5 اکتوبر: اساتذہ خود احتسابی کا دن
دنیا میں تمام انسان دوست پیشے اور پیشہ ور محنت کش قابل احترام ہوتے ہیں ; جب کہ تعلیم اور استاد کا مقام اس لیے اعلی اور افضل تسلیم کیا گیا ہے کہ یہ باقی تمام شعبۂ ہائے زندگی کو دوام دیے رکھتا ہے اور نسل انسانی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ کائنات کو امن، خوش حالی اور ترقی کا گہوارہ بنا سکے۔
تعلیم کا بنیادی مقصد جاننا اور معلم کا بنیا دی مقصد آگہی پھیلانا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تعلیم کی اقسام، مقاصد اور ذرائع تبدیل ہوتے گئے ; مگر معلم کا مقام ابھی تک مسلم ہے۔ اسلام نے معلم کو روحانی باپ کا درجہ دیا ہے اور تعلیم کو مقدس پیشے کی حیثیت دی ہے ; مگر بے محابا مادہ پرستی کے دور میں تعلیم اور معلم کی وہ مستحق حیثیت نہ رہی جو ماضی میں تھی۔ اسی لیے اقوام متحدہ نے 5 اکتوبر کو بہ طور عالمی یوم اساتذہ منانے کا اعلان کیا ہے۔
اس دن منانے کا مقصد صرف معاشرے میں اساتذہ کا احترام یا تعلیم کی اہمیت پر روشنی ڈالی نہیں جاتی ; بل کہ اس میں ان تمام امور پر بھی غور کیا جاتا ہے جو والدین، طلبہ، اساتذہ یا ریاست کی وجہ سے تعلیم اور معلم کے مقام کو زک پہنچا ہو۔
یہ بات تو طے ہے کہ معلم ہر دور میں انمول رہا ہے اور تعلیم کا کوئی نعم البدل نہیں ; مگر اکیسویں صدی کی آمد سے موجد سے زیادہ ایجاد، کسان سے زیادہ فصل، فن کار زیادہ فن، دماغ سے زیادہ افکار، ذرائع آمدن سے زیادہ آمدنی، مزدور سے زیادہ پیداوار اور علم سے زیادہ معلومات اور انسان سے زیادہ مشین کو برتری حاصل ہو گئی۔ نتیجتا، دولت نے عزت، مقدار نے معیار، شہرت نے اہلیت، خود پرستی نے عدل اور نفرت نے محبت پر فوقیت حاصل کرلی۔
اس مثالی زوال کی وجہ بین الاقوامی سطح پر رونما ہونے والی موسمی تبدیلیاں، معاشی جنگیں، سیاسی عدم اطمینان، مذہبی انتہا پسندی اور سماجی عدم مساوات بھی ہے ; جس نے غربت، مہنگائی، بے روزگاری، ناخواندگی، آبادی میں اضافے اور عدم برداشت کی وجہ سے ایک عام شہری کو جرم اپنانے اور مجرم کو عزت دینے میں پناہ لینے پر مجبور کیا۔ جن بچوں کو سکولوں یا کالجوں میں ہونا چاہیے تھا، تلخ زمینی حقائق کی وجہ سے وہ بد روزگاری میں مبتلا ہیں ; اور جن بچوں کو استاد کی قدر کرنا چاہیے تھا، وہ سمگلروں اور جرم پروروں کی تکریم میں مصروف ہیں۔ تعلیم کی قدر وہ لوگ کرتے ہیں جن کو تعلیم دی گئی ہو۔ وہ قومیں ترقی کرتی ہیں، جو تعلیم کو اولیت دیتی ہو۔ تعلیم کو اولیت دینا، معلم کو اولیت دینے کا مترادف ہے۔
بدقسمتی سے، جب سے تعلیم کو بہ طور سازش انسان دشمنی، تخریب کاری، اور طبقاتی تقسیم پیدا کرنے کے لیے ; اور جب سے معلم کو بہ طور آلہ نسلی برتری، مذہبی تفریق، لسانی تفوق اور سیاسی نفاق پھیلانے کے لیے استعمال کیا گیا، تو معاشرے کا تعلیم اور معلم پر سے اعتماد اٹھ گیا۔ دوسری طرف، تعلیم (نصاب) کا حالات حاضرہ کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہ ہونا، اور معلموں کا اپنے پیشے سے وفادار نہ ہونا بھی تعلیمی زوال کا اہم سبب ہے۔
ایک معلم کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنا پیشہ عظیم سمجھیں، مافیا کا حصہ نہ رہیں، ہر طرح سیاسی، لسانی اور سماجی تفریق سے الگ رہیں اور سب سے بڑھ کر جدید عصری تعلیمی تقاضوں سے باخبر رہیں۔ ایک معلم کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے اخلاق، لباس اور کردار کا بہت خیال رکھیں۔ ایک معلم کے لیے ضروری ہے کہ وہ مطالعے کی عادت اور لکھنے کی اہلیت رکھتا ہو، وہ جدید ٹیکنالوجی کا درسی ضروریات میں استعمال جانتا ہو۔ ایک معلم اگر دنیا کو بدلنا چاہتا ہے تو خود کو بدلیں اور اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھائیں۔
آج کل ہر جگہ اساتذہ کو ان کی بے قدری کی شکایت ہے۔ حالانکہ، قدر طلب سے نہیں ملتی; قدر حاصل کرنے کے لیے اس کا قابل بننا پڑتا ہے۔ ایک معلم کی قدر اس کے باقاعدہ کلاس لینے میں ہے۔ ایک معلم کی عزت خود ایک معلم کے ہاتھ میں ہوتا ہے، اور ایک معلم ہی اس گم شدہ وقار کو بحال کر سکتا ہے۔
آئیے! آج کے دن خود احتسابی کر لیتے ہیں کہ ہم معلمین بھی ہیں یا نہیں ۔ مجھے تو میری توقع سے زیادہ عزت اور میری اہلیت سے زیادہ اجرت ملتی ہے۔
تعلیم زندہ باد۔ معلم پایندہ باد


