رانی : پاکستان کی پہلی بورڈ گیم
بورڈ گیم کی تاریخ بھی انسانی تہذیب سے شروع ہوتی ہے جب ڈائیس ایجاد ہوا تب انسان لکھنا بھی نہیں جانتا تھا۔ اپنے عزیزو اقارب کے ساتھ یادگار وقت گزارنے کے لیے قصے، کہانیاں، موسیقی اور رقص کے ساتھ ساتھ انسان نے بورڈ گیم بھی ایجاد کی
پانچ ہزار سال قبل مسیح قدیم بابل میں کھیلی جانے والی بورڈ گیم (The Royal Game of Ur) دی رائل گیم آف ار، اپنی رول بک کے ساتھ آج بھی موجود ہے۔ قدیم ایران، مصر، انڈیا اور چین ہر تہذیب میں بورڈ گیمز موجود تھیں۔
بیک گیمن (backgammon) آج بھی کھیلی جانے والی دوسری بورڈ گیم ہے جو دو ہزار سال قبل مسیح سے کھیلی جا رہی ہے۔ جبکہ جنگی حکمت عملی پر مبنی بورڈ گیمز کی ابتدا تیرہ سو سال قبل مسیح میں ہوئی۔ شطرنج جیسی مشہور گیم کے ابتدائی شواہد بھی چھٹی صدی عیسوی میں انڈیا سے ملتے ہیں۔
پچیسی جسے آج کل لڈو کے نام سے جانا جاتا ہے۔ انڈیا میں چھٹی صدی عیسوی سے کھیلی جا رہی تھی۔ مغل بادشاہ اکبر کو تو یہ کھیل اتنا پسند تھا کہ ہر محل میں ایک خاص دیوان ہوا کرتا تھا۔ جس کے فرش پر پچیسی بورڈ گیم کا بورڈ سنگ مرمر سے بنایا گیا اور رنگارنگ کپڑوں میں ملبوس غلام اس فرش پر ڈائیس کے مطابق گوٹیوں کی طرح چلا کرتے تھے۔
انگریزوں کے دور میں رائل نیوی کے ایک اہلکار ایلفرڈ کولیئر پچیسی کو اپنے ساتھ انگلستان لے گئے اور 1891 میں اسے (Ludo) لڈو کے نام سے اپنے نام پر پیٹنٹ کروا لیا۔ اس طرح انڈیا کی پچیسی پوری دنیا میں کولیئر لڈو کے نام سے بکنے لگی۔ جبکہ آگرہ اور الہ آباد کے محلوں کے فرش پر آج بھی پچیسی بورڈ کے شواہد ملتے ہیں۔
1904 میں لیزی میگی نے (Landlord board Game) لینڈ لارڈ بورڈ گیم متعارف کروائی جس کا مقصد اس بات کو سمجھانا تھا کہ پراپرٹی کے کرایوں سے کیسے پراپرٹی کی اہمیت میں اضافہ ہوتا ہے اور کرایہ دار غریب سے غریب تر ہوتا رہتا ہے۔ 1935 میں میگی نے اپنی بورڈ گیم کا پیٹنٹ بیچ دیا اور پھر یہ گیم (Monopoly) مونوپلی کے نام سے مشہور ہوئی۔
بیسویں صدی میں کولونیل دور کے بعد ترقی پذیر ممالک تو اپنے مسائل میں پھنسے رہے لیکن امریکہ اور یورپ میں تقریباً ہر تھیم اور موضوع پر بورڈ گیمز پبلش ہوتی رہیں اور لاکھوں کی تعداد میں بکتی رہیں۔
1958 میں پہلی ویڈیو گیم کی آمد کے بعد بھی بورڈ گیمز کی اہمیت میں کمی نہیں ہوئی۔
1995 میں یورپ سے (CATAN) کٹان جیسی بورڈ گیم پبلش ہوئی جس کی چوبیس ملین سے زیادہ کاپیز فروخت ہوئیں اور تیس سے زائد زبانوں میں ترجمہ ہوا۔ کٹان بورڈ گیم کی وجہ سے بورڈ گیمز کی تاریخ میں ایک نئی طرح کی بورڈ گیمز کا آغاز ہوا۔ جنہیں یورو گیمز کہتے ہیں۔
2008 میں امریکہ سے (PANDEMIC) پینڈیمک بورڈ گیم پبلش ہوتی ہے جس میں دنیا کا نقشہ دیا گیا ہے مختلف ملکوں اور شہروں میں مختلف قسم کے وائرس پھیل رہے ہیں کھیلنے والے کھلاڑیوں کو فلائیٹ مینیجرز، ڈاکٹرز، سائنسدان اور مختلف قسم کے رول دیے گئے ہیں جن کا مقصد آؤٹ بریک کو روکنا اور وائرس کا علاج دریافت کرنا ہے۔
یعنی کوئی گلوبل ایشو، کوئی تاریخی ہیرو یا پھر کوئی سوپر ہیرو ایسا نہیں جس پر بورڈ گیم موجود نہ ہو۔
کتابوں کی طرح بورڈ گیمز پبلش ہوتی ہیں اور لوگ اپنے عزیزو اقارب اور بچوں کے ساتھ بیٹھ کر انہیں کھیلتے ہیں۔
بورڈ گیمز نہ صرف اپنے عزیر و اقارب اور دوستوں کے ساتھ وقت گزارنے کا یادگار طریقہ ہے بلکہ انہیں بہت سے دماغی مسائل کا علاج بھی مانا جاتا ہے۔ بورڈ گیمز میں استعمال ہونے والے کمپونینٹس، یعنی گوٹیوں اور ڈائیس وغیرہ کو چھونے کا احساس کسی ویڈیو گیم سے حاصل نہیں کیا جاسکتا۔
بدقسمتی سے پاکستان میں اس وقت صرف 1891 میں انڈیا سے چوری ہونے والی چودہ سو سال پرانی گیم لڈو موجود ہے یا پھر شطرنج۔ پھر یورپ اور امریکہ سے پبلش ہونے والی بورڈ گیمز انتہائی مہنگی ہونے کی وجہ سے پاکستان میں کبھی متعارف ہی نہیں ہو سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر لوگ بورڈ گیمز کی اہمیت سے ناواقف ہیں۔
ٹاک ٹیل سٹوڈیو (Talktale Studio) پاکستان کی پہلی بورڈ گیم، رانی بورڈ گیم (Rani Board Game) کے نام سے 2021 میں پبلش کر رہا ہے جو ایک انٹری لیول ماڈرن بورڈ گیم ہے۔ اسے یو ای ٹی لاہور کے ایک انجینئر فیضان ہاشمی نے ڈیزائن کیا ہے۔
رانی بورڈ گیم ایک تھیمیٹک تھرل گیم ہے جس میں چھپن چھپائی کی مارڈن مکینکس اسے ایک تھرلنگ ریس گیم بناتی ہے۔ جس میں پنجاب کی رانی کو حاصل کرنا دونوں ٹیمز کا مقصد ہے۔ ایک ٹیم اسے بورڈ پر بنے گودام سے باہر نکالنا چاہتی ہے جبکہ دوسری ٹیم اسے گودام میں قید کرنا چاہتی ہے۔
رانی بورڈ گیم اس چودہ سو سالہ خلا کو بھرنے کی ایک حقیر سی کوشش ہے جو کہ لڈو اور رانی کے درمیان موجود ہے اور یہ احساس دلانا ہے کہ ہمیں اپنے بچوں کی ذہنی نشو و نما کے لیے بورڈ گیمز تخلیق کرنی چاہیں۔ امید ہے کہ اور بہت سے ڈیزائنرز اور پبلشرز اس گیم کو کھیل کر بورڈ گیمز بنانے کے کام کو آگے بڑھانے کی کوشش کریں گے۔


