افسانہ ”بلا عنوان“ پر ایک سرسری نظر

  بلوچستان میں افسانوی ادب اپنے جغرافیے، سماج اور آب و ہوا سے مکمل ہم مزاج اور مماثل ہونے کی وجہ سے ہم عصر ادب میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ کثیر اللسانی ہونے کے باوجود اس خطے نے نہ صرف مقامی ادب میں اپنی مقامیت کو محفوظ کیا ہے، بلکہ اردو ادب میں بھی بلوچستانیت کو قومی سطح پر خوب متعارف کرایا ہے۔ بلوچستانیت کی اس مہم میں ڈاکٹر ضیاء الرحمن ایک بڑا معتبر نام ہے، اور ان کے

Read more

راموز

اشاعت سے قبل اس رزمیہ نظم کا نام ”نئی آگ کا عہد نامہ“ تھا۔ یہ نظم اٹھارہ الواح (ابواب، فصل یا حصوں ) پر مشتمل ہے۔ راموز میں الواح کو ترتیب خالد احمد انصاری نے دی ہے اور مصوری دانش رضا نے کی ہے۔ اس نظم کی کئی الواح کے گم ہونے کے متعلق بھی افواہیں زیر گردش ہیں، مگر اس کی توثیق اب تک نہیں ہوئی ہے۔ تاہم، یہ متفقہ امر ہے کہ راموز ایک نامکمل نظم ہے۔ جون

Read more

ممتاز تاریخ دان ڈاکٹر مبارک علی کا مختصر تعارف

ڈاکٹر مبارک علی 21 اپریل 1941 کو ٹونک راجستھان کے محلہ امیر گنج میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان مغلوں کے دور میں پشین سے ہندستان آیا تھا، اور وہ ترین قبیلے کی شاخ طور ترین سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کا دادا اور دادا کا بھائی دونوں جے پور میں پولیس میں ملازم تھے۔ 18 ویں اور 19 ویں صدی میں جب سیاسی انتشار کی وجہ سے مغلوں کا زوال یقینی ہو گیا تو پٹھان فوجیوں کی مانگ بڑھ

Read more

کافر عشقم

کافر عشقم آغا گل کا تازہ ترین رومانوی ناولٹ ہے، جس میں ملک سے باہر کوئٹہ والوں کی پرخلوص محبت کی عکاسی کی گئی ہے۔ ناولٹ کا ہیرو ‏فرید اور ہیروئن ایک خوب صورت گوری لڑکی کینوی ہے۔ متوازی کرداروں میں داروخان، بلال، اشیش، آرعیا اور اوبون شامل ہیں۔ ‏ ناولٹ کا آغاز یوں ہوتا ہے کہ فرید کے بابا اور دادا اکبر خان کی خواہش ہے کہ اپنے اکلوتے وارث فرید کو بلوچستان میں جاری قتل و غارت، ‏دہشت

Read more

اوشو کی باتیں

اوشو (چندر موہن جین) مدھیہ پردیش میں 1931 کو پیدا ہوئے۔ وہ گرو رجنیش کے نام سے بھی مشہور ہیں۔ انھوں نے غیر معمولی بچپن، رنگین جوانی اور خطرات سے بھرپور فلسفیانہ زندگی گزاری۔ وہ کچھ عرصے تک سیکس گرو کے نام سے بھی مشہور رہے، مگر جلد ہی لاتعداد چیلوں نے ان کو بھگوان کا درجہ دے دیا۔ اوشو نے کئی دل چسپ کتابیں لکھی ہیں جن میں فلسفے کی بھرپور چاشنی پائی جاتی ہے۔ ان کی تحریروں میں

Read more

کمیونزم پر ایک سرسری نظر

  نوٹ: زیر نظر تحریر سبط حسن کی کتاب ’موسی سے مارکس تک‘ کا خلاصہ ہے۔ چھے دنوں کی بنی کائنات میں پہلے سماوی دنیا، پھر جمادات، نباتات، آبی جانور، خشکی کے جانور اور آخر میں انسان وجود میں آیا ہے۔ انسان اس سرزمین پر تقریباً 30 لاکھ برس سے آباد ہے۔ لامارک اور ڈارون کے نزدیک موسم، جغرافیائی ماحول، استعمال یا ترکِ استعمال سے اجسام میں عضوی تبدیلیاں واقع ہونے اور نئی نسلوں میں و راثتاً منتقل ہونے کی

Read more

فیض کی دنیا

فیض احمد فیض 1911 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ اپنی تعلیم گورنمنٹ کالج لاہور سے مکمل کی۔ وہ زمانہ طالب علمی ہی میں شعر کہنے لگے تھے۔ نقش فریادی، دست صبا، میرے دل میرے مسافر، وادی سینا اور نسخہ ہائے وفا ان کے مشہور شعری مجموعے ہیں۔ وہ غزل اور نظم دونوں اصناف سخن پر یکساں قدرت رکھتے تھے اور اپنے عہد کے نمایاں ترقی پسند شاعر تھے۔ عمر بھر جبر و استحصال اور ظلم و استبداد کے خلاف لکھتے

Read more

جدیدیت اور غالب: دانیال طریر کی نظر میں

مرزا اسد اللہ خان غالب کی شخصیت اور فن پر کئی ضخیم کتابیں لکھی گئی ہیں، مگر دانیال طریر کی کتاب ”جدیدیت، مابعد جدیدیت اور غالب“ تفہیم غالب کے سلسلے میں ایک نایاب اضافہ ہے۔ یہ کتاب کم و بیش 130 صفحات اور چھے مضامین پر مشتمل ہے۔ کتاب کی سادہ اور پرخلوص زبان سے اندازہ ہوتا ہے کہ دانیال طریر نے یہ کتاب طلبہ کے لیے لکھی ہے۔ غالب پر لکھی گئی اکثر کتابوں سے طلبہ اس لیے بھی

Read more

خدا مری نظم کیوں پڑھے گا؟

ادبی سفر کے دوران میں دانیال طریر نے میر سے رگوں کے اندر دہکتے شعلے بنانا، بانجھ آنکھوں سے اشک بہانا اور اپنی ذات کو فنا کر کے خود کو ریشم بنانا سیکھا۔ غالب سے ذات کی اہمیت، نظیر سے احترام آدمیت اور اقبال سے الفت محمد سیکھی۔ میرا جی کو جنگلوں میں میرا کی تلاش میں سرگرداں پایا، راشد کو انتقام میں جمالیات کا حظ اٹھاتے دیکھا، مجید امجد کو وقت کے بھید میں مقید پایا، منیر نیازی کو

Read more

قدیم ہندستانی سماج

نوٹ: زیر نظر تحریر سید سخی حسن نقوی کی کتاب ’ہمارا قدیم سماج‘ کا خلاصہ ہے۔ ہندستان کی سماجی تاریخ یورپ اور عرب دنیا سے نہ صرف کافی پرانی اور زرخیز رہی ہے بل کہ یورپ اور عرب کی سماجی ترقی بھی ہندستان کی مرہون منت ہے۔ وادی سندھ کی تہذیب سے لے کر مسلمانوں کی آمد تک ہندستان سماجی، سیاسی، مذہبی اور معاشی لحاظ سے معاصر دنیا کے لیے ایک مثال کی حیثیت رکھتا تھا۔ کائنات پہلے جمادات کی

Read more

اور پھر مجھے مارا گیا!

حسن اتفاق سے تین دوست عالم ارواح میں ملے اور یہاں آنے کی بابت ایک دوسرے سے پوچھنے لگے۔ پہلے دوست نے بتایا کہ وہ انتظار حسین کے ”شہر افسوس“ میں مرا تھا اور دوسرے دوست نے بتایا کہ وہ اصغر ندیم سید کے ”ایک اور شہر افسوس“ میں مرا تھا۔ تیسرے دوست نے اپنے بارے میں کچھ یوں بتایا: میں پہلے پھلوں کی ریڑھی لگاتا تھا۔ ہمیشہ باسی پھل مہنگے داموں فروخت کیا کرتا تھا۔ ایک دن مجھے علم

Read more

یہ افسانہ نہیں، بکواس ہے!

گیریژن ہال میں سامعین کو معروف افسانہ نگار میرن صاحب کے اسٹیج پر آنے اور ان کا افسانہ ”زندگی“ ان کی زبانی سننے کا شدید انتظار تھا۔ انتظار کی گھڑیاں ختم ہو گئیں اور میرن صاحب بڑی شان و شوکت سے اسٹیج پر نمودار ہوئے۔ میرن صاحب کو پہلے زبردست خراج عقیدت پیش کیا گیا اور پھر انھوں نے اپنا افسانہ سنانا شروع کیا۔ ”جیونی کے جنگل میں شیر نے ہرنوں کے ریوڑ کا تعاقب کیا۔ ریوڑ بھاگنے لگا۔ شیر

Read more

تانیثیت اور اردو تانیثی ادب

تانیثی ادب سے مراد وہ ادب ہے جس میں خواتین کے سیاسی، معاشی، معاشرتی و دیگر جملہ حقوق کے متعلق اظہار خیال کیا گیا ہو۔ تانیثی ادب کا آغاز سب سے پہلے مغرب میں انقلاب فرانس اور صنعتی انقلاب کے آنے سے ہوا۔ اٹھارہویں صدی میں خواتین کو ووٹ کا حق دیا گیا۔ 1790 میں ایڈمنڈ برک نے ایک کتاب A vindication of the right of men لکھی۔ جس کے جواب میں 1792 میں میری وول اسٹون کرافٹ نے A

Read more

عالم اسلام میں خرد افروزی کی ضرورت

زیر نظر تحریر سید علی عباس جلال پوری کے خرد افروزی پر مشتمل افکار کا خلاصہ ہے۔ مسلم عربوں کو اساطیر اور شاعری کے سوا کوئی فنی اور علمی روایت ورثے میں نہیں ملی تھی، کیوں کہ قبل اسلام کے عربوں میں پڑھنے لکھنے کا رواج بہت کم تھا۔ گنے چنے صحابہ کرام لکھ پڑھ سکتے تھے۔ قرطاس کا رواج فتح مصر کے ساتھ عام ہوگیا۔ اس سے پہلے چینی قرطاس کے استعمال سے واقف تھے۔ ابتدائی دور میں مسلمانوں

Read more

سفید چادر

بچپن میں ہم دونوں قاری ولی صاحب کے حجرے اور ماسٹر ریحان صاحب کے سکول میں اکٹھے پڑھتے تھے۔ ہمیں شرارت اور چھیڑ چھاڑ کرنے پر ہمیشہ مار بھی کھانی پڑتی تھی۔ اس نے جماعت پنجم کے بعد سکول کو خیر باد کہا، جب کہ میں نے میٹرک تک اپنا تعلیمی سلسلہ جاری رکھا۔ اس دوران میں اس کے محلے میں سر بلال سے انگلش سیکھنے کے بہانے روزانہ اس سے ملاقاتیں اور آنکھ مچولیاں جاری رہیں، مگر اس کی

Read more

ایک عورت ہزار دیوانے

"ایک عورت ہزار دیوانے” کرشن چندر کا ایک دل کش اور حقیقت پر مبنی ناول ہے۔ ناول کے تانے بانے کافی حد تک حقیقت اور تاریخ سے جا ملتے ہیں۔ اس ناول کا مرکزی کردار لاچی ہے، جو نہایت حسین، خوب رو، پراعتماد اور بہادر لڑکی ہے۔ بدقسمتی سے ماحول، قدرت اور اتفاق نے لاچی کو بھکارن بنایا ہے۔ "لاچی اگر بھکارن نہ ہوتی تو سیب کا پیڑ ہوتی، ہمالہ کی کنواری برف میں ڈھکی ہوئی چوٹی ہوتی یا زیر

Read more

مولانا عبد الخالق ابابکی مرحوم: بلوچستان میں علم و ادب کا روشن مینار

مولانا عبد الخالق ابابکی مستونگ کے شہر سلطان کاریز میں مولا بخش عالیزئی کے ہاں 1952 کو پیدا ہوئے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ سے سلسلہ نسب ملنے کی وجہ سے ان کے قبیلے کو ابابکی، صدیقی اور قریشی بھی کہا جاتا ہے۔ مولانا ابابکی نے 8 سال کی عمر میں حضرت مولانا عبداللہ سے مدرسہ شمس العلوم صدیق آباد میں قرآن، حدیث، فقہ، علم الصرف اور علم النحو سیکھنا شروع کیا۔ تعلیم و تعلم کے ساتھ ساتھ

Read more

بچپن کی یادیں اور عید مبارک ہو!

مسلم دنیا کے لیے عید منانا ایک نہایت خوشی کا تہوار ہوتا ہے۔ عید الفطر ہو یا عید البقر، بڑوں کے لیے یہ ایک اسلامی فریضے کی حیثیت رکھتی ہے، جب کہ بچوں کے لیے عیدین کے ایام یادگار اور مسحورکن لمحات ہوا کرتے ہیں۔ رمضان المبارک میں خاندان کے سربراہ اور عورتوں کی ذمہ داریاں کئی گنا بڑھ جاتی ہیں۔ ان کو روزہ رکھنے کے ساتھ ساتھ سحری اور افطار کے لیے دھوپ اور سردیوں میں روزی روٹی کمانا

Read more

ہوش ربا مہنگائی اور ہماری روزمرہ زندگی

جب ترسیلات زر، برآمدات اور ٹیکس وصولی میں کمی کی وجہ سے ملکی کرنسی کی قدر گھٹ جاتی ہے تو مہنگائی کا جن بے قابو ہوتا ہے، اور مہنگائی غریب عوام کی روزمرہ زندگی، معیشت اور نفسیات پر گہرے منفی نقوش چھوڑ جاتی ہے۔ مہنگائی کی وجہ سے ایک ملک بیرونی قرضوں کے دلدل میں پھنس کر اپنی خودمختاری کھو بیٹھتا ہے اور مقروض ملک کے عوام سیاسی بالغ نظری، معاشی خوش حالی اور تخلیقی صلاحیتوں سے محروم رہتے ہیں۔

Read more

مٹی کی دعا

سلیم حسنی بلوچستان کے ضلع بارکھان سے تعلق رکھتے ہیں اور پیشے کے لحاظ سے انگریزی لیکچرر ہیں۔ ”مٹی کی دعا“ ان کا پہلا اردو شعری مجموعہ ہے، جس میں چالیس نظمیں اور دس غزلیں ہیں۔ ڈگری کالج پشین میں وہ دو سال تک میرا کولیگ رہے، مگر پرتکلف اور گریزاں رہے۔ شاید وہ یہ خلا مٹی کی دعا سے پر کرنا چاہتے تھے۔ ان کی نظمیں ایک ایسی دیسی محبت کا نتیجہ ہیں جو ایک قابل برداشت حادثے سے

Read more

تاریخ اور عورت

 زیر نظر تحریر ڈاکٹر مبارک علی کی کتاب "تاریخ اور عورت” کا خلاصہ ہے۔ عورتوں کی بیشتر تاریخ مردوں نے لکھی ہے جس میں عورتوں کا کردار اور عمل ہمیشہ سے مردوں کا تابع رہا ہے۔ مردوں کی لکھی ہوئی تاریخ میں عورت یا تو مظلوم ہے یا منحوس۔ قدیم تہذیبوں سے ثابت ہوتا ہے کہ حجری دور میں مادرانہ نظام رائج تھا۔ عورت زمین جوتتی، اناج پیستی، روٹی پکاتی، لباس سیتی، برتن بناتی، مویشی پالتی، باغ بانی کرتی، لکڑیاں

Read more

نانی جان، اردو کوئی نہیں خریدتا!

کاروبار اگر چلے تو واہ، نہیں تو آہ۔ کاروبار سے مراد اپنا مال، موقف، خیال، علم اور رائے دوسروں پر بیچنا ہے۔ منافع بخش خرید و فروخت کے لیے ضروری ہے کہ مال، موقف، خیال اور علم معیاری ہو اور اس کی طلب بھی ہو۔ طلب اور رسد میں توازن ضروری ہے۔ خدانخواستہ اگر مال اور خیال کی رسد، طلب سے زیادہ ہو تو پیداوار اور پیداکار دونوں خسارے میں چلے جاتے ہیں۔ یوں اس طرح کے ممکنہ خسارے سے

Read more

پروفیسر برادری مشکل میں

صوبہ بلوچستان میں کالجوں کی کل تعداد تقریباً 135 ہے اور ان کالجوں میں پڑھانے والے پروفیسروں کی تعداد 3500 کے لگ بھگ ہے۔ اپنے حقوق، مفادات اور بقا کے لیے پروفیسر برادری کی اپنی ایک تنظیم ہے جو بلوچستان پروفیسرز اینڈ لکچررز ایسوسی ایشن، یعنی بی پی ایل اے کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ہر دو سال بعد بی پی ایل اے کے صاف شفاف انتخابات ہوتے ہیں اور اکتوبر 2022 کو بی پی ایل اے کے انتخابات

Read more

پاکستان کیوں نہ ٹوٹتا؟

بنگلادیش کی تخلیق نے سیاسی طور پر غیر ترقی یافتہ ممالک میں علاحدگی پسند رجحانات کو جلا بخشی۔ بنگلادیش کی آزادی اور اس کے مضمرات پر بہت کچھ لکھا گیا ہے، مگر ڈاکٹر صفدر محمود کی کتاب ”پاکستان کیوں ٹوٹا“ کسی حد تک 1947 سے 1971 تک کی سیاسی تاریخ کی بے لاگ اور غیر جانب دارانہ تحقیق ہے، جس میں اس المیے کی کئی وجوہات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس کتاب کے گہرے مطالعے کے بعد قاری بے

Read more

بد عنوانی طبقاتی تقسیم کا باعث بنتی ہے

اس حقیقت کا ہم سب کو بہ خوبی علم ہے کہ وطن عزیز روز اول سے کئی مہلک مسائل سے دوچار ہے، جن میں سے ایک اہم مسئلہ بد عنوانی ہے جو روز بہ روز سیاسی بے چینی، معاشی عدم استحکام، سماجی بد نظمی اور سب سے بڑھ کر طبقاتی تقسیم کا باعث بنتی جا رہی ہے۔ طبقاتی تقسیم کسی بھی ملک کے زوال اور تباہی میں آخری کیل ثابت ہو سکتی ہے۔ بدعنوانی دراصل ذاتی مفادات کے حصول کی

Read more

چمن کی بربادی کے لیے ایک الو کافی ہے

ایک نہر کے کنارے صدیوں سے باز اور کرگس اکٹھے پر امن رہا کرتے تھے۔ ان کا چمن سرسبز و شاداب تھا۔ ان کے چمن میں آبشاریں تھیں، ہریالی تھی، رنگ برنگے پھول تھے، ترش و لذیذ پھل تھے اور ہر سال وافر مقدار میں مینہ برستا تھا۔ کرگس گرچہ تعداد میں زیادہ تھے مگر چمن کا انتظام و انصرام باز کے ہاتھوں میں تھا اور کرگس بھی شکایت نہ کرتے تھے۔ باز اصولوں کا پکا تھا۔ وہ ہنس، ہدہد،

Read more

علم کی افادیت اور استاد کا مقام

عدم سے وجود، نیچر سے کلچر، اور بندہ سے خدا تک کے فاصلے کو ماپنے کے لیے کئی ذرائع بروئے کار لائے جاتے ہیں۔ عام زبان میں ان فاصلوں کو ”لا“ اور ذرائع کو ”علوم“ کہا جاتا ہے۔ یعنی لا کی فہم کو علم کہا جاتا ہے۔ علم اور معلومات میں بہت نازک سا فرق پایا جاتا ہے۔ علم میں جاننے والا اور جانی گئی شے ایک وحدت میں پروئے جاتے ہیں، جب کہ معلومات میں جاننے والا اور جانی

Read more

حمیدہ شاہین: صنفی مساوات کی علم بردار شاعرہ

26 جنوری، 1963 کو سرگودھا میں پیدا ہونے والی حمیدہ شاہین ایک ایسی شاعرہ ہے جس کی شاعری میں مرد حضرات آئینے کی طرح اپنے حرکات و سکنات اور اعمال و افکار کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ صنف نازک پر عموماً مردوں کی ایسی اجارہ داری رہی ہے جس میں ان کو کھیتی باڑی یا دیگر پیداواری ذرائع سے زیادہ اہمیت نہیں دی گئی۔ غزل نے بھی نسوانی اعضاء اور جسمانی حسن کو اتنی شد و مد سے ابھارا کہ

Read more

بلوچستان کے اساتذہ 20 ایام سے بھوک ہڑتال پر

بلوچستان کے معمر، سفید ریش اور معزز اساتذہ اپنے جائز حقوق کے حصول کے لیے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے 15 جولائی سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں اور حکومت بلوچستان کی جانب سے اب تک کوئی سنجیدہ اور قابل ذکر پیش رفت دیکھنے کو نہیں ملی ہے، جس پر صرف افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔ اساتذہ معاشرے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ کسی بھی ریاست کی بقا کا انحصار بنیادی طور پر اساتذہ ہی پر

Read more

مون سون بارشیں، تباہ کن سیلاب اور ناقص بند

پاکستان بالعموم اور بلوچستان بالخصوص ان دنوں تیز مون سونی بارشوں سے جنم لینے والے شتر بے مہار سیلابوں کی زد میں ہے، جس سے تاحال ناقابل تلافی جانی اور مالی نقصان ہوا ہے۔ اگرچہ نیشنل اور پروانشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی نے عوام الناس کو پیشگی مطلع کیا تھا مگر ناقابل انتقال ا املاک (گھر، باغ، دکان، ٹیوب ویل، سڑک، پل وغیرہ) کو محدود آمدن اور محدود وقت میں قدرتی آفات سے بچانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ علاقے

Read more

زبان کیا ہے اور اردو کا تشکیلی سفر کیسا رہا؟

لغت کے اعتبار سے زبان منہ کے اندر کا وہ عضو ہے جس میں قوت ذائقہ ہوتی ہے اور بہ طور آلہ نطق استعمال کی جاتی ہے۔ یہ فارسی زبان کا لفظ ہے اور اردو میں بہ طور اسم مستعمل ہے۔ اس کے ذریعے انسان تکلم یا تحریر کی صورت میں اپنے خیالات اور جذبات کا اظہار کرتا ہے۔ ایبنگ ہاؤس کے مطابق زبان روایتی علامتوں کا ایک نظام ہے جو کسی بھی وقت اختیاری طور پر مسلمات کے تحت

Read more

قرآن کا سائنسی مطالعہ

اسلام اور سائنس یا قرآن اور سائنس جیسے موضوعات پر بہت کچھ لکھا گیا ہے اور بہت سے قرآنی حقائق ابھی تک انسانی چشم سے دبیز پردوں میں پنہاں ہیں، جو تدریجا بہ مرور زمانہ وا ہوتے جائیں گے۔ میرا سائنسی مطالعہ بالعموم اور قرآن کا سائنسی مطالعہ بالخصوص لامتناہی طور پر محدود ہے۔ میرے جیسے دیگر کئی جاہل مطلق لوگوں کے لیے یہ حقیقت بھی کسی فسانے سے کم نہیں ہوگی کہ قرآن کا سائنسی مطالعہ بھی وجود رکھتا

Read more

یعقوب شاہ غرشین کی افسانہ نگاری

  یعقوب شاہ غرشین 1964 ء کو ضلع پشین میں پیدا ہوئے۔ وہ اردو اور پشتو دونوں میں لکھتے ہیں۔ افسانے، رپورتاژ، اور سفرنامے لکھنے کے ساتھ ساتھ شاعری میں بھی مشق سخن کرتے ہیں۔ زیر نظر تحریر میں موصوف کے افسانوی مجموعے ”بازگیر“ پر ایک اجمالی نظر ڈالی گئی ہے۔ بازیگر میں کل 14 افسانے ہیں۔ اکثر افسانوی کرداروں اور موضوعات کو پاکستانی اور پشتون معاشرے سے مستعار لیا گیا ہے۔ افسانہ نگار نے جو کچھ دیکھا ہے، وہی

Read more

دل زار! اب یہاں کوئی نہیں آئے گا!

زینہ زینہ اتری شب انتظار گزر گئی ہے۔ داغ داغ اجالا اور شب گزیدہ سحر ہے۔ دبی دبی سی تھکن اور سبک سبک سی تمنا ہے۔ دیار حسن کی بے صبر خواب گاہوں سے حسینہ نور جوان لہو کو پکارتی ہے کہ آ کے اہل درد کا دستور بدل ڈالیں۔ نشاط وصل حلال کریں اور عذاب ہجر حرام کریں۔ فراق ظلمت و نور عام کریں اور وصال منزل و گام کی پرچار کریں۔ کوئے ملامت سے صدا آتی ہے :

Read more

اب اسرافیل بے روزگار نہیں ہوگا

آج شہر در شہر اک نئے ہنگامے میں جان آئی ہے کہ بے صدا صبح پھر لوٹ آئے گی۔ روحیں پریشانی آلام سے دہک اٹھیں گی۔ آوازوں کے پیروں میں زنجیروں کا جھنکار ہو گا۔ بجھتی شمعوں سے دھواں اٹھے گا، اور بے پناہ خوف میں رویائے شکستہ کی فغاں اٹھے گی۔ شاید اسی رات اور اسی شام ہی یہ عفریت دروازے پر دستک دے گا، کہ اس پیڑ پر بوم کا سایہ ہے۔ اس پیڑ پر پہلے بھی بوم

Read more

"ہیرا منڈی” اور پیاسی آتماٸیں

سرما کی برفیلی رت میں ایک ادب پسند قاری کو کلاڈین لی ٹرنر کے ناول ”ہیرا منڈی“ پڑھنے سے جو لطف ملتا ہے وہ شاید کسی اور مادی سہولت کے ملنے سے نہ مل سکے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ صفدر سحر نے اس ناول کا اردو ترجمہ کر کے خواص کے ساتھ ساتھ عوام کے لیے بھی ذہنی تفریح کا سامان فراہم کیا ہے۔ اس ناول کے مرکزی کردار شاہنواز، نسیم اور لیلا ہیں۔ متوازی کردار جعفر، آصف

Read more

"جنت کی تلاش” سے حقیقت کی تلاش تک

جب کوئی شخص اپنی ساری عمر نگینے جیسی ناک، بچوں جیسی حیران آنکھیں، شانوں پر پریشان خوب صورت سیاہ بال، مرمریں گردن، عمودی لائنوں والے انگوری ہونٹ اور سرخ و سفید قیمتی لباس میں لپٹی ہوئی حسین اور موت سے نہ ڈرنے والی جوان عورت کی تلاش میں مانسہرہ، دریائے سرن، آزاد کشمیر، ہنہ جھیل، زیارت، بالاکوٹ، کاغان، ناران، جھیل سیف الملوک، گلگت، دیوسائی، اور نلتر کے جھمیلے جھمیلے سبزہ زاروں، اونچے اونچے پہاڑوں، یخ بستہ ہواؤں، اور مسحورکن پانیوں

Read more

میکیاولی ہپ ہپ، میکیاولیت تھو تھو

سیاست کی دنیا میں میکیاولیت کسی تشریح کا محتاج نہیں۔ دراصل میکیاولیت سے مراد میکیاولی کے چند سیاسی نظریات ہیں جو اس کی کتاب ”“ بادشاہ ” (The Prince) میں تفصیل سے درج ہیں۔ انھوں نے بعد میں اپنی اس کتاب کو اطالوی بادشاہ“ لورنز دی پیرودے ”کو تحفے میں دی تھی۔ نکولو میکیاولی 1469 کو اٹلی کے شہر فلورنس میں پیدا ہوئے۔ محرر، معتمد اور سفیر رہے۔ 1500 میں فرانس، روم اور جرمنی کے دورے کیے۔ ناول، نظمیں اور

Read more

افلاطون کی مثالی ریاست: کچھ خیالی، کچھ حقیقت

سپارٹا کے ہاتھوں ایتھنز کی شکست، جمہوریت پسندوں کے ہاتھوں سقراط کی عدالتی موت، سو فسطائیوں کی علم فروشی، مگارا، قیروان، اور سسلی کی طرف ہجرت اور انسیاس کے ہاتھوں فروخت اور آزاد ہونا جیسے واقعات نے افلاطون کی زندگی میں ایک طوفان برپا کیا تھا، جو ”الجمہوریہ“ اور ”ریاست“ پر منتج ہوا۔ سسلی سے واپسی پر افلاطون نے ایتھنز میں 387، ق۔ م میں Platonic Academy کے نام سے ریاضی، قانون، فلسفہ، منطق، سائنس اور سیاسی نظریات سکھانے کے

Read more

سقراط کی کہانی، افلاطون کی زبانی

یہ تقریباً سات سو مربع میل اور ساڑھے تین لاکھ نفوس پر مشتمل، یورپ کی تاریخ میں پہلی جمہوری ریاست ایتھنز میں رونما ہو نے والے اس المیے کی کہانی ہے جس میں سقراط کو زہر کا پیالہ پینے پر مجبور کیا گیا۔ یہ 399 ق م کا عہد ہے جب سقراط اپنی زندگی کی ستر بہاریں دیکھ چکا تھا۔ ایتھنز پر پیلو پونیشی جنگ اور بدنام زمانہ تیس عمائد کی حکومت کے خاتمے کے بعد جمہوریت کے دوبارہ لوٹ

Read more

5 اکتوبر: اساتذہ خود احتسابی کا دن

دنیا میں تمام انسان دوست پیشے اور پیشہ ور محنت کش قابل احترام ہوتے ہیں ; جب کہ تعلیم اور استاد کا مقام اس لیے اعلی اور افضل تسلیم کیا گیا ہے کہ یہ باقی تمام شعبۂ ہائے زندگی کو دوام دیے رکھتا ہے اور نسل انسانی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ کائنات کو امن، خوش حالی اور ترقی کا گہوارہ بنا سکے۔

Read more