انتخابی اصلاحات ناگزیر!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جمہوریت ایک ایسا طرز حکومت ہے جس میں کسی ریاست کے بالغ افراد بغیر کسی دباؤ اور استحصال کے اپنے حق رائے دہی کو استعمال کرتے ہوئے بالواسطہ یا بلاواسطہ اپنی حکومت کو منتخب کرتے ہیں۔ آج کی جدید جمہوری ریاست میں ریاست کے تمام شہری بلا امتیاز رنگ، نسل، جنس و مذہب کے برابر کے شہری ہیں۔ ہر وہ نظام جس میں عوام خود کو۔ ”سٹیک ہولڈر“ محسوس کریں وہ کامیاب ترین نظام سمجھا جاتا ہے اور ان کی ترقی کا تناسب دوسرے ممالک کی نسبت بہت زیادہ ہے۔

ارض پاک میں بھی کہنے کی حد تک جمہوری نظام حکومت ہے اور ہم نے اپنے تئیں کوشش کی ہے کہ ہم برطانوی پارلیمانی نظام یہاں رائج کریں لیکن یہاں پر برطانوی پارلیمانی نظام عوام کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ اب اس کی کیا وجوہات ہیں کہ یہ نظام عوام کا اعتماد کیوں حاصل نہ کر سکا ذیل میں ان وجوہات پر گفتگو کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ان کے ممکنہ حل کی اپنے تئیں کاوش کرتے ہیں۔

برطانوی پارلیمانی نظام کی کامیابی کی سب سے اہم وجہ میری نظر میں یہ ہے وہاں پر دارالخواص اور دارالعوام الگ الگ ہیں دارالخواص کے ممبران کا انتخاب عوام نہیں کرتے جبکہ دارالعوام کا انتخاب عوام کرتے ہیں ملک کے بڑے بڑے جاگیردار اور ایلیٹ چوں کہ دار الخواص میں پہلے سے ہی موجود ہوتی ہے اس لیے دارالعوام کے ممبران اکثریت پروفیشنلز اور مڈل کلاس کے لوگوں پر مشتمل ہوتی ہے جس سے عوام کی اکثریت کی نمائندگی پارلیمنٹ میں ہوتی ہے اور کم و بیش معاشرے کے ہر طبقے کی نمائندگی پارلیمنٹ میں ہوتی ہے اور اس کی وجہ سے عوام ان کا انتخاب کرتے ہوئے بھی آزادی محسوس کرتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ جن نمائندوں کا انتخاب کر رہے ہیں وہ ان ہی میں سے ہیں اور ان جیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں اور وہ بہتر طور پر ان کے مسائل پر آواز اٹھا سکتے ہیں اور ان کے حل کے لئے پالیسی بنا سکتے ہیں۔

جبکہ پاکستان میں اگر ہم جائزہ لیں کہ پارلیمنٹ کے ایوانوں میں بیٹھی شخصیات کی واضح اکثریت ان ہی خاندانوں پر مشتمل ہے جو قیام پاکستان سے پہلے بھی۔ ”حکمران طبقہ“ سے ہی تعلق رکھتے تھے۔ اور ہمارے نظام انتخاب نے پیشہ ور کاروباری افراد اور پڑھے لکھے افراد کے لیے کوئی ایسے مواقع فراہم ہی نہیں کیے کہ وہ پارلیمنٹ کے ایوانوں میں پہنچ سکیں جس کی وجہ سے عوام کی اکثریت یا تو انتخابی عمل سے دور رہتی ہے یا پھر گلیوں نالیوں جیسے مسائل کو دیکھ کر ووٹ دیتے ہیں اب ایسی صورت میں ان کا اعتماد یقینی طور پر ریاستی اداروں پر نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور جمہوریت کمزور بنیادوں پر کھڑی ہوتی جس کی وجہ سے سیاسی گروہ جو کہ سیاسی جماعتیں بننے کے عمل سے گزر رہے ہوتے ہیں وہ چند گھرانوں کی سپورٹ لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں کیوں کہ ان گھرانوں نے حلقہ بندیوں پر مبنی نظام انتخاب میں اپنا پورا نیٹ ورک بنایا ہوتا ہے اور عملی طور پر کوئی بھی سیاسی جماعت اس حلقے کی حد تک ان گھرانوں کی کنٹرول میں چلی جاتی ہے۔

جب تک ہمارا نظام انتخاب زیادہ سے زیادہ پیشہ ور اور پڑھے لکھے افراد کو پارلیمنٹ کے ایوانوں تک نہیں پہنچاتا تب تک عوام۔ ”سٹیک ہولڈر“ نہیں بنیں گے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیسے ہم اس اہم اور مشکل ٹارگٹ کو حاصل کر سکتے ہیں؟ میری نظر میں تو پاکستان کے لئے سب سے بہترین نظام انتخاب متناسب نمائندگی نظام انتخاب پر مبنی پارلیمانی نظام انتخاب ہے لیکن چوں کہ اس کے لیے ایک بہت بڑی تحریک کی ضرورت ہے جس کی ملک کی موجودہ پارلیمان اور سیاسی جماعتوں سے توقع رکھنا خام خیالی ہے متناسب نمائندگی نظام انتخاب کے فوائد اور اس کے لائحہ عمل پر ہم کسی اور تحریر پر گفتگو کریں گے اب زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اور قابل عمل انتخابی اصلاحات کی ہم بات کرتے ہیں۔

سب سے پہلے تو ہم بات کرتے ہیں ملک کے بیرون ملک مقیم پاکستانی ووٹرز کی جن کی تعداد ایک اندازے کے مطابق 80 لاکھ کے قریب ہے ان کو حق رائے دہی  ملنے کے بعد سے الیکشن کمیشن ابھی تک ان کے لئے کوئی ایسا لائحہ عمل بنانے میں ناکام رہا ہے اب اسے الیکشن کمیشن کی نا اہلی کہیں یا بدنیتی لیکن دونوں میں سے کوئی ایک وجہ ضرور ہے جو اتنی بڑی تعداد کو ووٹ ڈالنے کے حق سے محروم رکھا گیا ہے یاد رہے یہ وہی پاکستانی ہیں جو ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچائے ہوئے ہیں اور پاکستان کی کل برآمدات سے بھی زیادہ ملک میں زرمبادلہ بھیج رہے ہیں لیکن پھر بھی ریاست پاکستان ان کے ساتھ دوسرے درجے کے شہریوں جیسا سلوک کر رہی ہے نہ جانے کیوں اپنے اس اثاثے کو محروم کیے ہوئے ہیں۔

تحریک انصاف جب اپوزیشن میں تھی تو اس مسئلے کو سپریم کورٹ لے گئی تھی مگر اب چوں کہ حکومت میں ہے تو اس کی وہ دلچسپی نظر نہیں آتی جو اپوزیشن میں تھی۔ قصہ مختصر کہ ہمیں ہر صورت سمندر پار پاکستانیوں کو حق رائے دہی فراہم کر کے ان کا اعتماد حاصل کرنا ہو گا تا کہ جمہوریت اور نظام انتخاب مضبوط ہوں۔ حلقہ بندیوں میں اضافہ! آخری بار جب ملک میں بلاواسطہ منتخب ہونے والے ممبران کی تعداد میں اضافہ کیا گیا اس وقت ملک میں کل ووٹرز کی تعداد 7 کروڑ سے بھی کم تھی اور حلقہ بندیوں کی تعداد 272 کی گئی مگر آج کی تاریخ میں 11 کروڑ 82 لاکھ ووٹر ہوچکے ہیں مگر حلقہ بندیوں میں کسی قسم کا اضافہ نہیں ہوا اور کم و بیش 20 سال کا عرصہ گزر چکا ہے مگر حلقہ بندیوں میں اضافہ نہ کر کے چند گھرانوں کی اجارہ داری کو برقرار رکھا گیا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی اسمبلی کے حلقوں میں کم از کم 60 مزید حلقوں کا اضافہ کیا جائے تاکہ مزید لوگ سسٹم میں ایڈ ہوں اور وہ خود کو سٹیک ہولڈر محسوس کریں اور اسی طرح صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں بھی اضافہ کیا جائے، ایک اور اہم معاملہ جس کی جانب توجہ مبذول کروانا چاہتا ہوں وہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ہے سیاسی جماعتوں کے پاس اپنے کارکنان کی سیاسی تربیت اور ان کی قائدانہ تربیت کرنے کا بہترین موقع بلدیاتی انتخابات ہوتے ہیں مگر سیاسی جماعتیں ایسا کرنے سے کتراتی ہیں موجودہ حکومت نے اب تک جو پنجاب کا بلدیاتی ایکٹ پاس کیا ہے وہ نہایت حوصلہ افزا ہے اور اگر تحریک انصاف اس پر عملدرآمد کروانے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو یہ تاریخی عمل ہو گا اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی میں ایک سنگ میل ثابت ہو گا بلدیاتی انتخابات کے ذریعے تحصیل اور ٹاؤن میئرز کی صورت میں نئی قیادت سامنے آئے گی اور زیادہ سے زیادہ افراد سسٹم میں خود کو ”سٹیک ہولڈر“ محسوس کریں گے جو کہ جمہوری رویوں اور جمہوریت کی مضبوطی میں اہم کردار ادا کریں گے۔

ضرورت اس امر کی ہے اگلے انتخابات سے پہلے کم از کم حلقہ بندیوں میں مناسب اضافہ کیا جائے۔ سمندر پار پاکستانیوں کے حق رائے دہی بندوبست کیا جائے اور ایک ایسا نظام وضع کیا جائے جس پر تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد ہو اور دھاندلی کا شور پیٹ کر انتخابات کو متنازع بنا دیا جاتا ہے اس پر قابو پایا جا سکے۔ جہاں پورے ملک کے نظام میں اصلاحات وقت کا تقاضا ہیں اسی طرح انتخابی اصلاحات بھی تقاضا ہیں ادارہ جاتی اصلاحات، معاشی اصلاحات اور آئینی اصلاحات پر اپنی اگلی تحریروں میں اپنی گزارشات پیش کروں گا۔

Latest posts by زاہد محمود، بحریہ ٹاؤن، راولپنڈی (see all)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

زاہد محمود، بحریہ ٹاؤن، راولپنڈی کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments