افغانستان۔ پیچھے شیر اور آگے کھائی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بیس سال قبل جب امریکہ افغانستان اور عراق میں میں نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ کرنے نکلا تو اس نے اپنا پالیسی بیان اس وقت کے سیکرٹری دفاع ڈونلڈ رمز فیلڈ کے ذریعے دیا تھا۔ اتفاق سے میں نے یہ بیان متحدہ عرب امارات کے اس وقت کے وزیر دفاع محمد احمد البواردی کے ساتھ پاکستان کی چین کی سرحد کے قریب آخری گاؤں سوست کے ایک ہوٹل کے ڈائننگ ہال میں دستیاب واحد ٹیلی ویژن سیٹ پر سنا تھا۔ عرب امارات افغانستان اور خلیج کی تمام جنگوں میں امریکہ کا بیس کیمپ رہا ہے۔

امریکہ کا دہشت گردی کے خلاف جنگ پر پالیسی بیان اتنا اہم تھا کہ اما اتی وزیر دفاع بھی اپنے کمرے سے اٹھ کر ڈائننگ ہال مین آن بیٹھا اور سب کے ساتھ ٹیلی ویژن پر سنا۔ تاریخ کے اس موڑ پر امریکہ کے وزیر دفاع کا پالیسی بیان متحدہ عرب امارات کے وزیر دفاع کے ساتھ ایک جگہ بیٹھ کر سننا کم از کم میرے لئے زندگی کا ایک ناقابل فراموش واقعہ تھا۔ رمز فیلڈ کا بیان سنتے ہوئے میں متحدہ عرب امارات کے وزیر دفاع کے چہرے پر تاثرات اور بیان کے رد عمل میں ان کے منہ سے نکلنے والے برجستہ جملے بھی غور سے سن رہا تھا۔

بیان ختم ہوا تو میں نے اماراتی وزیر دفاع سے دیگر باتوں کے علاوہ یہ بھی پوچھا تھا کہ اس جنگ کا انجام کیا ہو گا۔ محمد احمد البواردی نے یہ کہنے میں ایک لمحہ بھی نہیں لگایا کہ ”جنگ کا انجام ہمیشہ اپنی اور دوسروں کی بربادی ہوتا ہے“ ۔ اس کے باوجود متحدہ امارات کا اس جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے میں کتنی بڑی مجبوری ہو سکتی تھی اس کا اندازہ لگانا میرے لئے مشکل نہیں تھا۔

دو دہائیوں تک لڑی افغان جنگ میں امریکہ کے چار صدور اور دونوں سیاسی جماعتوں کا کردار تقریباً ایک جیسا ہی رہا۔ کئی بار کانگریس اور سینیٹ بدل گئے، فوج اور سول بیوروکریسی میں کئی تبدیلیاں آئیں مگر دہشت گردی کے خلاف جنگ کی امریکی پالیسی برقرار رہی۔ دشمن کو نیست و نابود کرنے کا تکبر اور اپنی طاقت کا لوہا منوانے کا زعم امریکی پالیسی کا محور رہا۔

بیس سال بعد جنگ کے اختتام پر امریکی سینیٹ کی سفارش پر مرتب کی جانے والی متوقع تحقیقاتی رپورٹ کے بارے میں بھی غالب گمان یہی ہے کہ جنرلوں سے ٹیلی ویژن سکرین پرکی گئی تفتیش کی طرح عوام کو دکھانے کے لئے ہوگی۔ امکان یہ ہے کہ امریکہ کے تمام صدور، افواج، پالیسی سازوں اور دیگر کرداروں کو بری الزمہ قرار دے کر الزام کسی اور کے سر تھوپا جائے گا۔ اس بارے میں پاکستان کی نشاندہی بھی سینیٹ میں پیش کیے بل میں ہی کی گئی ہے کہ بیس سالوں تک یہاں طالبان کو محفوظ پناہ گاہیں اور مدد فراہم کی گئی جس کی وجہ سے امریکہ کو بالآخر ہزیمت اٹھانی پڑی۔

روسی افواج کی افغانستان سے انخلاء پر روس کے ڈوما میں بھی ان وجوہات کا جائزہ لینے کے لئے بحث ہوئی تھی جس میں اس بات کی نشاندہی ہوئی کہ روس نے افغانستان کے عوام کو صرف ایک بہتر مستقبل کے لئے اشتراکی نظریے کی بنیاد پر ساتھ ملانے کی کوشش کی جبکہ امریکہ نے ڈالر سے خریدنے کی اور بالآخر ڈالر جیت گیا۔ امریکہ نے اس بار بھی افغانستان میں ڈالروں کی بارش جاری رکھی مگر نتیجہ پھر بھی روس سے مختلف نہ نکلا۔ اس بار امریکی صدر نے مگر یہ تسلیم کیا کہ ’ہم نے جدید اسلحہ دیا، بے پناہ وسائل فراہم کیے ، افواج کو تربیت دیا مگر لوگوں کو لڑنے پر آمادہ نہیں کر سکے‘ ۔ یہ بات روسی انخلاء پر ڈوما کے تجزیے کے بالکل برعکس ہے۔

اصولی طور پر ناکامی پر تحقیقات کا معاملہ پہلے سے اخذ کردہ نتائج یا مفروضوں کو ثابت کرنے کے بجائے ایک غیر جانبدار اور مبنی بر حقائق بے لاگ تجزیے کا متقاضی ہے۔ بہتر ہوتا اقوام متحدہ جس کی منظوری سے یہ جنگ شروع ہوئی تھی وہ بقلم خود بتاتا کہ دنیا کے سب سے بڑے فوجی اتحاد کو ایک چھوٹے سے ملک پر قابو پانے میں مشکلات کیوں پیش آئیں۔ مگر امریکی تکبر اور انا کبھی بھی ایسا کرنے کی اجازت نہیں دے گا کہ کوئی افریقی، ایشیائی یا چینی دماغ اس کو بتائے کہ وہ ناکام کیونکر ہوا۔ غالب گمان یہی ہے کہ ایک نمائشی تحقیق امریکی عوام کی تسکین اور دیگر دنیا کے لوگوں کو مرعوب کرنے کے لئے ہوگی جس میں الزام کسی اور کے سر تھوپ کر قربانی کا بکرا بنایا جائے گا۔

خرابی بسیار کے بعد جان چھوٹی تو لاکھوں پائے کے مصداق امریکہ افغانستان کی سرزمین سے تو نکل گیا مگر دنیا کے نقشے پر روس، چین ایران اور پاکستان کے وسط میں پیوست مٹھی سے نہ نکل سکے گا۔ چین اس مٹھی نما ملک کے انگوٹھے میں واقع واخان کی راہداری سے تیل اور گیس تکلا مکان کے صحرا سے پرے لے جانے اور ریلوے لائن سے جوڑ کر افغانستان کو یورپ اور جنوب مشرقی ایشیاء کا گیٹ وے بنانے کے خواب دیکھ رہا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو یورپ اور امریکہ میں صف ماتم بچھ جائے گی اور وہ اپنے کزن پوٹین جس کو انھوں نے بد چلن آوارہ قرار دے کر برادری سے نکال دیا تھا منا نے کی کوشش کریں گے۔

دوسری جانب طالبان کے لئے تخت کابل پھولوں کی سیج نہیں ہے۔ دنیا کے سامنے مذہبی انتہا پسندی اور بنیاد پرستی کے نام پر بر سر پیکار طالبان کو خود اب کی بار زیادہ انتہا پسندی کا سامنا ہے۔ ان ہی طالبان کی صفوں سے نکل کر خلافت اسلامیہ کا ولایت خراسان بنانے کے خواہشمند جنگجو اس بات کی تاک میں بیٹھے ہیں کہ کابل میں براجمان طالبان کے خلاف وہ کیا جائے جو ملا عمر اور اس کے ساتھیوں نے سابقہ مجاہدین کے ساتھ کیا تھا۔

کچھ سال قبل داعش (دولت اسلامیہ عراق و شام) کا ایک رسالہ دبیق کے نام سے بہترین ادارت، مضمون نگاری اور تصویری جھلکیوں کے ساتھ انگریزی کے علاوہ کئی زبانوں میں شائع ہوا کرتا تھا۔ ہر شمارہ کسی ایک خاص موضوع پر ہوا کرتا تھا جن میں سے دو رسالے یہاں قابل ذکر ہیں۔ ایک رسالے میں موضوع وزیرستان میں طالبان کے آپس میں اختلافات اور اس کے نتیجے میں جنگجوؤں کے داعش میں شمولیت کی وجوہات اور ان کے بیانات پر مبنی تھا۔

دوسرا رسالہ خلافت کے موضوع پر لکھا گیا تھا کہ دولت اسلامی کے خلیفہ کے لئے کیا شرائط اور تقاضے ہیں۔ مجھے اس رسالے میں خلافت کے لئے بیان کی گئی شرائط پر پورا اترتے الشیخ المجاہد ابو بکر البغدادی الحسینی القریشی الہاشمی کا نام بھی پہلی بار پڑھنے کو ملا تھا اور بتایا گیا تھا کہ خلافت کے لئے امیدوار کا عرب، قریش، ہاشمی اور حسینی النسل ہونا بھی بنیادی شرائط میں سے ہے۔ جس رسالے میں وزیرستان میں اختلاف کر کے نکلنے والے جنگجوؤں کے طالبان پر الزامات اور اس کا جو تجزیہ کیا گیا تھا وہ بھی انتہائی دلچسپ تھا۔

مختصراً داعش کے پیروکاروں کے نزدیک غیر عرب طالبان کی تنظیم، فکر اور ان کے نظریات ایسے نہیں کہ ان کا اتباہ کیا جائے۔ دوسری طرف طالبان کے اپنے مخصوص نظریات اور اصولوں کی بنیاد پر دنیا کے دیگر ممالک اور اقوام ان کی حکومت اور امارت تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں تاوقتیکہ کہ وہ اس میں نرمی نہیں لاتے اور دنیا کے ساتھ ہم قدم نہیں ہوتے۔

کابل میں امارت اسلامی کے تخت نشین طالبان کے سامنے اب دو راستے ہیں کہ وہ اکیلے رہیں یا دنیا کے ساتھ۔ ہر دو صورتوں میں کوئی راستہ صاف اور سیدھا بھی نہیں ہے۔ اگر وہ اپنے نظریات اور بنیادی اصولوں کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں تو تنہائی کی گہری کھائی میں جائیں گے جہاں سے واپسی مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے۔ اپنے مخصوص نظریات اور اصولوں کے ساتھ دنیا سے کٹ کر خاص طور پر گلوبلائزیشن کے دور میں اکیلے رہنا کسی بھی ملک اور معاشرے کے لئے ممکن نہیں۔

گزشتہ بیس سالوں تک در در کی ٹھوکریں کھائے طالبان سے بہتر اس بات کو کون جان سکتا ہے کہ یہ قرون وسطیٰ نہیں بلکہ اکیسویں صدی کا زمانہ ہے۔ مگر دوسری طرف پیچھے ہٹنے کی صورت میں ان کو اپنے لشکریوں کے عتاب کا سامنا کرنا ہو گا جن کے ساتھ گزشتہ بیس سالوں تک اپنے نظریات اور اصولوں کی پاسداری کا عہد کرتے رہے ہیں۔

بہر حال افغانستان کو اگے بڑھنے کے لئے آگے کھائی اور پیچھے شیر میں سے کسی ایک راستے کا انتخاب تو کرنا ہو گا۔ دیکھنا یہ ہے کہ طالبان تاریخ کے اس نئے موڑ پر تنہائی کی کھائی میں گرتے ہیں یا پلٹ کر اپنے ہی سدھائے شیر کا مقابلہ کرتے ہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

علی احمد جان

علی احمد جان سماجی ترقی اور ماحولیات کے شعبے سے منسلک ہیں۔ گھومنے پھرنے کے شوقین ہیں، کو ہ نوردی سے بھی شغف ہے، لوگوں سے مل کر ہمیشہ خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر شخص ایک کتاب ہے۔ بلا سوچے لکھتے ہیں کیونکہ جو سوچتے ہیں, وہ لکھ نہیں سکتے۔

ali-ahmad-jan has 245 posts and counting.See all posts by ali-ahmad-jan

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments