وکیل کا ڈنڈا زیادہ طاقتور ہے اور پولیس والے کا قانون کمزور


قانون کی کمزوری کیا ہوتی ہے؟ اس کی تازہ مثال لاہور ہائیکورٹ کاپی برانچ میں ہونے والا واقعہ ہے۔ جہاں فیصلے کی کاپی نہ ملنے پر وکیل صاحب سیخ پا ہیں، قانون کا وردی پوش محافظ سامنے ہاتھ باندھے کھڑا ہے اور بالآخر وکیل کے حکم دینے پر کمرے سے باہر چلا جاتا ہے کہ وکیل صاحب دل کھول کر غنڈہ گردی کا ارتکاب کر لیں۔ اور پھر مولا جٹ ٹائپ وکیل کا گنڈاسا چلتا ہے اور سرکاری/عدالتی دفتر کے شیشے (جو شاید کسی کے باپ کے بھی نہیں ) چکنا چور ہو جاتے ہیں۔

مالی نقصان کو چھوڑیے اس کے اخلاقی، قانونی پہلوؤں کی طرف آئیے کہ ایک پولیس کی وردی میں موجود محافظ کیوں بھیگی بلی بنا کھڑا ہے۔ ہو سکتا ہے آئی جی صاحب اس پولیس والے کو بلی کا بکرا بنا کر معطل کر دیں اور سمجھیں کہ انصاف کے تمام تر تقاضے پورے ہو گئے۔ آپ یقین کریں کہ یہ پولیس والا قابل رحم ہے اور مجھے ذاتی طور پر اس پر ترس آ رہا ہے کہ اس کی کیا ”مجال“ کہ وہ ایک وکیل کو بہ زور قانون روک سکتا۔ اس احاطے میں موجود کالے کوٹ والے اس پر پل پڑتے اور اس کو معطلی کے ساتھ ساتھ ہڈیاں بھی تڑوانی پڑتیں۔

ثابت یہ ہوا کہ وکیل کا ڈنڈا جس سے شیشے ٹوٹے پولیس کے ڈنڈے سے زیادہ طاقتور ہے اور کالا کوٹ قانون اندھا ہی نہیں اندھا دھند ہو چکا ہے۔ پولیس والے کا قانون وکیل کی نسبت کمزور بھی ہے اور ہزار مصلحتوں سے بندھا ہوا بھی۔ اس کے پیچھے نہ اس کا محکمہ کھڑا ہوتا ہے نہ انصاف کی کوئی دیوی، نہ حکومت نہ ریاست۔ سو جس کے ڈنڈے تگڑے وہ دندناتے پھرتے ہیں۔

قانون کی طاقت کیا ہوتی ہے اس کی ایک جھلک بھی یوٹیوب وغیرہ کی شکل میں موجود ہے۔ نیویارک میں ایک سعودی شہزادے نے اپنی مہنگی گاڑی سڑک پر غلط پارک کر رکھی تھی۔ پولیس والا چالان کرنے لگا تو شہزادہ کہیں سے نکل کر گاڑی میں بیٹھ گیا اور گاڑی آگے بڑھانے کی کوشش کی۔ پولیس والے نے اس دوران اس کا دروازہ کھولا اور اسے نیویارک کی اسی سڑک پر سر بسجدہ کر کے ہتھکڑی لگادی۔ پولیس والے کو یہ پروا نہیں تھی کہ یہ کون ہے؟

اس کے پاس اتنی مہنگی گاڑی ہے یا مرعوبیت کا کوئی دوسرا سامان یا حوالہ ہے۔ اسے بس یہ پتہ تھا کہ امریکہ کا صدر بھی اسے اس چالان کے نہ کرنے پہ مجبور نہیں کر سکے گا۔ اس کی پشت پر جو قانون کھڑا ہے وہ ہر شخصیت، ہر قسم کے مال اور عہدے سے بڑا اور طاقتور ہے۔ وہی اسے قانون نافذ کرنے کا حوصلہ بھی دیتا ہے اور اس کے بازووں کو طاقت بھی۔

یہاں عمران خان صاحب کا بتایا ٹرکل ڈاؤن ایفیکٹ ضرور کام کرتا ہے۔ نام نہاد اشرافیہ یا با اختیار طبقے پر سب سے پہلے قانون نافذ کر کے دیکھیں پورے معاشرے میں قانون کا خود بخود نفاذ ہوتا چلا جائے گا۔ ہماری کوئی بھی کلاس بقدر جثہ خود قانون پہ عمل کرنا نہیں چاہتی لیکن ساتھ ہر وقت یہ گلہ جاری رکھتی ہے کہ ہمارے ملک میں قانون کی عملداری نہیں ہے۔ ہم اپنے عہدوں، تعلقات، پہنچ کے حساب سے ریاست کے ستونوں یعنی قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدلیہ کو ”آلودہ کرتے“ اور ”رگڑتے“ ہیں اور ریاست کی لرزیدہ عمارت کا تمسخر اڑاتے ہیں یہ جانے بغیر کہ عمارت گری تو ہمارا ہی کچومر نکالے گی۔

Facebook Comments HS