سید قاسم محمود سے ایک مختصر ملاقات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید قاسم محمود کا انتقال اکتیس مارچ 2010 کو ہوا۔

میرے تایا ابو (مرحوم) کو کہیں سے معلوم ہوا کہ سید قاسم محمود کی رہائش گاہ میرے ہوسٹل کے قریب واقع ہے۔ انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ میں سید قاسم محمود کی خدمت میں حاضری دوں۔ تایا ابو، جنہیں میں ماموں پکارتا تھا، کی پرسنل لائبریری میں سید قاسم محمود کی بہت سی کتابیں موجود تھیں۔ میں خود بھی ان کتابوں سے مستفید ہو چکا تھا۔ سو بخوشی راضی ہو گیا۔

میرا ہوسٹل جوہر ٹاؤن میں خیابان جناح پر واقع تھا۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ سید قاسم محمود کا گھر جوہر ٹاؤن اور واپڈا ٹاؤن کے بیچ شوکت خانم ہسپتال کے آس پاس کہیں واقع ہے۔ ایک روز شام کے وقت یونیورسٹی سے واپسی پر روٹ کی ویگن پکڑ کے سید قاسم محمود کے گھر کے باہر جا پہنچا۔ وہاں سے معلوم ہوا کہ وہ پاس ایک مسجد میں واقع اپنے دفتر میں ملیں گے۔

میں مسجد کے صدر دروازے پر پہنچ گیا۔ اندر داخل ہوا تو بائیں جانب دو چھوٹے کمروں پر مشتمل سید قاسم محمود کی اسٹڈی تھی۔ میں پہلے کمرے میں کتابوں کی راہداری سے ہوتا ہوا دوسرے کمرے میں کتابوں کی چار دیواری تک جا پہنچا۔ ضعیف سید قاسم محمود لیمپ کی روشنی میں ٹیبل پر بچھے کاغذوں پر لکھ رہے تھے۔

ہمارے گھر کے مختلف کمروں کی چھوٹی بڑی الماریوں میں سید قاسم محمود کی متفرق کتب بکھری ہوئی تھیں۔ ان میں سب سے نمایاں ہال کمرے میں موجود نارنجی رنگ کی انسائیکلوپیڈیا پاکستانیکا تھی۔ کئی ہزار صفحات پر مشتمل بڑے سائز کی اس کتاب کو میں اکثر لے کر بیٹھ جاتا۔ مشہور شخصیات، تاریخی مقامات اور اہم واقعات کے بارے میں لکھے گئے مضامین شوق سے پڑھتا۔

دوسری منزل کے بڑے کمرے میں سائنس انسائیکلوپیڈیا کی بہت سی جلدیں موجود تھیں۔ وہیں میں نے مسلم سائنس دانوں، بگ بینگ تھیوری اور نظریہ اضافیت کے بارے میں پڑھا۔ اس کے علاوہ قرآن مجید کے اولین پاروں کی تفسیر بھی نظر سے گزری۔ اس کی نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ اس میں مختلف مکتبہ فکر کے مفسرین کے مضامین کو ایک جگہ اکٹھا کیا گیا تھا۔ اور ان کا تنقیدی جائزہ بھی لیا گیا تھا۔

جب ہم نے پرانا گھر خالی کیا تو سب کتابوں کو ایک الگ کمرے میں اکٹھا کر دیا۔ میں اکثر ان میں گھسا رہتا تھا۔ وہاں سے دریافت ہونے والی چند کتابوں میں سید قاسم محمود کی ادارت میں چھپنے والی ایک چھوٹی سی کتاب ”شاہکار افسانے“ بھی تھی۔ میں اکثر شام کے وقت اکیڈمی سے واپس آ کر کتاب لے کر صوفے پر لیٹ جاتا اور ایک آدھا افسانہ پڑھ کر ذہن تر و تازہ کر لیتا۔

اور آج میں کتابوں کے اس بے تاج بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا۔ وہ عظیم انسان تن تنہا میرے سامنے بیٹھا اپنے کام میں مشغول تھا۔ کوئی دربان اس کی حفاظت پر مامور تھا نہ کوئی خدمت گزار اس کی صحت کا نگہبان۔ صرف ایک چھوٹی سی بچی، غالباً ان کی پوتی، پاس بیٹھی کسی چیز سے کھیل رہی تھی۔ ان کے دروازے کتنی آسانی سے مجھ پر کھل گئے تھے۔ مگر افسوس کہ نئی نسل کے بہت کم لوگ ان کے کام سے واقف ہوں گے۔ بقول جون ایلیا۔

کوئی مجھ تک پہنچ نہیں پاتا
اتنا آسان ہے پتا میرا

میں نے ان کی خدمت میں سلام پیش کیا۔ وہ مجھے گرم جوشی سے ملے۔ میں نے انہیں بتایا کہ میرے ماموں اور میں ان سے کتنی محبت کرتے ہیں۔ یہ جان کر انہیں بہت خوشی ہوئی۔ ہمارے درمیان بات کرنے کے لیے زیادہ موضوعات نہیں تھے۔ میں انہیں ڈسٹرب کرنا نہیں چاہتا تھا۔ وہ کسی اہم کام میں مصروف تھے اور مسلسل لکھے جا رہے تھے۔ گویا اب انہیں وقت پر بھروسا نہیں تھا۔ وہ اپنی ہر سانس لکھنے پر صرف کر دینا چاہتے تھے۔ ان کے جذبے کو دیکھ کر مجھے احساس ہوا کہ انہوں نے اتنا علمی کام کیسے کر کیا۔

میں مصورانہ خطاطی کا ایک نمونہ ساتھ لے آیا تھا۔ آنے سے پہلے تصویروں کا البم کھول کر کافی دیر سوچتا رہا کہ سید قاسم محمود کے لیے کون سی پینٹنگ لے جاؤں۔ میں نے سنہری رنگ میں لکھی ”اقرا باسم ربک الذی خلق“ کا انتخاب کیا۔ ”پڑھو، اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔“ ایک شخص، جو ساری عمر قوم کو پڑھنے کی طرف لگاتا رہا اور یہ کام عبادت سمجھ کر کرتا رہا، کے لیے اس مقدس جگہ پر اس سے بہتر کوئی اور تحفہ نہیں ہو سکتا تھا۔

انہوں نے بخوشی تحفہ قبول کر لیا اور بولے، ”کچھ روز بعد میرے پاس آنا۔ میں تمہیں ایک لیٹر دوں گا۔ وہ لے کر ایوان اقبال میں اسلم کمال کے پاس چلے جانا۔ وہ مصورانہ خطاطی میں تمہاری اچھی رہنمائی کریں گے۔“ اسلم کمال! مجھے اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا۔ سید قاسم محمود جہاں میرے لیے علم و ادب کا مینار تھے تو وہیں اسلم کمال مصورانہ خطاطی میں میری انسپریشن۔ میں خوشگوار حیرت کے ساتھ ہوسٹل واپس آ گیا۔

کچھ روز بعد سید قاسم محمود کی وفات کی خبر ملی۔ یہ سچ ہے کہ وقت کا کوئی بھروسا نہیں۔ ان کی زندگی سے بہت سی کہانیاں منسلک تھیں۔ آج ان کے انتقال نے ایک امکان کو ختم کر دیا۔ اگر میں سید قاسم محمود کا خط لے کر اسلم کمال کے پاس چلا جاتا تو واقعات کا ایک نیا پنڈورا باکس کھل سکتا تھا۔ مگر شاید وقت کو یہ منظور نہیں تھا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments