پر سنت رسول جو کہ بیویوں کے خیال رکھنے پہ آ رہی ہوتی ہے اس پر ہزاروں لائک آ جاتے ہیں مگر عملاً وہی ہوتا ہے جو اس معاشرے یعنی عورت معاشرہ کی ریت ٹھہری ہے۔

اس معاشرے میں عورت کو چومکھی لڑنی پڑتی ہے ایک طرف بیٹے کو بچانا ہوتا ہے بیوی سے، دوسری طرف داماد کو سکھانا ہوتا ہے کہ بیوی ہی گھر کو جنت بناتی ہے خیال رکھو۔

صورت حال کوئی بھی ہو اس معاشرے میں عورت منظم صرف ایک ہی صورت میں ہوتی ہے جب بھائی کا ہاتھ سے نکلنا ہوتا ہے یا جورو کا غلام بننے کا ڈر ہوتا ہے ورنہ سچ تو یہ ہے کہ اس معاشرے میں عورت نے ہی عورت کو ڈسا ہے کبھی ساس کے روپ میں تو کبھی نند کے روپ میں۔

کبھی آپ نے یہ واقعہ نہیں سنا ہو گا کہ کسی بیٹے نے اپنی بیوی کو مارا ہو اور ماں نے غصے میں دو تھپڑ اپنے بیٹے کے گال پہ جڑے ہوں یا بہو کے آگے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہو گئی جبکہ ماضی میں وہ یہ زخم سہ چکی ہوتی ہے مگر حال میں آتے آتے دم خم بس بیٹے کی کمائی تک ہی رہ جاتا ہے اسے لگتا ہے مرد تو ایسا ہی ہوتا ہے اسے ایسے ہی کرنا چاہیے عورت آگے بولے گی تو مرد کا ہاتھ تو اٹھے گا ہی۔

عورتیں تو دونوں طرف پٹ رہی ہیں مردوں کے معاشرے میں بھی اور اپنے معاشرے میں بھی۔ اپنے معاشرے میں ہم اپنی ہی صنف کے دشمن بنے بیٹھے ہیں کیا اس کو روکنے کا اختیار بھی ہم کھو چکے ہیں؟