آٹھ اکتوبر دو ہزار پانچ جب زلزلے نے کشمیر میں قیامت برپا کر دی



رمضان کا مہینہ تھا اور ہفتے کا دن۔ ہم اسلام آباد کے ایک ہاسٹل میں رہائش پذیر تھے۔ ہمیں ہفتے والے دن چھٹی ہوا کرتی تھی اس لیے اٹھنے کی کوئی جلدی تو تھی نہیں۔ نہ سکول جانا تھا اور نہ ہی ناشتے کی کوئی فکر تھی کہ سحری کر کے روزہ رکھ چکے تھے۔ اس لیے ابھی تک بستر پہ دراز سستی اتار رہے تھے۔ گھڑی پہ آٹھ بج کر باون منٹ ہوئے تھے جب اچانک سکون سے سوتے احتشام کی آواز گونجی کہ ”بستر نہ ہلاؤ یار“

ہم تین چار لڑکے کمرے میں موجود تھے، ہم میں سے ایک نے جواب دیا کہ بستر تو کوئی نہیں ہلا رہا۔
احتشام نے آنکھیں کھولیں اور بستر سے ایک دم چھلانگ لگا کر بولا ”زلزلہ ہے باہر نکلو“

اتنی دیر میں ہم بھی ہلتی ہوئی زمین کی جنبش کو محسوس کرنے لگ گئے تھے۔ ہم باہر بھاگے اور مکمل سکوت میں ڈوبے ہاسٹل میں ایک دم جیسے بھونچال آ گیا۔ سب لڑکے کمروں سے نکل کر باہر کی طرف بھاگ رہے تھے۔

اس ہاسٹل میں ہم لڑکوں کو ڈرائینگ روم سے باہر نکل کر کھلی فضا میں جانے کی اجازت نہیں تھی لیکن دیواریں ایسے لرز رہی تھیں کہ ہم سب بلا سوچے سمجھے بھاگتے ہوئے ہاسٹل سے باہر نکل گئے۔

زلزلہ اتنا شدید تھا کہ لگ رہا تھا ہاسٹل کی عمارت ابھی زمیں بوس ہو جائے گی اور باہر گیراج میں کھڑی بس جھومتی ہوئی ایک طرف الٹنے کو تیار تھی۔

کچھ لڑکے چیخیں مار رہے تھے اور کچھ اونچی اونچی کلمے درود کا ورد کرنے میں مصروف تھے۔

کچھ دیر تک زمیں ہلتی رہی اور ہم سب دم سادھے کھلے آسماں تلے کھڑے رہے۔ پھر زمیں کی جنبش رکی تو آہستہ آہستہ سب واپس ہاسٹل کے اندر چلے گئے لیکن ابھی اندر جا کے بستر پہ بیٹھے ہی تھے کہ پھر سے زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوئے، دوبارہ سے دوڑ لگی اور ہم سب باہر نکل گئے۔

اب کی بار ہم نے واپس آنے کی جلدی نہیں کی لیکن جب واپس آئے تب بھی دھیان زمین کی جنبش پہ ہی تھا۔ جیسے ہی ہلکا سا جھٹکا محسوس ہوتا ہم سب ہاسٹل سے باہر نکل جاتے۔

پھر تو یہ سلسلہ سارا دن چلتا رہا کبھی ہم باہر دوڑ لگاتے اور کبھی ڈرتے ڈرتے واپس اندر آتے۔

کچھ دیر بعد ہی خبروں سے پتا چل گیا کہ ہمارے قریب ہی ایک بلند عمارت زمیں بوس ہو گئی ہے اور بہت سے لوگ ملبے تلے دب چکے ہیں۔ نقصان کا حتمی اندازہ نہیں ہو پا رہا تھا کسی کو۔ سارا دن ایسے ہی پریشان پریشان سا گزر گیا، کچھ بھی ہلتا تو سب کے دل لرز جاتے۔

ہمارے ہاسٹل کے کچن کا انتظام کشمیر کے کچھ لوگوں نے سنبھالا ہوا تھا، شام تک ان سب کی پریشانی عروج پہ پہنچ چکی تھی کیونکہ ان میں سے کسی کا اپنے گھر رابطہ نہیں ہو رہا تھا۔

شام کے کچھ دیر بعد آسمان کا رنگ سرخ ہوا اور آندھی آ گئی۔ ہم سب باہر پریشان چہروں کے ساتھ کھلے آسمان تلے کھڑے تھے جب سرخ آندھی نے عجیب خوفناک ماحول پیدا کر دیا تھا۔ ایسی سرخ آندھی پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی یا شاید دیکھ کر ایسی شدت کبھی محسوس نہ کی ہو۔ اس خوفناک ماحول کو مزید تڑکا وہ گاڑیاں لگا رہی تھیں جو بار بار اعلان کرتے ہوئے گزر رہی تھیں کہ کسی کھلی جگہ پہ رہیں آج رات کوئی عمارتوں کے اندر نہ جائے کیونکہ کسی بھی وقت دوبارہ زلزلہ آ سکتا ہے۔

کچھ دیر بعد آندھی کے ساتھ موسلا دھار بارش بھی شروع ہو گئی، ہم سب گیراج میں دیوار کے ساتھ جا لگے تاکہ بھیگنے سے بچے رہیں۔

مگر زور دار ہوا بارش کے چھینٹے اڑا اڑا کر لا رہی تھی، کچھ ہی دیر میں ہم سب سردی سے کپکپا رہے تھے لیکن ہاسٹل کے اندر جانے کو کوئی تیار نہیں تھا۔ کچھ دیر ایسے ہی گزری اور پھر سردی عمیر کی برداشت سے باہر ہوئی تو وہ مجھے ساتھ لے کر اندر گیا اور ڈرتے ڈرتے جیکٹ لے آیا۔ کافی دیر تک یہ سب سہنے کے بعد ہم ہاسٹل کے اندر گئے اور سب وہیں ڈرائنگ روم میں لیٹ گئے۔ کوئی کمروں میں جانے کو تیار نہیں تھا۔ رات کٹتی جا رہی تھی مگر نیند کسی کی آنکھوں میں نہیں تھی۔

اس دن اندازہ ہوا تھا قیامت کی شام کسے کہتے ہیں۔

یہ دن تھا آٹھ اکتوبر دو ہزار پانچ کا، جب زلزلے نے کشمیر میں قیامت برپا کر دی تھی اور ملک کے اکثر حصوں میں لوگوں کو لرزا کے رکھ دیا تھا۔ آج اس شام کو گزرے سولہ سال ہو گئے ہیں۔

اللہ سب کو ایسی آفات سے بچا کر رکھے (آمین)

Facebook Comments HS