اب ”عمر“ کی نقدی ختم ہوئی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لاکھوں چہروں پر مسکراہٹ لانے والے عمر شریف ہنساتے ہنساتے رلا کے چل دیے ۔۔

ابھی چند روز پہلے کی ہی تو بات ہے جب ٹی وی پر عمر شریف صاحب کی ناسازی طبع کی خبر سنائی دی ۔۔۔پہلے پہل تو ایسا ہی لگا کہ عمر شریف صاحب کسی معمول کے امراض کا شکار ہو کر اسپتال جا پہنچے ہیں اور جلد ہی صحتیاب ہوکے گھر واپس جائیں گے ۔لیکن پھر اس حوالے سے آنے والی خبریں طول پکڑتی گئیں ۔۔پہلے عمر شریف کی بیروں ملک علاج کے لیے جانے کی خبریں پھر ان کے سفر میں حائل رکاوٹوں کی خبریں آتی رہیں ،پھر بھی دل کو نجانے کیسا اطمینان تھا کہ ہم سب کے پیارے عمر شریف جلدی صحتمند ہوجائیں گے اور بھلے چنگے ہو کر پہلے کی طرح اپنی باتوں سے محفلوں کو زعفران زار بنائیں گے ۔

لیکن کیا کہیں مشیت ایزدی کہ عمر شریف کی عمر رواں اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہی تھی اسی لیے باوجود حکومتی کوششوں کے ان کے بیرون ملک جانے میں مسائل آتے رہے اور ہوتے ہوتے اس کام میں کافی دن لگ گئے جس کی وجہ سے عمر شریف خاصی تاخیر سے علاج کے لیے امریکا روانہ ہوئے تاہم دوران سفر طبیعت بگڑنے پر انھیں جرمنی کے اسپتال میں علاج کے لیے داخل کیا گیا لیکن کہیں قسمت کی ستم ظریفی یا پھر عمر شریف کا سفر ہی تمام ہونے کا وقت آن پہنچا تھا سو ظرافت کے بے تاج بادشاہ عمر شریف لاکھوں کروڑوں مداحوں کو حیران ،پریشان اور غمزدہ چھوڑ کے اپنے خالق حقیقی سے جا ہی ملے ،یوں کامیڈی کنگ کا اس جہاں فانی سے رابطہ ہمیشہ کے لیے منقطع ہوگیا ۔۔۔

دنیائے ظرافت کے شہنشاہ عمر شریف نے اپنے فنی سفر کا آغاز 1974 میں محض 14 برس کی عمر میں کردیا تھا تاہم ان کو بام عروج 80کی دہائی میں اس وقت ملا جب ان کے اسٹیج ڈراموں نے پاکستان سمیت دنیا بھر اپنے منفرد انداز ظرافت سے دھوم مچا دی ۔۔۔بڈھا گھر پہ ہے سے لے کر بکرا قسطوں پر ،جیسے نجانے کتنے ہی اسٹیج ڈرامے ہیں جو عمر شریف کی بے لاگ اداکاری کے باعث آج بھی لاکھوں ذہنوں پر نقش ہیں ۔عمر شریف کا دور وہ دور تھا جب اسٹیج ڈرامے معاشرتی اور خانگی مسائل کو اجاگر کرنے اور لوگوں کو صحتمند تفریح فراہم کرنے کے لیے بنائے جاتے تھے ۔

عمر شریف نے بھی اسٹیج ڈراموں کی اس پہچان کو آگے بڑھایا اور ان کے ڈرامے لوگ باقاعدہ فیملیز کے ساتھ ذوق و شوق سے دیکھنے جاتے رہے یہاں تک کہ وہ وقت بھی آیا کہ اسٹیج ڈراموں میں اداکاری اور معیار کی جگہ پھکڑ پن اور بیہودگی نے لے لی ۔۔ایسے میں عمر شریف نے اس روش کا حصہ بننے کے بجائے اسٹیج ڈراموں سے کنارہ کشی اختیار کی اور ٹیلیوژن اور فلموں کی جانب متوجہ ہوئے ۔عمر شریف نے پاکستانی سینما کو کئی کامیاب فلمیں دیں جو آج بھی اگر دیکھی جائیں تو چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ دوڑ جاتی ہے ۔عمر شریف نے پاکستان کے سمیت دنیا بھر میں اپنے فن کا لوہا منوایا اور دنیا بھر میں ملک و قوم کا نام حقیقی معنوں میں روشن بھی کیا ۔۔۔

ٓآج جب کانوں نے یہ خبر سنی کے بادشاہ ظرافت عمر شریف اب ہم میں نہیں رہے تو چند لمحے دل نے یہ بات ماننے سے ہی انکار کردیا کہ بھلا ہم سب کے پیارے عمر شریف کیسے ایسے اچانک دنیا چھوڑ گئے ؟ابھی تو نجانے کتنے چٹکلے تھے جو عمر شریف کی زبان سے نکلنے کو بیتاب تھے ۔۔نجانے کتنی ہی ایسی باتیں جو برجستگی اور بے ساختگی میں عمر شریف کی زبان سے ادا ہونی تھیں ،ابھی تو نجانے کتنے اور اسٹیج ڈرامے بننا تھے جن میں ان کے مداح ان کو اداکاری کرتے دیکھنا چاہتے تھے ۔

ابھی تو نجانے کتنے انٹرویز تھے جو عمر شریف کے ہونا تھے اور ہم سب کو ان کے بارے میں مزید جاننا تھا ۔ابھی عمر شریف کی باتوں سے نہ دل بھرا تھا اور نہ ہی طبیعت سیراب ہوئی تھی ۔ابھی تو ان کی زیرلب مسکراہٹ کے پیچھے چھپے نجانے کتنے ہی جملے تھے ان کے مداحوں کی سماعتوں تک پہنچنے کو بے قرار تھے ۔۔۔مگر ۔۔ہائے کیا کیجیئے وہ جسے کہتے ہیں نا مشیت ایزدی ۔۔تو اس کے آگے بھلا کس کی چلی ہے ؟سو عمر شریف بھی چل دیے ۔اب باقی رہ گئی ہیں تو ان کی یادیں، ان کی باتیں ،ان کے قصے ۔۔۔۔اور ان کے بے ساختہ قہقہے ۔۔۔جو بہت سے ڈراموں فلموں میں رہتی دنیا تک قید رہیں گے۔۔جب جی اداس ہو یا اس فانی دنیا کی کج روی دل کو زخمی کرے تو عمر شریف کا کوئی شو نکال کے دیکھ لیا کریں گے کہ اب فقط صورت یہ ہی تیرے دیدار کی ۔۔۔۔

ﷲ تعالی سے دعا ہے کہ جس طرح عمر شریف نے دنیا میں لاکھوں روتے چہروں کو ہنسایا ایسے ہی عالم بالا میں بھی عمر شریف کی منزلیں آسان ہوں اور کامیابیاں ان کے قدم چومے۔۔۔۔۔۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments