دانیال مصطفیٰ، لبرل ازم اور مارکسزم: ایک فکری مغالطہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مورخہ یکم اکتوبر بروز جمعہ کو روزنامہ میڈیا نیوز میں برادرم دانیال مصطفیٰ کا مضمون ”لبرل ازم، سستی شہرت کا ذریعہ؟“ کے عنوان سے شائع ہوا، مضمون میں میرے بھائی جن مقدمات کو ضبط تحریر میں لائے وہ علمی حلقوں میں یقیناً زیر بحث ہونے چاہئیں۔ برادرم ذرا گرم مزاج قلم کار واقع ہوئے ہیں اس لیے اپنی تحریر میں بڑے برجستہ نظر آتے ہیں، ایسے نابغہ روزگار کا ہونا صحرا میں باد نسیم کے مصداق ہے۔

خیر ان کے اس مضمون میں مجھے محسوس ہوا کہ معزز قارئین اک علمی مغالطے کا شکار ہوسکتے، میں مصنف کے متعلق یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ اس مغالطے کا شکار ہیں یا دوران تحریر وہ اس قضیے کو مدنظر نہ رکھ سکے۔

میرے بھائی نے لبرلز پر سیر حاصل تنقید کی اور ان کے ہاں پائی جانے والی شدت پسندی کو واضح کیا اور توجہ دلائی کہ لبرلز اپنے ہی اصولوں کو اس وقت پس پشت ڈال بیٹھتے ہیں جب کوئی نقطہ نظر ان کی فکر کے متصادم ہو، اور میرے نزدیک کوئی بھی سلیم الطبع اور علم دوست نفس اس بات سے انکار نہیں کر سکتا لیکن اس کے ساتھ ہی انھوں نے لبرل ازم کو کارل مارکس اور لینن کے ساتھ جوڑ دیا تھا جس وجہ سے یقیناً میرے جیسے کئی کامریڈز کی دل آزاری ہوئی ہوگی، جنھوں نے یہ مضمون پڑھا ہو گا، بلکہ کسی سچے مارکسسٹ کو لبرل کہنا گالی دینے کے مترادف ہے، میں یہاں یہ واضح کرنا چاہوں گا کہ لبرل ازم ایک پرو کیپیٹالسٹ نقطہ نظر ہے، لبرل ہمیشہ سرمایہ داری اور فری مارکیٹ اکانومی کے حامی رہے ہیں، انھوں نے کبھی بھی economic equality کی بات نہیں کی۔

اس کے بر عکس مرکسزم اور لینن ازم اجتماعی ملکیت اور معاشی برابری کا درس دیتے ہیں بلکہ مارکس کے ہاں economic inequality اک روحانیت سوز امر ہے مارکس کہتا ہے

The representation of private interests۔ abolishes all natural and spiritual distinctions by enthroning in their stead the immoral، irrational and soulless abstraction of a particular material object and a particular consciousness which is slavishly subordinated to this object۔

Marx, On the Thefts of Wood, in Rheinische Zeitung (1842)

میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ کوئی لبرل کس منہ سے مارکس اور لینن کا نام لے سکتا ہے آکسفورڈ ڈکشنری آف لینگوایجز کے مطابق۔

Liberalism is a political and social philosophy that promotes individual rights, civil liberties, democracy, and free enterprise.

اور Merriam webester ڈکشنری کہتی ہے

Liberalism is a theory in economics emphasizing individual freedom from restraint and usually based on free competition, the self-regulating market, and the gold standard.

اور اب آئیے مارکس سے ہی پوچھ لیتے ہیں کہ وہ لبرل ازم کے خلاف کس طرح نوحہ کناں ہیں۔

Those dogs of democrats and liberal riff۔ raff will see that we ’re the only chaps who haven‘ t been stultified by the ghastly period of peace۔

Source: MECW Volume 40, p. 393;

First published: abridged in Der Briefwechsel zwischen F. Engels und K. Marx, Stuttgart, 1913 and in full in: Marx and Engels, Works, Moscow, 1929.

۔ اب لینن صاحب بھی پڑھ لیں کیا فرماتے ہیں۔

The liberal bourgeoisie grant reforms with one hand, and with the other always take them back, reduce them to nought, use them to enslave the workers, to divide them into separate groups and perpetuate wage-slavery. For that reason reformism, even when quite sincere, in practice becomes a weapon by means of which the bourgeoisie corrupt and weaken the workers. The experience of all countries shows that the workers who put their trust in the reform is are always fooled.
Source: Lenin Collected Works, Progress Publishers, 1977, Moscow, Volume 19, pages 372-37.
Translated: The Late George Hanna

اس کے ساتھ ایک لنک بھی شیئر کیے دیتا ہوں جس میں عظیم مارکسی استاد ڈاکٹر تیمور صاحب اس قضیے کی وضاحت کر رہے ہیں۔

https://youtu.be/mtsEiy8ZKiA

جو حضرات مزید اس بات کو سمجھنا چاہتے ہیں وہ یہ وڈیو دیکھ سکتے ہیں۔

مزید یہ کہ مارکسسٹ ہمیشہ سیکولر ہوتے ہیں، کوئی الحادی بھی مارکسسٹ ہو سکتا ہے اور کوئی مذہبی بھی اسی طرح کوئی لبرل بھی سیکولر ہو سکتا ہے جو کہ عام طور پر ہوتے ہیں اور کوئی سیکولر لبرل بھی ہو سکتا ہے اور مارکسسٹ بھی لیکن کوئی مارکسسٹ کبھی بھی لبرل نہیں ہو سکتا اور نا کوئی لبرل مارکسسٹ ہو سکتا ہے۔

مارکسزم اور لبرل ازم ہمیشہ سے ایک دوسرے کی ضد سے پھوٹتے ہیں، اور اسی ضد سے اپنا اپنا استدلال پیش کرتے۔ آخر میں فیض صاحب کے ایک خوبصورت شعر کے ساتھ اجازت چاہوں گا۔

اک طرز تغافل ہے سو وہ ان کو مبارک
اک عرض تمنا ہے سو ہم کرتے رہیں گے


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments