دولت ہوا کی چران

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرا اعتبار مت کرنا کیونکہ میں کسی کی بھی نہیں ہوں،

نہ کوئی میرا مذہب اور نہ کوئی میری سمت ہے۔ البتہ میں زمین کے چار کونوں کی ملکہ ہوں، اس لیے میری شہرت اور مانگ دنیا کے کونے کونے میں پائی جاتی ہے۔ میرا وجود

تعجب خیز ہے مجھے حاصل کرنے کے لئے خواہ کوئی امیر ہے یا غریب وہ میرے پیچھے پیچھے بھاگتے ہیں۔

اس سے میری طاقت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ میرے پاس بیک وقت دونوں خوبیاں موجود ہیں۔ میں غریب کی جھونپڑی کا بھی حصہ ہوں اور امیر کی محلوں کی ملکہ بھی۔ البتہ جہاں کسی کو میری ضرورت ہوتی ہے وہ مجھے وہاں لے جاتا ہے۔

لیکن میری خوش قسمتی یہ ہے کہ میں بہت کم لوگوں کے ہاتھ آتی ہوں البتہ جو لوگ مجھے پا لیتے ہیں وہ دنیا کے طاقتور اور آزاد خیال بن جاتے ہیں۔ وہ مذہبی پابندیوں سے آزاد ہو کر میرا سہارا لیتے ہیں۔ ان کے ذہن و قلب میں ہر وقت دولت کا گھوڑا بے لگام رقص کرتا ہے۔ وہ حلال و حرام کا فرق بھول جاتے ہیں۔ وہ دنیا کی ہر چیز کو خریدنے کے لئے میرا سہارا لیتے ہیں۔ وہ مجھے پانے کے لیے ہر جتن کرتے ہیں لیکن جب وہ مجھے پا لیتے ہیں تو ان کی نظریں ہر وقت میرے دیدار کی طلب گار رہتی ہیں یعنی وہ مجھے اپنی آنکھوں میں بھی بس آتے ہیں، تصورات کا حصہ بھی بناتے ہیں، دل کی دھرتی میں بھی جگہ دیتے ہیں۔

کیونکہ میری کشش سونے چاندی اور قیمتی پتھروں سے زیادہ ہے میں نے دنیا کے بڑے بڑے بادشاہوں کو اپنی شان سے شادمان کیا، ان کے دل بہلاتی ہیں، انہیں ہر قسم کی آسائشیں ودیت کرتی ہیں۔ اگر تم آنکھیں رکھتے ہو تو دیکھو یہ میرا ہی کمال ہے جو لوگوں کو آزمائشوں کے جال میں باندھ دیتی ہیں۔ پھر وہ میرے ہی گرویدہ رہتے ہیں اور میرے ہی گن گاتے ہیں۔ یہ بڑا عجیب ماجرا ہے جہاں ان کا دل کرتا ہے مجھے خرچ کر کے اپنا مطلب پورا کر لیتے ہیں۔ الغرض انہیں دنیا کی ہر آسائش و آرائش میرے باعث ملتی ہے۔

ہر کوئی مجھے اپنی عزت و تسکین کے لیے استعمال کرتا ہے۔ کبھی وہ میرا استعمال کر کے لوگوں کی عزتوں کو پامال کرتے ہیں، کبھی وہ برائی کے اڈوں میں میرا نا جائز استعمال کر کے گناہ کو جنم دیتے ہیں۔

اے دنیا والو میں تم سے مخاطب ہوں میرے کرتب دیکھو میں لوگوں پر کیسی مہربان ہو، میں دولت مندوں کو اڑنے کے لیے بال و پر پر ضرور دیتی ہوں۔ البتہ مخصوص وقت کے بعد ان کے بال و پر جھڑ جاتے ہیں۔ وہ مجبور اور بے بسی کے مجسمے بن جاتے ہیں۔ یعنی وہ لنگڑے، بے زبان، ذہنی معذور، اور فالج میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ان کے وجود کی کنکریاں بکھر کر ان کا شیرازہ بکھر جاتا ہے۔

وہ نسلی تضادات کی جنگ لڑنے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ ان کے ہوش و حواس اڑ جاتے ہیں، نہ انہیں اپنی خبر اور نہ دوسروں کی۔ وہ ذہنی معذوری اور غلامی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ وہ نشے سے چور اور چلتے وقت ڈگمگاتے ہیں۔ وہ اپنی تمام اخلاقی اقدار کو بھول کر میری پیروی کرتے ہیں۔ میں ان کے وطیرے پر خوب ہستی ہوں اور زور زور سے قہقہے بھی لگاتی ہوں۔

کاش! لوگ میری طاقت کا اندازہ لگاتے۔ ایک نسل تو میرے باعث اپنے خوابوں کی تعبیر پوری کر لیتی ہے، جب کہ دوسری نسل غربت کی خاک چاٹنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔

اس لیے میں کسی کو جاگیر کا حق نہیں دیتی تاکہ سب میرے محتاج رہیں۔ میری شروع سے ہی روایت رہی ہے کہ میں بہت اونچا اڑتی ہوں اس لیے ہر آنکھ مجھے دیکھنے کی مشتاق اور بے چین رہتے ہیں۔

مگر افسوس!

مجھے پانے والے حلال و حرام میں تمیز نہیں کرتے کیونکہ میں وہ بلائے عظیم ہوں اور دنیا میرا گھر ہے میں جہاں چاہوں جاتی ہوں۔ میری چال ٹیڑھی ہے اور میرا بڑی بے چینی سے انتظار ہوتا ہے۔ میرے چاہنے والے میری راہ دیکھ رہے ہوتے ہیں، میری ایک دستک سے ان کے گھر خوشحال ہو جاتے ہیں۔

اے نادانوں! کیا تم مجھے نہیں جانتے خونی رشتوں میں دراڑیں ڈال کر فاصلاتی حدیں قائم کرنا میری پیشہ ورانہ مجبوری ہے؟ کاش تم نے اس بات کو محسوس کیا ہوتا؟ دیکھو میں نے امیر و غریب کے درمیان ایسے فاصلے ڈال رکھے ہیں، جیسے آسمان و زمین کے درمیان فاصلہ ہوتا ہے۔ تا کہ ان کے درمیان تعلقات و روابط کی فضا ہی پیدا نہ ہو۔ میرے ہاتھ میں فتور کا وہ عصا ہے، میں اسے جہاں مارتی ہوں وہ سانپ بن کر لوگوں کو ڈس جاتا ہے۔ لوگ میری طاقت کا سہارا لے کر دوسروں کو آسانی سے اپنا غلام بنا لیتے ہیں۔ کیونکہ میں وہ بے حس بت ہوں جسے ہر دولت مند نے اپنے گھر کی دہلیز پر نصب کر رکھا ہے، وہ گھر آتے جاتے وقت مجھے سجدہ کرتے ہیں۔

میری باتیں زہر کے گھونٹ ہیں، جب وہ میری باتیں نوش کرتے ہیں تو باتوں کا زہر انگ انگ میں سرایت کر جاتا ہے۔ میں نے لوگوں کے ذہنوں سے احساس چھینتی ہوں اور ان پر لاٹھی چارج کر کے دربدر کر دیتی ہوں۔ وہ ذلت و رسوائی کا شکار ہو کر اوندھے منہ گر جاتے ہیں۔ ان کی قوت حیات صلب ہو جاتی ہے۔ انہیں پھر کوئی ہمت و طاقت دیتا ہے۔

وہ پھر اپنا جائے مقام ڈھونڈنے کے لئے میرے پاس آتے ہیں۔ میں پھر ترس کھا کر انہیں جھونپڑی بنانے کی اجازت دے دیتی ہیں۔ وہ مجھے پانے کے لیے ہر وہ نفسیاتی حربہ استعمال کرتے ہیں جس میں ان کا ذاتی مفاد شامل ہوتا ہے۔ وہ مجھے پانے کے لیے جھوٹی قسمیں بھی کھاتے ہیں۔ وعدوں کی پاسداری کا عندیہ بھی دیتے ہیں۔ دوسروں کا خون خرابہ بھی کرتے ہیں، اپنی پسند اور نہ پسند کے قوانین بھی تشکیل دیتے ہیں، دوسروں کے حقوق پر ڈاکا بھی ڈالتے ہیں، خود کو راست باز اور دوسروں کو گنہگار کہتے ہیں۔

آج میں ملتمس ہوں اہل زمین سے۔ مجھے پرکھو، جانچو اور آزماؤ۔ میری بنجر زمین میں ہل چلا کر دیکھو پھر تمہیں محنت اور مشقت کا احساس ہو گا، کہ حاصلات و ثمرات کے لئے کن کن کٹھن راہوں سے گزرنا پڑتا ہے اور اپنی تجوریوں کو بھرنے کے لیے تمہیں کتنے سال تک محنت کی جگالی کرنا پڑتی ہے؟

کاش! تم جان پاتے کہ میرا وجود زرخیز مٹی جیسا بھی ہے اور ریت کے ذروں کی مانند بھی۔ میرے اندر بہروپ کی کئی اشکال ہیں میں روپ بدلنے کی عادی ہوں۔ میں غضب کی چالاک لومڑی اور مکار گدھ ہوں اور جب تک دنیا قائم ہے میں دنیا پر حکمرانی کے لئے اپنا وتیرہ جاری رکھوں گی تاکہ لوگ میرے محتاج رہیں۔ اگر تمہاری سرشت میں سوچ کا دیا ہے تو اسے جلا کر دیکھ لو۔ یہ اسی صورت ممکن ہو گا جب تمہارے پاس پرکھنے کی روح ہو گئی۔ لہذا ڈوب جانے سے پہلے اپنی کشتی کی حفاظت کرو۔

خود بھی بچو اور دوسروں کو بھی بچاؤ۔ دیکھو میں تو ہوا کی چران ہوں، نہ کوئی میری بستی اور نہ کوئی میرا ٹھکانا ہے۔ میں زمین کے چاروں کونوں تک محو سفر رہتی ہوں۔ لوگ نظریں اٹھا کر میرا انتظار کرتے ہیں۔ جب میں ان کی دہلیز پر پہنچ جاتی ہوں۔ تو وہ میرا بت بنا کر مجھے شکرانے اور نذرانے ادا کرنے کے لیے جمع ہو جاتے ہیں۔

آج فیصلہ کیجئے۔

کیونکہ انتظار کی گھڑیاں ختم ہو چکی ہیں تمہارا ایک فیصلہ تمہارا مستقبل بدل سکتا ہے۔ اگر تم نے صبر و شکر کرنا سیکھ لیا تو تم اس راستے پر گامزن ہو جاؤ گے جہاں محبت، خوشی، اطمینان، جو زندگی کو بابرکت ہے، تم اسے آسانی سے حاصل کر سکتے ہو۔ اور اپنے خدا کے حکموں پر عمل کر کے اس جگہ کو پا سکتے ہو جو بنای عالم سے پہلے تمہارے لیے تیار ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments