انقلاب انقلاب،گاؤ انقلاب گاؤ انقلاب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قیام پاکستان سے تاریخ کا جائزہ لیں تو دیگر کئی عوامل کے ساتھ اکثر انقلاب کی چاپ بھی سنائی دیتی ہے انقلاب کی اس چاپ کو عوام تک پہنچانے میں شاعروں ادیبوں نے اہم کردار ادا کیا ان میں اردو پنجابی سندھی بلوچی فارسی اور پشتو زبانوں میں شعرا نے مختلف وقتوں میں عوام کے خون کو گرمایا انقلاب کے ان راستوں میں کئی گمنام کردار بھی اپنا حصہ ڈال کر گوشہ نشینی میں چلے گئے اور کئی ایسے انقلاب بھی برپا ہوئے جن سے ریاست کے اندر ہلچل مچ گئی اگر تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو پاکستان کا قیام بھی ایک ایسی انقلابی تحریک کے باعث عمل میں آیا جس میں علامہ اقبال کی شاعری نے اہم کردار ادا کیا اور جب پاکستان بن گیا تو اس کی تصویر میں خوبصورت رنگ بھرنے کے لیے کئی شعرا نے اہم کردار ادا کیا۔

خوبصورت پاکستان کی تصویر کو کئی بار دھندلانے کی کوشش کی گئی تو اس کے تشخص کو کسی انقلاب نے ہی بحال کیا وہ انقلاب چھوٹا تھا یا بڑا یا اس انقلاب سے کسی نے کتنا ہی فائدہ کیوں نہ اٹھایا ہو پاکستان کا دنیا میں تشخص لازمی طور پر بحال ہوا۔ کئی بار ایسا بھی ہوا کہ سیاسی رسہ کشی کی وجہ سے عوام مایوس بھی ہوئے لیکن پھر کسی گمنام انقلابی نے ایسا دیپ جلایا کہ چاروں اطراف روشنی پھیل گئی کچھ گہرائی سے سوچا جائے تو سر زمین پاکستان پر بسنے والا ہر شخص انقلابی سوچ رکھتا ہے لیکن بعض دفعہ درست سمت کا تعین نہ ہونے کے باعث کچھ ہیجانی سی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے ایسی صورتحال میں بھی پھر سے کوئی انقلابی درست راستے کا انتخاب کر کے قوم کی رہنمائی کرتا ہے۔

تحریک قیام پاکستان کے بعد ذوالفقار علی بھٹو بھی عوام کے سامنے ان کے حقوق کی جنگ لڑنے کا نعرہ لے کر میدان میں اترے اور ایک مضبوط حکمران کو چلتا کیا عوام نے اپنے مسائل کے حل کا ایجنڈا لے کر آنے والے کو تو قبول کر لیا لیکن اقتدار کی رسہ کشی میں لیڈروں کی اناؤں نے پاکستان کو دولخت کر دیا یہاں پر عوام نے تو ہر گز ایسا نہیں چاہا تھا کہ دھرتی کے ٹکرے ہوں یہ تو اس وقت کی سیاسی قوتوں کے فیصلے تھے یہ بیشک ایک دوسرے پر الزام دیں قصور وار تو یہ ہی طبقہ ہے۔

کچھ اگے چلتے ہیں تو ذوالفقار علی بھٹو کو بھی انقلابی تحریک کا سامنا کرنا پڑا عوام نے تحریک نظام مصطفے میں بھر پور شرکت کی اور نظام کی تبدیلی کے لیے جانوں کا نذرانہ بھی دیا اس تحریک کے حوالے دو مختلف نظریے پائے جاتے ہیں ایک طبقے کا خیال ہے کہ یہ دھاندلی کے خلاف تحریک تھی جب کہ دوسرا طبقہ اسے تحریک نظام مصطفے قرار دیتا ہے لیکن ایک بات طے ہے کہ یہ تحریک نظام کی تبدیلی کے لیے تھی عوام نے کسی سیاسی رہنما کی خاطر جانوں کا نذرانہ نہیں دیا تھا وہ ملک میں عدل مساوات کا نظام چاہتے تھے عوام کا مطالبہ تھا کہ قیام پاکستان سے جاری جبر کے نظام کو تبدیل کیا جائے خیر ایسا تو نہ ہو سکا اور اسلام کا نام لے کر ہی ملک میں نئی حکومت قائم ہو گئی اور پھر سیاست کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا حکومت کرنے والے اس نئے طبقے نے اپنی اصلاحات کو انقلابی قرار دیا اس انقلاب میں عوام کی منشا شامل نہیں تھی بلکہ کچھ افراد کو قوم پر مسلط کر دیا گیا جنہوں نے عوام میں ایک ایسا انقلاب پیدا کیا جو لوٹ مار پر مبنی تھا حکمران طبقے نے اپنی لوٹ مار میں عوام کے حقیقی خوابوں کو چکنا چور کر دیا ابھی اس لوٹ مار کے انقلاب کا سلسلہ جاری تھا کہ پھر سے غیر روایتی حکمرانی کا دور شروع ہوا اور لوٹ مار کو کرپشن کے لفظ میں تبدیل کر کے اس کے خلاف بلا امتیاز احتساب کا نعرہ لگا دیا اسے بھی پاکستان کی تاریخ میں ایک نئے انقلاب کا نام دیا گیا۔

اس انقلاب کو ایک نئے انقلاب نے کھا لیا یہ انقلاب وکلاء نے شروع کیا جس کے اثرات آج بھی اکثر محسوس کیے جاتے ہیں وکلاء کے اس انقلاب میں کئی نئے چہرے سامنے آئے جو اس وکلاء انقلاب کے ثمرات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں بلکہ یوں کہنا زیادہ بہتر ہو گا کہ ان کے سامنے اگر کوئی اور انقلابی بننے کی کوشش کرتا ہے تو اس کی ایسی درگت بناتے ہیں کہ وہ دوبارہ ایسا سوچتا بھی نہیں۔ وکلاء انقلاب کے بعد جو انقلاب چل رہے ہیں ان میں سوشل میڈیا کے اندر مختلف اقسام کے انقلاب چل رہے ہیں جس کے اچھے اور برے اثرات سے قوم کو اپنی اپنی مرضی کی تفریح میں تسکین مل رہی ہے تا حال ہم سوشل میڈیا کے انقلاب کو بھگت رہے ہیں اور کسی نئے انقلاب تک انتظار میں رہیں گے۔

اب ایک بار بھر سے قیام پاکستان کے وقت انقلابی صورتحال کا تذکرہ کرتے ہیں جس میں لوگوں کا جذبہ کسی مفاد سے بالا تھا وہ صرف ایک ایسی ریاست چاہتے تھے جہاں عدل کا نظام ہو عوام کی یہ خواہش پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد دھری کی دھری رہ گئی اور ملک پر جعلی الاٹمنٹ اور انگریزوں سے تحائف حاصل کرنے والوں کی غالب اکثریت نے قبضہ کر لیا۔ پاکستان میں دوسرا انقلاب عوام کو ان کے بنیادی حقوق دینے کے نعرے پر لگا عوام کو تو اس انقلاب میں کچھ حاصل نہ ہوا اور انہوں نے جبر کے اس نظام کے خلاف سیاسی رہنماؤں کو متحد ہونے پر مجبور کیا اور پھر ان رہنماؤں نے ذاتی عناد کی بنیاد پر عوامی انقلاب کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کرتے ہوئے اس کو سولی پر چڑھا کر دفن کر دیا جس کے باعث عوام پر ایک ایسا حکمران طبقہ مسلط ہوا جنہوں نے اپنی باریاں مقرر کر کے اقتدار کے مزے لوٹے۔

ملکی تاریخ میں جس انقلاب نے گالی گولی اور طوفان بد تمیزی کو فروغ دیا اس کے اثرات شاید آنے والے وقتوں میں بھی ختم نہ ہو سکیں اور آخر میں قوم سوشل میڈیا کے جس انقلاب کا تا حال سامنا کر رہی ہے اس سے تو ایسا لگتا ہے ہر اس ملت کا ہر فرد انقلابی بن چکا ہے وہ اکیلا ہی سب کچھ تبدیل کرنے پر یقین رکھتا ہے وہ گھر میں بھی کسی کو خاطر میں نہیں لاتا اور گھر سے باہر وہ ایسے انقلابی کے روپ میں سامنے اتا ہے جس کے عمل سے کسی کی عزت محفوظ نہیں۔

یہ تو وہ انقلاب تھے جن کو ہماری گزرنے والی نسلوں نے بھی برداشت کیا اور آج کی نسل بھی ایسی ہی کیفیت سے دوچار ہے لیکن مایوس نہیں ہونا یہ سب ختم ہونے والا ہے ایسے انقلاب لانے والے انقلابی اپنے اخری دور سے گزر رہے ہیں اب کی بار عوام اپنی قسمت کا فیصلہ کسی انقلابی کے ہاتھ میں نہیں دیں گے اور وہ ایسا انقلاب لے کر آئیں گے جو حقیقی انقلاب ہو گا۔ شاعر نے ایسے ہی انقلاب کے بارے کہا۔ ہلا دو سماج کو، گرا دو سامراج کو۔ لاؤ نیا نظام، جو پسند کرے عوام۔ انقلاب انقلاب، گاؤ انقلاب گاؤ انقلاب


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments