A love letter from yellow leaves

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج پھر میں نے آپ کو خواب میں دیکھا ہے اور یہ وہ خواب ہے جو میں تقریباً ہر رات دیکھتی ہوں۔ یہ بہت خوبصورت خواب ہوتے ہیں۔ اکثر ان خوابوں میں آپ مجھ سے ملا کرتے ہیں۔ کبھی آپ اپنی منفرد کھلکھلاہٹ کے ساتھ ہنستے ہیں اور کبھی آپ بہت غصے میں ہوتے ہیں۔ مجھے نہیں پتا کہ ایسا کیسے اور کیوں کر ہو سکتا ہے کہ ہم اتنا عرصہ ایک ہی شخص کے خواب دیکھتے رہیں۔ خوابوں کی نفسیات کی ماہر، لوری لوئن برگ کہتی ہیں کہ اس کا شاید یہ مطلب ہے کہ خواب میں دکھنے والا شخص ہماری حسیات پہ طاری ہے۔ ان کے مطابق ”ہم ان چیزوں کا خواب دیکھتے ہیں جو ہمارے ذہن پہ سب سے زیادہ سوار ہوتی ہیں“ ۔

خواب ٹوٹ جاتا ہے مگر اس کی چبھن اور دل کا ٹوٹنا برقرار رہتا ہے۔ میں نے ہمیشہ یہ محسوس کیا ہے کہ میری یہ حالت دائمی ہے، شاید تب سے جب ہم پہلی دفعہ ملے تھے، تب سے میرا دل ٹوٹتا رہا ہے، یا شاید، میں اسے خود ہی توڑتی رہی ہوں؟ ہو سکتا ہے کہ میں نے ہی آپ کے تمام الفاظ، آپ کے تمام اعمال کی غلط تشریح کی ہو۔ میں ہمیشہ خود سے یہ کہتی رہی ہوں کہ ایسا دوبارہ نہیں ہو گا لیکن میں آپ کو یقین دلانا چاہتی ہوں کہ میں آپ کے ساتھ پوری زندگی کا سوچے بغیر آپ سے محبت کر سکتی ہوں۔

بلاشبہ میں آپ کو یہ محسوس کروائے بغیر گلے لگا سکتی ہوں کہ میں چاہتی ہوں کہ آپ ہمیشہ میری حضانت کریں۔ بنا کسی تشویش کے، میں جسم کے ملاپ کے بغیر اپنی روح کو آپ کے ساتھ جوڑ سکتی ہوں۔ میں یہ سمجھ سکتی ہوں کہ میں آپ کے دل کو شامل کیے بغیر آپ کو چاہتی ہوں اور یہ کہ، یہ سچ ہے۔

جب بھی میں آپ کو سوچتی ہوں تو میرا دل گہری اداسی میں ڈوب جاتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ میں اب ان انتہاؤں کو برداشت نہیں کر سکتی۔ سچ تو یہ ہے کہ میں نہیں جانتی کہ میں کیا کروں، میں صرف اتنا جانتی ہوں کہ میں کبھی بھی اس طرح محسوس نہیں کرنا چاہتی۔ میں آپ کو اپنے پورے دل سے پیار کرتی ہوں، لیکن جب بھی میں آپ کو سوچتی ہوں اور جب میں آپ کو نہیں بھی سوچتی، ہر بار جب میں فون پکڑتی ہوں اور ہر بار جب آپ کا کوئی میسیج نہیں آتا ہے تو میرا دل دکھتا ہے۔

اپنی حالت کے بارے میں سوچتے ہوئے مجھے تکلیف ہوتی ہے کہ میں اس سب کی حق دار نہیں ہوں اور یہ کہ میں اس سے کہیں زیادہ بہتر کی مستحق ہوں۔ میں سوچتی ہوں کہ کاش کوئی اور راستہ ہوتا لیکن متبادلات کے بارے میں سوچنا بیکار ہے کہ اگر میں یہ کر لیتی تو شاید آپ نا جاتے یا اگر میں کچھ اور کر لیتی تو نتیجہ مختلف ہوتا کیونکہ شاید آپ کو ہر قیمت پر جانا ہی جانا تھا اور آپ میری قیمت پہ چلے گئے۔

میں نے ہر ایک متبادل کے بارے میں پہروں سوچا اور اپنی روح کو جلایا ہے۔ میں نے گھنٹوں خود اذیتی کی اور خود کو مجرم ٹھہرایا ہے کہ شاید مجھ سے ہی کچھ غلط ہوا لیکن شاید میرا کچھ بھی کرنا بیکار تھا کیونکہ آپ پہلے ہی جانے کا فیصلہ کر چکے تھے۔ میرا خیال ہے کہ اگر آپ مجھے اپنا پیار نہیں دینا چاہتے تو مجھے اپنا دل جتنا ممکن ہو تباہ کر لینا پڑے گا کیونکہ میں آپ کے التفات کی توقع کی غیر یقینی صورتحال میں زندہ رہنا جاری نہیں رکھ سکتی۔

میں جب بھی کسی کو اپنے پارٹنر کے ساتھ خوش دیکھتی ہوں تو مجھے بے اختیار آپ ذہن میں تازہ ہو جاتے ہیں کہ کیسے آپ نے اپنی پارٹنر کا نمبر فون میں محفوظ کیا ہو گا، کیسے آپ چھوٹی چھوٹی بات کے لیے انہیں فون کرتے ہوں گے۔ جب آپ فون پہ انہیں مخاطب کرتے ہوں گے تو کتنی اپنائیت اور استحقاق ہوتا ہو گا آپ کے لہجے میں۔ مجھے یہ سوچ کے کوئی لمس اچھا نہیں لگتا کہ آپ کا لمس کسی اور کے لیے مخصوص ہے۔ میری زندگی میں ہر ایک چیز مجھے آپ سے جوڑتی ہے اور مجھے اس محترم ہستی کی یاد دلاتی ہے جس کو آپ میسر ہیں۔

میں آپ سے بہت پیار کرتی ہوں، لیکن میں خود کی عزت بھی کرتی ہوں، اسی لیے میں ایسا محسوس کرنا جاری نہیں رکھنا چاہتی۔ مجھ سے بات کریں کہ میں محبت، احترام اور ایفائے عہد کے لائق ہوں اور مجھے بتائیں کہ آئندہ کچھ برا نہیں ہو گا۔ لیکن شاید مجھے کبھی یہ توقع نہیں کرنی چاہیے کہ آپ میری تکمیل کریں۔ ہاں میں آپ کے بنا ادھوری ہوں مگر اسی ادھورے پن کے ساتھ جینے کے لیے مجھے خود انحصاری کی ضرورت ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ مجھے نہیں پتا کہ آپ کے بنا روز و شب کیسے کاٹوں۔

مجھے نہیں پتا کہ میں اس درد کو کیسے سنبھالوں۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میں ایک بھنور میں پھنس گئی ہوں جہاں ہر زاویے سے صرف درد ہی درد اور اذیت ہی اذیت ہے۔ آپ نے کیوں کیا ایسا؟ میں کیا بگاڑا تھا آپ کا؟ سوالوں نے مجھے گھیرا ہوا ہے، سوال ہی سوال ہیں جو مجھے تکلیف سے دوچار کرتے ہیں۔ میری آنکھیں بھیگتی ہیں اور پھر میری آنکھیں بھیگتی ہیں اور پھر میری آنکھیں بھیگتی ہیں۔ مجھے ہمیشہ فخر رہا ہے کہ دنیا کی کوئی چیز مجھے پریشان نہیں کر سکتی مگر آپ کی محبت کو استثناء حاصل ہو گیا ہے۔

مجھے لگتا ہے کہ میری زندگی ایک محور کے گرد گھوم رہی ہے جہاں مرکز کائنات ایک ہی ذات ہے جیسے چار ارب سالوں سے زمین، اپنے ماحول کے ساتھ، سورج کے گرد گھوم رہی ہے۔ میری تصویر کشی، تحاریر، موسیقی اور سخن آپ ہی کے لیے ہے۔ آپ کی بیماری پہ میرا آپ کی صحتیابی کے لیے بطور خیرات ضرورت مندوں کو کھانا کھلانا میرے ذاتی اعتقادات کی نفی ہے۔ میں بہت مذہبی نہیں ہوں مگر پھر بھی میں آپ کی خاطر خدا کے سامنے جھکی ہوں۔

شاید میں ہوا کو مٹھی میں جکڑنا چاہتی ہوں کہ میں اپنا فون اپ ڈیٹ نہیں کرتی کہ کہیں آپ کی یادوں کو کھو نا دوں۔ میرے فون کی ہر ایک ایپلیکیشن میں آپ کی یادیں ویسی کی ویسی پڑی ہیں اور میں جرآت جمع نہیں کر پاتی کہ میں کچھ بھی حذف کر سکوں۔ ہر دفعہ میرے فون کی آواز پہ میری یہی امید ہوتی ہے کہ شاید یہ آپ ہوں۔ ہر چند لمحوں بعد میں فون دیکھتی ہوں کہ شاید آپ نے کوئی میسیج چھوڑا ہو اور مجھے پتا نا چلا ہو لیکن آپ کبھی نہیں ہوتے۔ یہ ہر ایک گھنٹی پر نئے سرے سے دل ٹوٹنے جیسا ہے۔

مکڑی کے جالے سی امید کی ایک مہین تار میری زندگی کو جوڑے ہوئے ہے۔ میں لمبے سفر پر ملک کے دور دراز علاقوں میں جانا چاہتی ہوں جہاں آتش فشاں کیچڑ اگلتے ہیں اور جہاں ایک مشکل پہاڑ کی چوٹی پر تیز ہواؤں کا بنایا ہوا امید کی دیوی کا مجسمہ ہے لیکن ان لمبے سفروں کو میں نے آپ کے ساتھ تک رکھ چھوڑا ہے۔ میں اس خطرناک سفر کا ہر لمحہ آپ کے ساتھ گزارنا چاہتی ہوں۔

میں ریاست کی عمل داری ختم ہونے تک جانا چاہتی ہوں، جہاں مسلح گروہوں کی حکمرانی ہے اور جو حکومت کے اختیار سے اس پار ہے۔ میں ہر ایک گھاٹی، ہر ایک سطح مرتفع، ہر چشمہ اور ہر سرنگ آپ کے ساتھ شیئر کرنا چاہتی ہوں۔ میں سوچتی ہوں کہ اتنے لمبے سفر آپ کے بغیر کیسے کٹ سکتے ہیں۔ ایسے ہی ایک لمبے سفر میں آپ کے بنا بیتی ایک رات مجھے ڈراتی ہے۔

کیمیا کی زبان میں یہ انتہائی سیر شدگی (Super Saturation) کا مرحلہ ہے۔ میرے کام کی جگہ پہ دباؤ کے لمحات میں بھی ہمیشہ میرے ذہن میں آپ ہوتے ہیں۔ میرے سارے خواب اور خوف آپ سے جڑے ہیں مانو جیسے سیارے کی آبادی گھٹ کر صرف دو اشخاص رہ گئی ہو۔ میری توجہ کے محور و مرکز آپ ہیں حالانکہ دسیوں افراد اس توجہ کے طالب ہوں۔ میرے ساتھ والے لوگ متعجب ہیں کہ میں سوشل نہیں ہوں لیکن وہ نہیں جانتے کہ میں اس طرح آپ کی محبت کی گیرائی اور گہرائی میں ہوں جیسے کوئی آزاد تارہ کسی بہت بڑے بلیک ہول کے اندر اترتے ہوئے لامحدود رفتار سے گھومنے لگے۔

میں آپ سے ہمیشہ کے لیے محبت کرتی ہوں اور اتنی محبت کرتی ہوں کہ جتنی شاید ہی ممکن ہے۔ میرا ہر لمحہ آپ سے جڑا ہے اور ہر چیز آپ سے وابستہ ہے، پنکھا، تکیہ، برش، روشنی، زندگی۔ رات کو میرے ذہن میں چلنے والی آخری سوچ آپ کی ہوتی ہے اور صبح میرے حواس بحال ہوتے سب سے پہلا خیال آپ کا ہوتا ہے۔ میں یہ تو نہیں کہتی کہ میری جتنی محبت دنیا میں آج تک کسی نے نہیں کی ہو گی، ہاں، مگر، یہ ضرور ہے کہ دنیا کی ہر داستان محبت مجھ سے جڑتی ہے چاہے وہ کوئی بھی شاعری ہو، موسیقی ہو، فن پارہ ہو، احساس ہو، رنگ ہو یا خوشبو۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments