حکومتی بھنگ پراجیکٹ اور اس کی افادیت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بھنگ (Cannabis indica) پاک و ہند برصغیر میں روایتی طور پر تفریحی مقاصد کے لئے استعمال ہوتی آئی۔ لیکن اس کی طبی اور صنعتی افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اس پودے کے پھول، پتے، تنا اور بیج نشے کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ برطانوی اور امریکی حکومتوں کے اثر و رسوخ سے پہلے، وسطی ایشیا کے اندر بھنگ کو بڑے پیمانے پراس کی طبی اور صنعتی افادیت کے استعمال کیا جاتا تھا۔ یہ پودا بہت قابل احترام مانا جاتا تھا۔ ایک تاریخی حوالہ کے مطابق اتھروید کے اندر، پانچ مقدس پودوں میں سے اس پودے کے بارے خیال کیا جاتا تھا کہ اس کے اندر ایک سرپرست فرشتہ موجود ہے۔

بھنگ پاکستان میں بطور منشیات استعمال ہوتی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اندازہً 6.4 ملین لوگ بھنگ استعمال کرتے ہیں۔ بھنگ کا استعمال میلوں ٹھیلوں اور مزاروں پر دیکھنے میں آیا ہے۔ خاص طور پر پنجاب کے مختلف علاقوں میں چند روایات کا ذکر ملتا ہے کہ علاقائی تقریبات اور خاص طور پر بیساکھی کے موقع پر گندم کی کٹائی کی خوشی کا اظہار ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑا سے کیا جاتا تھا اور شغل کے طور پر بھنگ پی جاتی۔ بھنگ کے لیے چند اور نام بھی مستعمل ہیں جیسے کہ ڈوپ، گاگ، گانجا، گھاس اور ہیمپ وغیرہ۔ بھنگ کے غیر قانونی استعمال اور اس پر پابندی کی خلاف ورزی کرنے پر سات سال تک قید کی سزا یا جرمانہ یا دونوں کے ساتھ ہو سکتی ہیں۔

21 ویں صدی میں، کچھ قوموں نے بھنگ کے بارے میں اپنے نقطہ نظر کو تبدیل کرنا شروع کیا اور بھنگ کی کاشت اور اس کے فائدے حاصل کرنے کے لئے قانونی اقدامات کیے گئے ہیں۔ ہالینڈ بھنگ کو قانونی حیثیت دینے والی پہلی قوم ہے۔ یوراگوئے اور کینیڈا بھنگ کے تفریحییٰ استعمال کو قانونی حیثیت دینے والے ملک ہیں۔ جبکہ جنوبی افریقہ میں بھنگ کا استعمال صرف ذاتی اور گھریلو استعمال کے لیے ہوتا ہے۔

کنٹرول آف نارکوٹکس اشیاء ایکٹ 1997 کے تحت پاکستان میں بھنگ کی پیداوار، رکھنا، فروخت کے لیے پیشکش، خریدنا یا تقسیم کرنا غیر قانونی ہے۔ لیکن صوبائی یا وفاقی حکومت سے اجازت حاصل کرنے کے بعد اس کی کاشت کو طبی، سائنسی یا صنعتی مقاصد کے لیے اجازت دی جا سکتی ہے۔

بھنگ سے نکالے گئے تیل (CBD Oil) اور اس پودے کے مختلف حصوں کی طبی افادیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہ انسانی صحت سے متعلق مسائل جیسے بے چینی، ذہنی دباؤ، جلدی امراض اور دل کے امراض میں فائدہ مند ہیں۔ کینسر کے مرض میں مبتلا افراد کی تکلیف اور علامات میں افاقہ کے لئے اس سے بنائی گئی ادویات متبادل کے طور پر فائدہ مند پائی گئی ہیں۔

یکم ستمبر 2020 کو وفاقی حکومت پاکستان نے بھنگ کی پیداوار کو قانونی حیثیت دینے کی منظوری دی۔ یہ فیصلہ اس حقیقت کے ادراک کے بعد آیا ہے کہ ملک میں بھنگ کی قدرتی کثرت ہے۔ مزید یہ کہ پاکستان اپنی طبی اور صنعتی مصنوعات سے ایک ارب ڈالر سے زائد کما سکتا ہے۔ اس سے ملکی معیشت کو فروغ دے سکتا ہے۔

پاکستان بھنگ کی قانونی کاشت اور اس سے بنائی جانے والی 25 بلین ڈالر کی مصنوعات عالمی مارکیٹ میں لانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد ، وزارت سائنس اور ٹیکنالوجی کا اعلامیہ ہے کہ پاکستان اپنے مخصوص صنعتی اور طبی استعمال پر تحقیق شروع کرنے کے لیے بھنگ کے بیجوں کی ایک مخصوص قسم درآمد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ بھنگ پراجیکٹ کے لئے وزارت صحت سے لائسنس کا اجراء صحت سے متعلق زراعت کے بڑے اقدام کا حصہ ہے، جس میں غیر روایتی زراعت کے شعبے میں کئی منصوبے زیر تعمیر ہیں۔ ان میں سے ایک، بھنگ کے صنعتی اور طبی استعمال کے لیے ہے جس کے لئے حکومت گزشتہ سال منظوری دے چکی ہے۔

بھنگ سے حاصل کیے تیل میں موجود ”سی بی ڈی کمپاؤنڈ“ علاج معالجے میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ 2016 کے بعد ایک کامیاب تحقیق کے نتیجے میں چین بھنگ ریسرچ ڈیپارٹمنٹ قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اسی مقصد کے لئے چین میں 40,000 ایکڑ پر بھنگ کاشت کی جا رہی ہے۔ جبکہ کینیڈا اپنی صنعتی ضروریات کے خام مال کے لئے 100,000 ایکڑ پر بھنگ کاشت کر رہا ہے۔

بھنگ کی صنعتی اور تجارتی افادیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ بھنگ کے بیج تیل کی تیاری کے لیے استعمال ہوتے ہیں، پتے اور تنوں کو ریشوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری میں آہستہ آہستہ کپاس کی جگہ لے رہے ہیں۔ دنیا بھر میں بھنگ سے حاصل شدہ فائبر کپاس کی جگہ لے رہا ہے۔ کپڑے، بیگ اور دیگر ٹیکسٹائل مصنوعات کی تیاری میں اس پودے کا فائبر کا استعمال ہو رہا ہے۔ یہ 25 بلین ڈالر کی مارکیٹ ہے اور پاکستان اس مارکیٹ میں بڑا حصہ لے سکتا ہے۔

وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے شمالی پنجاب کے پوٹھوہار خطے کے علاقوں کی آب و ہوا بھنگ کی کاشت کے لئے سازگار پایا ہے۔ مناسب سمجھا جاتا ہے۔ خوش آئند بات ہے کہ ملک کے اعلیٰ بائیو ٹیکنالوجسٹ اس منصوبے کی قیادت کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ، ”ہمارے پاس دو طریقے ہیں اول بھنگ کی کاشت ملک میں کی جائے، اور خام تیل تیار کر کے اسے برآمد کیا جائے۔ دوئم کہ ہم خام تیل خریدیں او ر اس سے قیمتی اشیاء بنائیں۔ اس طرح 1 بلین ڈالر کے ہدف کو حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ اس کے علاوہ حاصل ہونے والے تیل سے ادویات بلکہ کاسمیٹکس، صابن اور شیمپو، اور پریمیم مصنوعات بنائے جا سکتے ہیں۔

افغانستان کی موجودہ صورت میں امریکی ڈالر کی اونچی اڑان، گردشی قرضوں کے حجم میں اضافہ، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ اور مہنگائی میں ہوشربا اضافہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ تیز رفتار ترقیاتی منصوبوں سے اس پریشان کن حالات سے نکلا جائے۔ اس ضمن میں بھنگ کی کاشت کو قانونی حیثیت دے کر اس کی پیداوار سے مالی فوائد حاصل کرنا حکومت وقت کا ایک خوش آئند قدم ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments