شیخ عبدالرشید کی کتاب مرقع گجرات پر تبصرہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لکھنا آسان نہیں، اور لکھے ہوئے کو سنبھالنا؟ یہ اور بھی مشکل کام ہے۔ لیکن اس کے باوجود لکھا جا رہا ہے اور کتابی صورت میں محفوظ بھی ہو رہا ہے۔ ہم کیوں لکھتے ہیں اور پھر کیوں چاہتے ہیں کہ ہمارا لکھا ہوا محفوظ رہے۔ اس سوال کے کئی جوابات ہو سکتے ہیں۔ لیکن بہت سے جوابات میں سے کم از کم ایک جواب مصنف کی اس فطری خواہش میں مضمر ہے کہ وہ اپنی تحریر میں ہمیشہ کے لیے زندہ رہنا چاہتا ہے۔ فرانسیسی نقاد اور فلاسفر

Roland Barthes

کے مضمون ”The death of the author“ کا متن اگرچہ کئی اعتبار سے معنی خیز ہے لیکن مضمون میں شامل یہ نکتہ کہ قاری، ادبی کام کو تخلیق کار سے الگ کر کے دیکھے، مصنف کی مذکورہ خواہش کے برعکس ہے۔

بہرحال Barthes کے مضمون کی حقیقت چاہے کچھ بھی ہو لیکن سردست ہمیں پروفیسر شیخ عبدالرشید (میڈیا ڈائریکٹر گجرات یونیورسٹی) کی نئی اشاعت پذیر کتاب ”مرقع گجرات“ میں فاضل مصنف کو، پیش نظر رکھ کر، اس کتاب میں تحریر کردہ سوانحی مضامین کا مختصر تجزیہ کرنا ہے۔ شیخ عبدالرشید کی یہ تصنیف ضلع گجرات کے شاندار ماضی کی بیالیس نامور شخصیات کا سوانحی مجموعہ ہے۔ اس مجموعے میں مصنف اپنے مخصوص اسلوب کی چھب کے ساتھ کئی مقامات پر نظر آتا ہے۔

مصنف کے اسلوب کی یہ خاص جلوہ نمائی اس کے تقریری شوق سے نمو پذیر ہوئی ہے۔ جو احباب عبدالرشید کو جانتے ہیں انھیں معلوم ہے کہ وہ فن تقریر اور علمی و ادبی محافل میں نظامت کے حوالے سے ضلع گجرات میں ایک خاص پہچان رکھتا ہے۔ اسٹیج پر اس کے برجستہ جملے، معلومات افروز گفتگو اور تقاریر میں بیان کی لذت سامع کو گرفت میں لے لیتی ہے۔ عبدالرشید کا یہی انداز اس کتاب میں ایک مورخ اور سوانح نگار کی صورت میں ظہور پذیر ہوا ہے۔ کتاب میں شامل ایک مضمون ”سنت بابا پریم سنگھ لوبانہ“ کے ابتدائی پیراگراف میں مصنف شخصیت کا تعارف کرواتے ہوئے لکھتا ہے۔

”گجرات کی نامور شخصیات کا تذکرہ تقسیم ہند سے پہلے کے سکھ مذہب کے جوشیلے مبلغ، سماج سدھار تحریک کے فعال راہنما، ممبر قانون ساز اسمبلی، سیاسی راہنما، تعلیم کے فروغ کے لیے آگاہی پھیلانے اور پسماندہ علاقوں میں تعلیمی ادارے قائم کرنے والے تعلیم کے چیمپین گجرات کی دھرتی کے مایہ ناز فرزند، سنت بابا پریم سنگھ لوبانہ کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا“

ان سطور کو پڑھتے ہوئے لگتا ہے جیسے پریم سنگھ لوبانہ کسی محفل میں موجود ہیں اور عبد الرشید انھیں اسٹیج پر بلانے سے پہلے تعارفی کلمات سامعین کے گوش گزار کر رہا ہے۔ تحریر کا یہ اسلوب ہمیں ابتدا ہی میں شخصیت کے اہم اوصاف سے آگاہ کر دیتا ہے۔ اس کے بعد ہمیں مضمون پڑھ کر بس یہ دیکھنا ہے کہ کیا واقعی ہی شخصیت کی جن خصوصیات کا ذکر مضمون نگار نے ابتدائی سطور میں کیا ہے، وہ مضمون کے باقی حصوں میں موجود ہیں؟

اس سوال کے ساتھ قاری جب آگے بڑھتا ہے تو مصنف، شخصیت کے کار ہائے نمایاں کو تاریخ کے فریم میں رکھ کر بڑی تیزی سے گنوانا شروع کر دیتا ہے۔ اس شماریاتی عمل کے دوران میں محسوس ہوتا کہ جیسے مصنف کو یہ فکر دامن گیر ہے کہ کہیں شخصیت کے بارے میں کوئی اہم نکتہ رہ نہ جائے۔ اس مقام پر یہ بات حیرت زدہ کرتی ہے کہ اتنے مواد کو اکٹھا کرنے اور پھر اسے ایک خاص ترتیب میں یکجا کرنے کے لیے مصنف نے کتنی محنت اور تگ و دو کی ہوگی۔

” مرقع گجرات“ میں شامل سائیں کرم الہی ( کانواں والی سرکار) ، سر فضل علی، سید محمد یونس کاظمی، طارق محمود طارق، منیرالحق کعبی، اصغر علی گھرال، راحت ملک اور ریاض بٹالوی پر لکھے ہوئے مضامین میں سے کچھ مضامین تو معلومات کی فراوانی کے حوالے سے اہم ہیں اور کچھ اس لیے اہم ہیں کہ ان میں جہاں متعلقہ شخصیات پر مصنف نے اپنی معلومات کے ڈھیر لگائے ہیں وہاں ان کا قلم کہیں کہیں خاکہ نگاری کی حدود میں داخل ہو کر تخلیقیت کے معیارات کو چھوتا ہوا بھی دکھائی دیتا ہے۔ ان مضامین میں یوں لگتا ہے کہ جیسے مصنف اسٹیج پر ان شخصیات کو بلا نہیں رہا بلکہ اسٹیج سے اتر کر خود ان کے پاس جا رہا ہے یہ کہنے کے لیے کہ زندگی اگر اسٹیج ہے تو آپ اس اسٹیج کی جان ہیں۔ اس حوالے سے طارق محمود طارق اور منیر الحق کعبی پر لکھے ہوئے مضامین کی چند سطور ملاحظہ ہوں۔

”زمیندار کالج کی کنٹین ان دنوں کالج کا پاک ٹی ہاؤس ہوا کرتی تھی۔ اساتذہ وہیں بیٹھ کر دل کی بھڑاس نکالتے تھے۔ وہاں ہلکی پھلکی گفتگو کے ساتھ دنیا بھر کے ادبی نظریوں، فکری زاویوں، حالات حاضرہ اور شعر و نقد کا محاکمہ کرتے۔ طارق صاحب ان محفلوں کا حصہ ہی نہیں جان محفل ہوا کرتے تھے“ (طارق محمود طارق) ۔ اسی طرح پروفیسر منیر الحق کعبی پر لکھے گئے مضمون کی کچھ سطور۔ ”میں نے مطالعہ پاکستان کی کئی کلاسز ان سے پڑھی تھیں۔ بے یارو مدد گار جینے والا پرو فیسر منیر الحق کعبی ہمیں مطالعہ پاکستان کے بہت سے ان کہے کڑوے پہلو سمجھا کر گیا۔“

”مرقع گجرات“ کا بنیادی موضوع اگرچہ ضلع گجرات کے ماضی کی نامور شخصیات ہیں لیکن ان شخصیات کے توسط سے مصنف ہمیں کئی مقامات پر گجرات کے پرانے تہذیبی، ثقافتی اور ادبی منظر نامے سے بھی متعارف کرواتا ہے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ جن شخصیات کو اس کتاب کے اسٹیج پر بٹھایا گیا ہے ان کے ارد گرد گجرات کی تہذیبی و ثقافتی زندگی کی شمعیں بھی روشن ہیں۔ سائیں کرم الہی ( کانواں والی سرکار) پر لکھے گئے مضمون کا ایک منظر دیکھیے۔ ”باہر نکلے تو ساتھ ہی کچھ لوگ بیٹھے قہوہ پی رہے تھے پاس گئے تو پتہ چلا کہ یہ وہی جگہ ہے جہاں سائیں کرم الہی لکڑیاں جلا کر مچ پخا کر بیٹھتے تھے اور عقیدت مند اردگرد بیٹھ جاتے۔“ (سائیں کرم الہی) اسی طرح گجرات کی ادبی سرگرمیوں کے حوالے سے راحت ملک پر لکھا گیا مضمون اہم ہے۔

زیر بحث کتاب میں جن شخصیات کا ذکر ہے، ان سے متعلق مختلف ذرائع سے حاصل کردہ معلومات کو مصنف نے بڑی مہارت کے ساتھ ایک خاص ترتیب میں یکجا کیا ہے۔ کس مقام پر، شخصیت کے بارے میں، کون سی بات کہنی ہے۔ مصنف کا قلم اس ہنر سے پوری طرح آگاہ ہے۔ لگتا ہے یہ مہارت عبدالرشید کو اسٹیج پر تقریر اور نظامت کے فن سے حاصل ہوئی ہے۔ یہ کتاب نہ صرف عام قاری کے لیے اہم ہے بلکہ اس کتاب کی اشاعت سے، گجرات کے حوالے سے کام کرنے والے نئے محققین کو ایک نیا رستہ ملے گا۔ ہاں، اگر کتاب کے آخر میں ماخذات کی فہرست دے دی جاتی تو آئندہ کام کرنے والوں کو مزید سہولت مل جاتی۔

بہرحال یہ کتاب، تاریخ گجرات کی گم شدہ کڑیوں کی بازیافت ہے اور جن شخصیات کا ذکر اس کتاب کی زینت بنا۔ ان میں سے زیادہ تر شخصیات پر تھوڑا بہت کام کہیں نہ کہیں ضرور موجود ہے لیکن شیخ عبدالرشید کا کمال یہ ہے کہ اس نے اپنے اسلوب میں نہ صرف اس کام کو دوبارہ زندہ کیا ہے بلکہ کھوج اور جستجو سے ان تاریخ ساز شخصیات کے گمشدہ حوالوں کو تلاش کر کے باہم اس طرح جوڑ دیا ہے کہ ان شخصیات کا مرقع ہمارے سامنے مجسم ہو گیا ہے۔

تاریخ تبھی زندہ رہتی ہے جب تاریخ نویس اپنے عہد کے ساتھ ساتھ، اپنے سے پہلے عہد کی تاریخ کو بھی نشر مکرر کے طور پر اپنے اسلوب میں دکھاتا رہے ورنہ زندگی اور اس سے وابستہ ہر چیز کا تو یہ عالم ہے کہ آج مرا کل دوسرا دن۔ اس کتاب کی اصل قدر و قیمت، ان شخصیات کی سوانح میں مضمر ہے، جن کے ساتھ مصنف کی قلبی وابستگی تھی۔ اس لیے مستقبل میں مصنف کو الگ کر کے کبھی بھی، ان شخصیات کو اس کتاب کے فریم ورک میں نہیں سمجھا جا سکے گا اور یہی مصنف کی اصل کامیابی ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments