خطہ سیمانچل کا سر مور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

متعدد دینی، ملی اور سماجی تنظیموں کے سربراہ الحاج عبدالغفار کا طویل علالت کے بعد گزشتہ کل مورخہ 2 /اکتوبر 2021 کو انتقال پر ملال ہو گیا ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ بھارت کے ریاست بہار کے شمال مشرقی ضلع ارریہ سب ڈویژن فاربس گنج موضع ڈوریا سوناپور کا ہونہار فرزند اور بے باک سرپرست نے آنکھیں موند لی ہیں اور ابدی نیند کی چادر تان کر سو گیا ہے۔ الحاج عبدالغفار کا عزم جواں اور حوصلہ بلند تھا۔ مگر وہ غیر متوقع طور پہ چند دنوں کی علالت کے بعد رخصت ہوچکے ہیں جس پر ہزاروں آنکھیں نم اور سیکڑوں دل مغموم ہیں۔ انسان کی ساخت میں انس و محبت و مودت کا خاص دخل ہے لہذا جب کبھی کسی محبوب شیے سے محروم ہوتے ہیں یا اپنوں کے زندگی کی شام ہوتی ہے تو اداسی چھا جاتی ہے اور دل بیٹھنے لگتا ہے جو کہ فطری امر ہے۔

الحاج عبدالغفار کے موت سے افسردگی میں مزید اضافہ ہوا ہے برس دو برس جسے حزن العام کا زمانہ کہا جائے تو مضائقہ نہیں کہ دنیا سے اچھے لوگ اٹھتے جا رہے ہیں قرب قیامت کی علامات ہیں سب۔ انہی ایام غم و اندوہ میں ملک و ملت کا ایک اور بیش قیمتی اثاثہ ہم سے چھن چکا ہے۔ مرحوم نے اپنی زندگی کے شب و روز ایسے بسر کی، جیسے کی جا سکتی ہے یا سماج کو جیسی توقع ہوتی ہے۔ انہوں نے اپنی قوت و صلاحیت کا اچھا خاصہ حصہ سماج کی خدمت میں صرف کیا جس کا تھا جنہیں ملک و ملت کی فکر تھی۔ جن کے دل میں سماج کا درد تھا۔ جن کے ترجیحات میں خطہ اور اہل خطہ کا فلاح و بہبود شامل تھا وہ ریاست کے شمال مشرقی خطہ سیمانچل کا سرمور تھے۔

حسن سلوک اور انسانی خوبیوں سے لیس حضرت عبدالغفار رحمتہ اللہ علیہ نے قندیل حق روشن کیا اور خدمت خلق کے مختلف پلیٹ فارم سے وابستہ رہ کر بیش بہا خدمات انجام دی ہیں جو یقیناً ان کے لئے باعث نجات ہو گا۔ شہر کے معتبر مشاہدین کے بقول حاجی صاحب: جرات مند باوقار قائد، منتظم، اور رابطہ کار تھے جن کے رعب سے فتنہ سر نہیں ابھار سکتا تھا جن کے دم سے احوال ملت کی شمعیں روشن ہوتی تھیں جنہیں مسلک و مشرب یا گروہ و فرقہ کے بجائے ملت عزیز تھا لہذا وہ خطہ سیمانچل کے متفق علیہ شخص سمجھے جاتے تھے۔

علمی طور پہ وہ ذہین مؤرخ تھے جنہیں احوال عالم ازبر تھا اور آئین ہند کے حوالہ سے بھی ان کی گفتگو کو معتبر گردانا جانا تھا۔ سینیئریٹی کے تمام اوصاف و خوبی ان میں تھی وہ میٹنگ، شادی تقریب اور عوامی میٹنگ میں بے ساختہ کہنے کے عادی تھے اور رائے میں ان کی رائے واضح اور دو ٹوک ہوتی تھی۔ خورد نوازی کے حوالہ سے سبھی قائل ہیں کہ وہ حال احوال کے لئے بھی رابطہ ازخود کر لینے میں اول تھے۔

مرحوم بنیادی طور پہ کامیاب معلم تھے تقریباً چار دہائی تک وہ درس و تدریس سے وابستہ رہے گورنمنٹ اسکول کے معلمی سے لے کر کوآرڈینیٹر اور ہیڈ ماسٹر تک کا سفر طے کیا اور ممتاز معلم کی حیثیت سے سبکدوش ہوئے۔ درس و تدریس میں اس نے انمٹ نقوش چھوڑے اور اساتذہ کے لئے نقش راہ ثابت ہوئے۔ سبکدوشی کے بعد اس نے خود کو رفاہ عام کے کاز کے لئے وقف کر لیا تھا لہذا وہ متعدد تنظیموں سے وابستہ تھے جس میں انگریزی سامراجیت سے ہندوستان کو آزادی دلانے میں اہم رول ادا کرنے والے ملک کی سب سے قدیم جماعت جمعیت علمائے ہند، اساتذہ یونین، ضلع وقف کمیٹی ارریہ، کلہیا ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن شامل ہے ان کی رحلت کے بعد بھی ان اداروں میں وہ دھار اور لو برقرار رہے جس کی ضرورت ملک و ملت سماج اور معاشرہ کو آج بھی ہے یہی ان کے لئے خراج عقیدت ہو گا اور ان کے روح کو تسکین ملے گی۔

اگلے صف کے قافلہ سالار اور سر مور کی رخصتی کا غم بہرکیف ناقابل برداشت ہے۔ مگر قانون خداوندی اور ریت یہی ہے کہ انا للہ وانا الیہ راجعون کی تلاوت کے بعد کل نفس ذائقہ الموت سے دل کو سمجھائیں۔ اور اکابرین کے ادھورے کی خواب کی تعبیر تلاش کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے حصے کا دیا جلائیں۔ اللہ تبارک و تعالی مرحوم و مغفور کی بال بال مغفرت فرمائے۔ ان کی جملہ خدمات کو شرف قبولیت بخشے اور پس ماندگان و متعلقین کو صبر جمیل عطا کرے آمین۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments