امریکہ کے سمندری معاہدے : نئی سرد جنگ کا اغاز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ ماہ امریکہ نے کواڈ کانفرنس ( QUAD ) اور اوکس اتحاد ( AUKUS ) کے ذریعہ نئی عالمی صف بندیوں کا آغاز کرتے ہوئے، چین کے خلاف سرد جنگ کا

طبل بجا دیا ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے دوران کواڈ اتحاد کا پہلا براہ راست سربراہ اجلاس وائٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ صدر جو بائیڈن کی قیادت میں بھارت، جاپان اور آسٹریلیا کے رہنماؤں نے مشترکہ اعلامیہ میں بحر ہند میں امن اور عالمی قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنانے پر اتفاق کرتے ہوئے بحر ہند میں گشت اور سمندری فضا میں پرواز کے حق اور خطے کے تمام ممالک کی سلامتی کو یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ اعلامیہ میں اگرچہ چین کا نام نہیں لیا گیا لیکن تمام واقف حال جانتے ہیں کہ روئے سخن چین کی جانب تھا۔ ردعمل میں چین نے کواڈ کو مسترد کرتے ہوئے اس اتحاد کو وقت کے تقاضوں کے خلاف قرار دیا ہے۔ اوکس اتحاد کے تناظر میں کواڈ کانفرنس کی حیثیت ضمنی اور مدد گار کی ہے۔

کواڈ کانفرنس سے چند روز قبل امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا پر مشتمل سہ فریقی دفاعی اتحاد کا اعلان، ان ممالک کے سربراہان نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا۔ صدر جو بائیڈن نے اس اتحاد کو تاریخی اقدام قرار دیا۔ مشترکہ اعلامیہ میں جنوبی چین کے سمندر سے ملحق ممالک کی سلامتی اور حقوق کی حفاظت کے علاوہ مشترکہ اقدار کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لئے تمام ضروری دفاعی اقدامات پر اتفاق کیا گیا ہے۔ اس اعلامیہ میں بھی چین کا تذکرہ بظاہر نہیں ملتا لیکن علاقے میں سلامتی سے متعلق سنجیدہ خدشات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، جس کا بلاواسطہ مخاطب چین ہی ہے۔

جنوبی چین کے سمندر کے اطراف میں چین، برونائی، تائیوان، ملائشیا، انڈونیشیا، فلپائن اور ویتنام کے مابین سمندری گشت، ماہی گیری، جزائر نما علاقوں، اور تہہ میں موجود قدرتی وسائل پر تصرف اور اختیار پر پرانا تنازعہ چلا آ رہا ہے۔ سپارٹلے اور پیراسیل کے جزائر میں بعض دیگر ممالک کی طرف سے وقتاً فوقتاً تیمیرات کی کوششیں کی گئی تھیں مگر یہ ماضی کا قصہ ہیں۔ ماضی قریب میں چین نے ان جزائر میں تعمیرات کی ہیں۔ 2016 میں چین نے مصنوعی جزیرہ تعمیر کیا اور بڑے پیمانے پر فوجی تنصیبات قائم کی ہیں۔ گزشتہ کچھ عرصہ میں چین نے اس علاقہ میں بحری اور فضائی فوجی طاقت میں بہت اضافہ کیا ہے۔

چین سمندر میں اپنی دفاعی استعداد میں اضافہ ان پانیوں کی تجارتی اہمیت کے سبب کر رہا ہے۔ بحر جنوبی چین کے راستے سالانہ 3.37 ٹریلین ڈالر کی تجارت ہوتی ہے، جو بین الاقوامی سمندری تجارت کا ایک تہائی ہے۔ چین کو توانائی کی ترسیل کا 80 فیصد یہیں سے موصول ہوتا ہے، جبکہ چین کے کل تجارتی حجم کے 39.5 فیصد کی گزر گاہ بھی یہی سمندر ہے۔ اس کے علاوہ ان پانیوں کی تہہ میں تیل اور قدرتی گیس کے وسیع ذخائر بھی موجود ہیں۔

چین پرامن بقائے باہمی اور تجارتی فوائد میں اشتراک کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے، اور یہی حکمت عملی اس کی حیرت انگیز تیز رفتار اقتصادی ترقی کا راز ہے۔ لیکن امریکہ، جو تاحال دنیا کی واحد سوپر پاور کے مرتبہ پر فائز ہے، اقتصادیات اور ٹیکنالوجی کے میدانوں میں چین کی فقیدالمثال ترقی کو اپنے لئے خطرہ سمجھتا ہے۔ اس امر میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ چین یوں ہی ترقی کرتا رہا تو امریکہ زیادہ دیر تک بین الاقومی معاملات پر اپنی گرفت برقرار نہیں رکھ سکے گا۔ لیکن جائز و نا جائز کے امتیازات سے بے نیاز، اپنے وسعت پذیر مفادات کے تحفظ کے لئے عسکری قوت کا استعمال، سامراجی طاقتوں کا وتیرہ رہا ہے۔ چنانچہ چین کی ترقی پر قدغنیں عائد کرنے کے لئے امریکہ نے اوکس دفاعی اتحاد تشکیل دیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اوکس دوسری عالمگیر جنگ کے بعد سب سے بڑا سہ فریقی دفاعی اتحاد ہے۔ برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ یہ اتحاد پوری دنیا کے امن اور استحکام کو یقینی بنائے گا۔ برطانوی وزیر دفاع بین ویلس نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین بحر جنوبی میں اپنی فضائیہ اور بحریہ کی دفاعی استعداد میں عظیم اضافے کر رہا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس علاقہ میں ہمارے دوست ممالک چین کے ساتھ تنازعات میں اپنے موقف پر جمے رہیں۔

آسٹریلیا کا کہنا ہے کہ جنوبی چین کے سمندر میں تمام ممالک کے مساوی اختیارات کو یقینی بنانے کے لئے ہم اپنا کردار ادا کریں گے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ یہ تینوں ممالک علاقہ میں اپنی توجہ فوجی قوت کے اضافہ پر مرکوز رکھیں گے اور مستقبل میں نیوزی لینڈ اور کینیڈا کو بھی اس اتحاد میں شامل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

اوکس اتحاد کا سب سے اہم پہلو آسٹریلیا کو ، امریکہ کی طرف سے جوہری آبدوزوں کی ٹیکنالوجی کا انتقال ہے۔ لیکن جوہری توانائی سے چلنے والی ان آبدوزوں کو ایٹمی اسلحہ فراہم نہیں کیا جائے گا۔ چونکہ آسٹریلیا ایٹمی طاقت نہیں ہے، لہاذا آسٹریلیا کو ان آبدوزوں کی تیاری کے لئے ٹیکنالوجی کی فراہمی، بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہو گی۔ ان آبدوزوں کی تیاری میں امریکہ کے ہمراہ برطانیہ بھی معاونت فراہم کرے گا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ چونکہ آسٹریلیا کسی قسم کی جوہری تنصیبات نہیں رکھتا، اس لئے آبدوزوں کی تیاری کے آغاز سے پہلے، ابتدائی امور کے لئے تقریباً اٹھارہ ماہ کا عرصہ درکار ہو گا۔

جوہری آبدوزیں جنگی نقطہ نظر سے اس لئے بہت اہمیت رکھتی ہیں کہ یہ کئی مہینوں تک سطح اب سے نیچے رہ سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی موجودگی اور حرکت معلوم کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے، اور بہت دور سے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ امریکہ نے اس سے قبل صرف ایک بار، 1958 میں برطانیہ کو ایسی ٹیکنالوجی منتقل کی تھی۔ تیاری کے بعد آسٹریلیا جوہری آبدوزوں کا حامل ساتواں ملک ہو گا۔ اتحاد میں یہ شق بھی شامل ہے کہ رکن ممالک، اس علاقہ میں مصنوعی ذہانت اور کوانٹم ٹیکنالوجی کو بھی بروئے کار لائیں گے۔

بیجنگ میں دفتر خارجہ نے اوکس اتحاد پر چین کا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ کا پیش خیمہ ثابت ہو گا۔ واشنگٹن میں چینی سفارتخانہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ اتحاد متروک شدہ سرد جنگ کا غماز اور نظریاتی تعصب کا اظہار ہے۔

چین نے جس غیر معمولی رفتار سے ترقی کی ہے، اس کی کلید جنگ سے اجتناب ہے۔ اس حکمت عملی کا تدارک کرنے کے لئے جنگ کے خوگر امریکہ نے عسکری محاذوں کی تشکیل کے ذریعہ چین کو تصادم کی راہ پر دھکیلنے کی کوششوں کا آغاز کر دیا ہے۔ جو چین کی امن پسندی کی روش کے لئے رکاوٹ بن سکتا ہے۔ امریکہ کی از حد کوشش ہو گی کہ چین کو عسکری نوعیت کے تنازعات میں الجھایا جائے۔ اس سازش سے بچاؤ کے لئے چین امریکی اتحادوں میں دراڑ ڈالنے کی کوشش کرے گا۔

امریکہ اوکس اور کواڈ اتحادوں کے ذریعے دنیا بھر میں پھیلے چین کے اقتصادی مفادات کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی کوشش کرے گا۔ سی پیک اس لڑائی کا اہم محاذ ہو گا۔ افراسیاب خٹک کے مطابق اصل تناؤ سمندروں میں پیدا ہو گا، لیکن فوجی نوعیت کے تصادم کے لئے درکار عوامل افغانستان میں مہیا ہیں۔ امریکہ زرخرید ایجنٹوں کے ذریعہ افغانستان میں بدامنی پھیلائے کی کوشش کرے گا۔ کابل میں، طالبان حکومت کے ترجمان ملا ذبیح اللہ کی والدہ کی نماز جنازہ کے دوران، شہر کی دوسری بڑی مسجد میں دھماکہ، اسی سلسلے کی کڑی معلوم ہوتا ہے۔ دوسری جانب افغانستان اور بھارت کا پڑوسی ہونے کے سبب، اوکس اور کواڈ اتحاد پاکستان کے کیے بھی خطرے کی گھنٹیاں ہیں۔ ہمیں ان خطرات سے نمٹنے کے لئے ابھی سے جامع حکمت عملی ترتیب دینا ہوگی۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments