مفتی، مرزا تنازع۔ غلطی کہاں ہوئی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سورۃ لہب 618 میں نازل ہوئی۔ اس سورۃ میں اللہ پاک نے ابو لہب اور اس کی بیوی کے جہنم جانے اور برے عذاب کی پیشین گوئی فرما دی۔ ابو لہب کی وفات تقریباً 625 میں ہوئی یعنی اس سورۃ کے اترنے کے تقریباً 7 سال بعد تک زندہ رہا۔ اسلام کو غلط یا جھوٹا ثابت ثابت کرنے کا کوئی موقع ابو لہب، اس کی بیوی اور حواریوں نے ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ اس سورت کے نزول کے بعد اس گروہ کے پاس بڑا زبردست موقع تھا کہ ابو لہب اور اس کی بیوی نبی کریم کے پاس جاتے، اپنے کیے کی معافی مانگتے، اسلام قبول کرتے اور نبی کریم نبی کے صحابی بن کر رہنے لگتے۔

ان کے باقی ساتھی بڑے آرام سے کہہ سکتے تھے کہ حضور، آپ کے خدا نے تو ابو لہب کے جہنمی ہونے کی پیشین گوئی کر دی لیکن وہ تو اپنی بیوی سمیت مسلمان ہو گیا اور یوں قرآن کا مستند ہونے پر ایک سوالیہ نشان جاتا لیکن ایسا کبھی نہ ہو سکا کیوں کہ دعویٰ کرنے والی اور تقدیر کا فیصلہ کرنے والی اللہ کی ذات تھی۔ اللہ، جو ذہنوں اور دلوں دونوں کا مالک ہے۔

آدمی کا اس دنیا میں جس انسان پر 100 ٪ کنٹرول ہے وہ صرف اور صرف اس کی اپنی ذات ہے۔ کوئی بھی دعویٰ جس میں کوئی دوسری ذات یا عوامل شامل ہوں وہ دعویٰ نہیں بیوقوفی ہے۔

رے بنجمن نے ٹوکیو اولمپکس میں اس دعوے کے ساتھ حصہ لیا کہ وہ نہ صرف یہ مقابلہ جیتے گا بلکہ ورلڈ ریکارڈ بھی توڑے گا۔ اب دعوے کے دو حصے ہیں یعنی ورلڈ ریکارڈ بنانا اور مقابلہ جیتنا۔ اب بنجمن کے پاس پہلے سے بنا ریکارڈ موجود تھا اور اس نے پریکٹس کی، اپنے آپ کو بہتر کیا اور اس کی بنیاد پر یہ دعویٰ کر دیا جس کی سینس بنتی ہے۔ لیکن اس کے دعوے کا دوسرا حصہ کہ مقابلہ بھی جیتے گا بڑا مضحکہ خیز تھا کیونکہ اس میں دوسرے بہت سے اور بھی اتھلیٹکس حصہ لے رہے تھے جن کی کارکردگی اور استعداد پر اس کا کوئی کنٹرول نہیں تھا۔ اور ہوا بھی یہی کہ بنجمن نے پرانا ریکارڈ 0.6 سیکنڈ سے بہتر بنا لیا لیکن ساتھ ہی ناروے کے کرسٹن سے مقابلہ 0.76 کے فرق سے ہار گیا۔

انجینئر محمد علی مرزا نے سب سے پہلے سوشل میڈیا کو استعمال کیا۔ ان کے تمام لیکچرز کا بنیادی ماخذ مختلف فرقوں میں پائے جانے والے سقم اور غلطیوں کو عوام کے سامنے لانا تھا۔ جب ایک فرقے کی غلطیاں بتاتے تو دوسرے فرقے کے لوگوں سے داد پاتے، مذہب کا کم علم رکھنے والے لوگ جو اپنے اپنے فرقوں کے پرچار کرنے والے مولویوں سے تنگ تھے بڑی تیزی سے علی مرزا کی طرف متوجہ ہوئے۔ جتنی دیر میں مذہبی حلقوں کو سمجھ آتی انجینئر کی بات سننے والوں کا حلقہ توقع سے بھی زیادہ وسیع ہو چکا تھا۔

مرزا ایک بیان کی وڈیو اپلوڈ کرتے تو تمام فرقوں کے درجہ دوئم کے مولوی رد میں ایک وڈیو جاری کر دیتے جو درحقیقت مرزا کی پاپولیریٹی کو اور بڑھاوا دیتیں۔ اس کے بعد جب معاملہ ان لوگوں کے ہاتھ سے نکل گیا ہر فرقے کے ٹاپ لیول کے علماء  نے منبر پر مرزا کے خلاف دشام اندازی شروع کر دی لیکن علمی جواب پھر بھی نہ بن پائے اور کیونکہ مرزا تمام مواد انہیں کی کتابوں سے نکال کر لاتا جسے رد کرنا ممکن نہ تھا۔ اس چیز  نے مرزا کا حوصلہ بڑھا دیا اور اس کے بیانات مزید سے مزید سخت ہوتے گئے۔ کچھ عرصہ پہلے کراچی کے ایک مفتی نے مرزا کو مناظرے کا چیلنج دیا۔ اس کا جو جواب مرزا نے دیا پہلے وہ دیکھتے ہیں۔

”یہ کبھی نہیں آئیں گے بلکہ ان کے بڑے بھی نہیں آئیں گے، ان کے پاس قیامت تک کا وقت ہے۔ میں ان کو چیلنج کرتا ہوں اور یہ اس کے باوجود نہیں آئیں گے اور یہی میری کرامت ہو گی۔“

اب اس دعویٰ کو دیکھیں تو مرزا ان معاملات پر دعویٰ کر رہا ہے جن پر اس کا کنٹرول ہی نہیں ہے کیونکہ مفتی صاحب کے دماغ اور افعال کو مرزا کنٹرول نہیں کرتے اور ہوا بھی یہی کہ مفتی صاحب جہلم پہنچ گئے۔ اس بات سے قطع نظر کہ ملاقات ہوئی یا نہیں مفتی صاحب کا آنا ہی مرزا کی کریڈبیلیٹی کو صفر کر گیا ہے۔ حیرت ہے اتنا دین پڑھنے اور سمجھنے کے باوجود اتنی بنیادی غلطی؟

جب مقابل کوئی نہ ہو تو حواس قابو رکھنا ہی اصل بات ہے۔ ایک بار پھر، کوئی بھی ایسا معاملہ جس میں ایسے بیرونی فیکٹریز شامل ہوں جن پر آپ کا کنٹرول نہ ہو ان پر دعویٰ انتہائی جذباتی اور بیوقوفانہ عمل ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments