بڈھا اب گھر پہ نہیں ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ سن 91، 92 کی بات ہوگی، میرے اسکول سے گھر تک کا راستہ بمشکل ایک ڈیڑھ کلومیٹر تھا لیکن گلیوں میں سے نکلتے ہوئے طویل محسوس ہوتا تھا، اس کی یہ وجہ بھی ہو سکتی ہے کہ اس زمانے میں قریب قریب کے گھروں میں رہنے والے ہم چند کلاس میٹس چھوٹے چھوٹے ڈگ بھرتے باتیں کرتے، چیز کھاتے اور راستے میں پڑنے والی ہر نئی اور منفرد چیز کا مشاہدہ کرتے گھر پہنچتے، جس میں اکثر وقت لگ جایا کرتا تھا۔ کراچی کا یہ علاقہ اب بھی پاپوش نگر کہلاتا ہے، یہاں چھوٹی چھوٹی گلیوں میں چمڑے کی مصنوعات بالاخصوص جوتے بنانے کے درجنوں کارخانے مکانوں کے کمروں اور برآمدوں ہی میں چل رہے ہیں۔

اسکول سے واپسی پر ہمارا رخ خلافت چوک سے چاندنی چوک کی جانب ہوتا تھا۔ ایک سیدھا راستہ بھی تھا جو لالا زار مارکیٹ سے صرافہ بازار کو ہوتے ہوئے بالکل ہمارے پرانے محلے میں ہی نکلتا تھا لیکن میں جان بوجھ کر پیچھے والا، یعنی جگر مراد آبادی لائبریری کی طرف کا راستہ اپناتا جس کی وجہ اکثر عمر شریف سے ملاقات ہوتی تھی۔ اس عمر میں مجھے کسی کا فین ہونے کا احساس اور سمجھ تو نہیں تھی لیکن یہ یاد ہے کہ میں آڈیو کیسیٹس پر سنے عمر شریف کے جملے اپنے دوستوں کو عمر شریف کے مخصوص انداز میں سنانے کی کوشش کیا کرتا تھا۔

یہ موقع اس وقت خاص طور پر میرے لئے غیر معمولی ہو جایا کرتا جب ہم اسی راستے میں پڑنے والی آڈیو اور وڈیو کیسیٹس کی متواتر دکانوں کے سامنے سے گزرا کرتے جن کے شیشوں پر عمر شریف کے نئے اور پرانے ڈراموں کے پوسٹر چسپاں ہوتے تھے۔ میرے گھر میں ماحول سخت تھا لہذا یہ ڈرامے وڈیو کیسٹ پر دیکھنے کا موقع کم اور مشکل سے ملتا لیکن میرے لئے ان پوسٹروں میں بھی بہت سی انٹرٹینمنٹ نکل آیا کرتی تھی۔ اگر آپ ان پوسٹروں میں عمر شریف کا چہرہ غور سے دیکھیں تو ہر ایک میں ایسا لگتا کہ جیسے وہ آپ سے کچھ ایسا کہنا چاہ رہے ہیں جو اس سے پہلے کبھی کسی نے نہیں سنا، وہ چہرہ اور اس کے اطراف کرداروں کو دیکھ کر میں یہ اندازہ لگانے کی کوشش کیا کرتا تھا کہ اس بار کسی کی باری ہے۔

کیا اس دفعہ پروفیسر نظامی کی نوک جھونک مرزا سے ان کے پاجامے پر ہوگی یا فون کر کے بڈھا گھر پہ ہے کہ تکرار کرنے والے کی شناخت راز افشا ہو گا۔ تجسس عام طور پر انسان کو تنگ کرتا ہے لیکن عمر شریف کا ہر بار نئی مسکراہٹ اور شرارت والا تجسس بھرا پوسٹر میرے لئے امکانات کا نیا جہان آباد کر دیا کرتا تھا۔ بکرا قسطوں پہ پارٹ ون میں نواب صاحب کے آداب والے سین کو یاد کیجئے۔ نواب صاحب نے پورے دس مرتبہ آداب کیا اور عمر شریف کی طرف سے گردن دبوچے جانے والے سین سے پہلے ہر بار اس کا جواب مختلف انداز میں دیا گیا۔

عمر بھائی نے پہلے ہاتھ چومے، پھر ماتھا، یہاں تک کے سجدہ تک کر لیا لیکن اس کے بعد دسویں آداب پر جو ہوا وہ تو غمگین سے غمگین شخص کو بھی کھلکھلا کر ہنسنے پر مجبور کردے۔ اسی ڈرامے کے ایک سین میں عمر شریف بیگم سے کہتے ہیں کہ اندر سے مرزا پر لاکر اسپرے کردو، یا شرفو سے کہو کہ بچی کی منگنی میں جو پاجامہ ہم نے مرزا صاحب کو دیا تھا وہ واپس اتار لے۔ میں آپ کو پوری ایمانداری سے بتا رہا ہوں کہ بڈھا گھر پہ ہے اور بکرا قسطوں پر جیسے ڈرامے دیکھ کر میں بعض دفعہ میں اتنا ہنستا، اتنا ہنستا کہ میری آنکھوں سے آنسو نکلنے لگتے، رال ٹپکنے لگتی اور پیٹ میں درد ہوجاتا۔ یہ احساس مجھے پہلی بار اسی دور میں ہوا اور اس کے بعد کسی کامیڈی یا ہنسنے ہنسانے کی بات سن کر مجھ پر ویسی کیفیت نہیں آئی۔

میرے خیال میں عمر شریف کے فقروں سے زیادہ کمال ان کی ڈائیلاگ ڈیلیوری، ٹائمنگ اور لہجے کے اتار چڑھاؤ کا تھا، بلکہ گفتگو سے زیادہ باڈی لینگویج۔ ایسا لگتا کہ ففٹی ففٹی میں زیبا شہناز کا اچانک طمانچے لگانے کا انداز عمر شریف میں منتقل ہو گیا تھا جس کا انھوں نے بخوبی حق ادا کیا۔ انھوں نے اسٹیج ڈراموں میں جہاں جس کو ٹوکا اور زیر کیا وہاں اس کو ٹوکنا اور زیر کرنا بنتا تھا۔ بطور ایک معمولی سا فین مجھے فخر ہے کہ میں اسٹیج ڈرامے کے دور عمر شریف میں جیا اور وہ ہنسی ہنسا جو عمر شریف کے علاوہ شاید ہی کبھی کوئی دے پائے۔

سوچا ہے آج رات دیر تک میں عمر شریف کے ڈرامے دیکھوں گا اور ہنسنے کے بجائے خوب رؤوں گا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

احسن احمد کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments