دیسی گھی والی مرغی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ کہانی اس وقت کی ہے جب کرونا نے ابھی زندگی مفلوج نہیں کی تھی۔ اور خیالوں میں دور دور تک ماسک، آئسولیشن اور سماجی فاصلے کے الفاظ روزمرہ کے کاموں کے لئے نایاب تھے۔ مکالمہ، مصافحہ اور معانقہ ممنوع اور خوفناک چیزیں نہ تھیں۔ وہ گھر کے لان سے اٹھ کر نعمت خانے (کچن) میں داخل ہو رہی ہے اور پیچھے ذہن میں کچھ باتوں کی بازگشت ہے۔

باجی آپ آج کیا پکا رہی ہیں؟
دیسی گھی میں بھنی مرغی۔

اس فقرے نے اسے نوسٹیلجک کر دیا ہے۔ اور وہ آپوں آپ کچن میں برودت خانے (فریج) کا دروازہ کھولے کھڑی ہے۔ بے اختیاری میں گوشت کا پیکٹ نکالتی ہے۔ دیسی گھی اور دوسرے لوازمات ورکنگ کاؤنٹر پر سجنے لگتے ہیں۔ لیکن یہ کیا؟ اس کا امریکن انداز کا کچن روایتی کھانے پکانے کے منظر میں بدل جاتا ہے۔

جہاں ایک جانی پہچانی عورت لوہے کی چوکی پر بیٹھی، مٹی کی ہانڈی میں، لکڑیوں کی ہلکی سلگتی آنچ پر پکتے سالن میں لکڑی کا چمچ ہلا رہی ہے۔ ہر سو سوندھی سوندھی خوشبو پھیلی ہوئی ہے۔ کٹے ٹماٹر، پسا مصالحہ، دھلا گوشت اور تمام ضروری اجزاء ایک طرف ترتیب سے پڑے ہیں۔ استفسار پر جواب ملتا ہے کہ آج بچوں کو مزا کروانے کا ارادہ ہے اس لئے سب کا پسندیدہ بن رہا ہے۔ وہی دیسی گھی والی بھنی مرغی۔

پھر جھپاکے سے نظارہ بدلا اور وہ دوبارہ حال میں کھڑی ہے۔ جس میں ویسی ہی مٹھاس اور مہک ہے جیسی وہ ماضی کی یادداشتوں میں جھانک آئی ہے۔ جہاں کچن اور پکانے کے سامان کا نقشہ گزرے بیس سالوں میں بدلتا رہا لیکن جو چیز مستقل رہی وہ پکانے اور کھلانے والی اور اس کے ہاتھ کے ذائقے تھے۔ بعد میں جس میں سے اس زندہ روح کو عدم کے فرشتے اپنے ساتھ لے گئے۔

یادوں اور توجہ سے سینچا اس کا کھانا بھی تیار ہے۔ کھانے کی میز سجنے لگی ہے۔ وہ تو آج کسی اور ہی دنیا میں جی رہی ہے اور کسی اور ہی دھیان اور محبت میں آج کا دسترخوان لگا ہے۔ جس کے اردگرد افراد خانہ جمع ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ ڈونگے کا ڈھکن اٹھتے ساتھ ہی بھانت بھانت کی آوازیں اس کے کانوں میں سنائی دینے لگیں۔

یہ کیا پکا ہے؟ پتہ بھی ہے دیسی گھی کی بدبو مجھ سے برداشت نہیں ہوتی۔
دیسی مرغی اور بھی شوربے کے بغیر۔ سمجھو سب غارت کیا آج تو۔ اس کی یخنی ہی تو فائدہ دیتی ہے۔
مجھے تو سمجھ ہی نہیں آتی کہ یہ بھی کوئی پکانے کی چیز ہے۔ گوشت کم اور ہڈیاں زیادہ ہیں۔

کرخت آوازیں، بے مہر لہجے، غصیلے فقرے اور بے زار تاثرات جنہوں نے ایک لمحے کے ہزارویں حصے میں اسے حقیقت کی دنیا میں لا کھڑا کیا ہے اور اس کا سب نوسٹیلجیا پانی میں بنے بلبلے کی مانند اڑ گیا ہے۔ خود کو ملامت کرتے وہ ٹیبل سے سب کی ناپسندیدہ ڈش اٹھانے لگتی ہے کہ اتنے میں اہلخانہ میں سے کوئی اس سے پوچھتا ہے۔

ویسے آپ کو یہ پکانے کا مشورہ کس نے دیا تھا؟

وہ چپ تھی۔ آنسوؤں کو اپنے حلق میں اتارتی، وہ کیا بتاتی کہ آج اس نے دل کی سنی اور اسی کی مانی۔ کسی کی جدائی نے آج کی ترکیب تربیت دی۔ وہ تو بس بے خود ہو کر کرتی گئی۔ ابھی وہ شش و پنج میں تھی کہ وہ مڑی آستینوں کے ساتھ باقیوں کے ہمراہ آ بیٹھا۔ اور کھانا کھانے لگا اور یہ بھی کہتا گیا کہ

میں نے دفتر سے فون کر کے آج یہ پکانے کا کہا تھا۔ میری مرغوب غذاؤں میں سے ایک یہ ہے۔

گھر کا ہر فرد اسے یوں دیکھ رہا تھا جیسے کوئی بھوت دیکھ لیا یا واقعی آج سورج مغرب سے نکلا ہو۔ کیونکہ اس کے دور و نزدیک سب جاننے والے اس بات سے واقف ہیں کہ وہ تو سبزی خور ہے۔

سوائے اس کے جسے پتہ ہے کہ اس نے اس کے دکھ کا بھرم رکھا ہے جس کی زد میں وہ آج صبح سے ہے۔ صرف وہ دونوں جانتے ہیں کہ آج اس کی والدہ کی برسی ہے جس کی دعا کا اہتمام اس صورت میں آراستہ ہے۔

دعائیں ہیں۔
دل رکھنے والوں کے لئے
دلوں کے کانٹے چننے والوں کے لئے
احساس کرنے والوں کے لئے
خاموشی سے دوسروں کا درد بانٹنے والوں کے لئے
نہ جتانے والوں کے لئے


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments