جرمن انتخابات اور ووٹنگ مشینیں – مکمل کالم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وطن عزیز میں انتخابی نظام میں اصلاحات کے حوالے سے آج کل خوب شورو غوغا مچایا جا رہا ہے حالانکہ صرف اور صرف شور و غوغا مزید خراب کرنے کا باعث بنتا ہے اور اب تو یہ ہدف باآسانی حاصل کر لینا چاہیے تھا جرمنی میں بھی جمہوریت اپنی موجودہ شکل میں دوسری جنگ عظیم کے بعد سے موجود ہے جبکہ جرمنی کے ٹکڑے بھی ہو گئے تھے یہ وہی وقت ہے جب ہم ووٹ کی طاقت سے برطانوی ہند میں قیام پاکستان کا مطالبہ کر رہے تھے۔ مگر ہم اس سے آگے نہ بڑھ سکے یہ تمام اس لیے ذہن میں آیا کہ جرمنی میں ابھی انتخابات کا عمل وقوع پذیر ہوا ہے اور حکمران جماعت ہویا حزب اختلاف کسی نے بھی انتخابی عمل میں انتخابات سے قبل یہ اس کے دوران دھاندلی کا الزام عائد نہیں کیا ہے۔ بلکہ نتائج کو خوش دلی سے تسلیم کر لیا ہے کہ یہ عوامی رائے ہے جرمنی کے سیاسی نظام میں ہمیشہ گہری دلچسپی رہی۔

راقم الحروف جرمنی کی اکیڈمی آف لیڈرشپ گنبرز برگ میں زیر تعلیم بھی رہا جب کہ کسی یورپی ملک کا پہلا سرکاری دورہ بھی آج سے بیس برس قبل جرمنی کا ہی کیا تھا۔ جب اینجلا مارکل پہلی بار چانسلر منتخب ہوئی تھی تو اس وقت بطور مبصر جرمنی میں موجود تھا موجود تو انتخابات کے دوران بھی بطور مبصر وہاں ہونا تھا مگر کرونا نے فی الحال دنیا کا چہرہ ہی بدل دیا ہے لہذا بس آن لائن ہی سیمینار میں شرکت کر سکا۔

بہرحال جرمنی میں وہاں کی آبادی بتدریج زبردست سیاسی شعور کی حامل ہوتی چلی گئی ہے۔ سامنے آئے معاملات کی بنیاد پر رائے عامہ فیصلہ صادر کرتی ہے جیسا کہ عرض کیا کرونا نے دنیا کا چہرہ ہی بدل دیا تو جرمنی میں سیاسی اتار چڑھاؤ انتخابات میں دیکھنے کو ملے گا یہ گزشتہ کئی مہینوں سے پیشن گوئی کی جا رہی تھی۔ جب کرونا نے ادھم مچایا تو جرمنی بھی اس کی زبردست لپیٹ میں آ گیا انجیلا مارکل حکومت نے اس حوالے سے اقدامات اٹھانا شروع کر دیے مگر اسی دوران ماسک ڈیل اسکینڈل سامنے آیا کہ حکمران کرسچن ڈیموکریٹس سے وابستہ سیاستدانوں نے اس متنازعہ ڈیل سے بہت بڑی رقم بنائیں۔

ایک تو دنیا کرونا سے لڑ رہی تھی تو جرمن عوام کے سامنے یہ سکینڈل آ گیا اس سکینڈل کے آتے ہی رائے عامہ میں بالخصوص نوجوانوں میں زبردست سیاسی ردعمل دیکھنے میں آیا اور جرمنی کی سیاست پر نظر رکھنے والے افراد یہ توقع کرنے لگے کے حکمران سی ڈی یو کو اگلے انتخابات میں بڑے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا اور جب انتخابی نتائج سامنے آئے تو یہ بات درست بھی ثابت ہو گئی کیونکہ حکمران جماعت کو ماضی میں کتنے ووٹ پڑے تھے تو اس کے مقابلے میں وہ 25 فیصد ووٹ کم لے سکیں اور اس 25 فیصد کی کمی کا یہ نتیجہ ہوا کی سوشل ڈیموکریٹس جو چند ماہ قبل تک اتنے متحرک محسوس نہیں ہو رہی تھی وہ بہت بہتر انتخابی کارکردگی دکھانے میں کامیاب رہے۔

اس کی وجہ یہ بھی بنی کہ ان کے لیڈر اولف شلز کی ماضی میں بطور وزیر خزانہ ویسے ہی ساکھ بہت اچھی رہی ہے اور انتخابات سے قبل ان کے حوالے سے یہ بھی تصور مضبوط ہوا کہ وہ معاملات کو جارحانہ انداز میں حل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ مگر اس سب کے باوجود وہاں پر کوئی بھی جماعت تنہا حکومت سازی میں کامیاب نہیں ہو سکے گی کیونکہ انتخابی نتیجہ ملا جلا آیا ہے۔ چھوٹی جماعتوں گرین پارٹی اور ایف ڈی پی نے اپنی جگہ بنا لی ہے کہ وہ ناگزیر ہو گئی ہیں مگر یہاں پر مسئلہ یہ ہے کہ ایف ڈی پی مارکیٹ لبرل ازم کی قائل ہے اس کے فسکل کے حوالے سے خیالات بھی ذرا مختلف ہے جبکہ گرین پارٹی کے خیالات مختلف ہے ان کا ایک ہی حکومت کے ساتھ بیٹھنا بظاہر ناگزیر ہو گا مگر پالیسی سازی میں شدید تقسیم کا امکان موجود ہے مگر اس کا سرے سے امکان موجود نہیں ہے کہ ان میں سے کوئی بھی کسی ایسے اقدام کی طرف بڑھنا چاہیے جو آئین کے برخلاف اور رائے دہندگان کے رائے کے قتل عام پر مبنی ہو۔

ابتدا میں عرض کیا کہ جب جرمنی اپنا سیاسی نظام ہٹلر کے بعد بنا رہا تھا تو ہم اس وقت سیاسی جماعتوں کی جدوجہد کی وجہ سے برصغیر پر نوآبادیاتی نظام کا خاتمہ دیکھ رہے تھے کہ جس میں ووٹ کو عزت حاصل تھی مگر جرمنی تو آج اس صورت حال میں ہے کہ وہاں حکمران جماعت جیت جائے یا ہار جائے انتخابی نظام کی ساکھ متاثر نہیں ہوتی جبکہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا شوشہ بھی اسی لئے چھوڑا گیا ہے کہ بس سافٹ ویر سے چھیڑ خانی کرو اور مطلوبہ نتیجہ حاصل کر لو۔

2006 میں ہالی ووڈ میں فلم ”مین آف دی ائر“ بنائی گئی۔ اس فلم میں ایک کامیڈین شروع کرنے والا کومیڈی میں امریکی صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کا اعلان کر دیتا ہے اور پھر ای میلز کی بدولت انتخابی میدان میں اتر بھی جاتا ہے۔ اب تھا تو کامیڈین جب صدارتی امیدواروں کے درمیان مباحثہ منعقد ہوتا ہے تو سیاست کیا کرتا کامیڈی کر کے بس قہقہے لگوانا شروع کر دیتا ہے لیکن اصل قہقہہ انتخابات کے دن لگتا ہے جب وہ کامیاب بھی ہو جاتا ہے وہ خود بھی ششدر رہ جاتا ہے۔

جس کمپنی کا کمپیوٹر انتخابات کے لئے استعمال ہو رہا ہوتا ہے اس میں خرابی آجاتی ہے کمپنی کی ایک اہلکار بروقت مطلع بھی کر دیتی ہے مگر اس کو نوکری سے ہاتھ دھونا پڑ جاتے ہیں اور جنہوں نے یہ حرکت کی ہوتی ہے وہ اس کے پیچھے ہاتھ دھو کر بھی پڑ جاتے ہیں القصہ مختصر کہ سچ سامنے آ جاتا ہے اور اصل فاتح، فاتح بن جاتا ہے مگر خیال رہے کہ وہ امریکہ دکھایا جا رہا تھا اس لیے اصل فاتح کو اتنا موقع مل جاتا ہے۔ ہمارے یہاں تو محکمہ زراعت اتنا طاقتور ہے کہ امیدوار کو اٹھا کر لے جاتا ہے ذرا سوچئے اگر محکمہ زراعت کی جگہ محکمہ جنگلات اڑ گیا تو اس کے پاس تو بندوق کی طاقت بھی ہوتی ہے اب بندوق کی طاقت کیا ہوتی ہے یہ ہم اچھی طرح جانتے ہیں۔ مسئلہ انتخابی نظام کے سقم کا نہیں بلکہ نیتوں کے فتور کا ہے ور نہ اگر ادارے درست کام کریں تو برطانوی عدالت جیسے فیصلے آتے ہیں کہ جیسے ابھی شہباز شریف کے حوالے سے آیا اور اگر دباؤ میں ہو تو جج ارشد ملک مرحوم کی مانند فیصلے آتے ہے کہ جن سے جج خود بھی شرمندہ ہوتے ہیں۔ نیتیں درست کیجئے سب درست ہو جائے گا


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments