حکومت نیب کے ترمیمی آرڈیننس کو کیسے نافذ کر سکتی ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بہت واضح تھا کہ 18، اکتوبر 2021 کو اپنے عہدے کی میعاد پوری ہونے پر چیئرمین نیب سبکدوش کو سبکدوش ہونا ہے، اور نئے چیئرمین کی تقرری کا طریقہ کار قانون اور نیب آرڈیننس میں بہت واضح تھا لیکن حکومت نے نرالی منطق ایجاد کر کے قائد حزب اختلاف کے آئینی عہدے کو شخصی بنا دیا۔ انا پسندی اور مکالمہ سے انحراف کی ذہنی کجی و نفسیاتی الجھن نے مشاورت سے گریز یائی اپنائی تو دلیل ”ملزم“ سے مشاورت نہ کرنے صورت سامنے آئی جبکہ یہاں عمران خان صاحب اور شہباز شریف کے مابین نہیں بلکہ قائد ایوان و قائد حزب اختلاف کے بیچ اتفاق رائے یا مشاورت کا سوال تھا جسے درخور اعتنا نہیں سمجھا گیا پارلیمانی بالادستی کے

برعکس صدارتی فرمان کے ذریعے عبوری مدت 120 دن کا آرڈیننس جاری کر لیا گیا۔ صدارتی فرامین کے ذریعے مسلسل قانون سازی سے موجودہ حکمران کی جانب سے پارلیمانی جمہوریت پر ایام گزشتہ میں بھیجی گئی ”لعنت“ کی عملی صورت ہے۔ جو مستحسن عمل ہرگز نہیں، دلچسپ نقطہ یہ ہے کہ نیب آرڈیننس میں دوسری ترمیم پر اٹارنی جنرل نے بھی اقرار کیا ہے کہ اس میں خامیاں موجود ہیں بہ الفاظ دیگر ترمیمی قانون بناتے ہوئے بلا ارادہ غلطیوں کا ارتکاب کیا گیا ہے۔ کیا ترمیمی آرڈیننس کے اجراء کے دوران اے جی آفس کو بھی مشاورت سے محروم رکھا گیا تھا؟ یا ان کی رائے کو کوڑے دان میں ڈالنے کی روشن اپنائی گئی تھی؟ اتھارٹی جنرل کی تنقید ایسے ہی سوالات کو جنم دے رہی ہے! ۔

آمر جنرل پرویز مشرف نے نیب آرڈیننس نافذ کیا گیا چنانچہ اس کے چیئرمین کی تعیناتی کے طے شدہ طریقہ کار میں تبدیلی کے دو ہی ذرائع تھے۔ بہتر اور معیاری بلکہ ناگزیر طریقہ پارلیمان سے ترمیم منظور کرانے کا تھا۔ دوسرا راستہ غیر آئینی تو نہیں لیکن یہ قابل ستائش بھی نہیں کیونکہ صدارتی حکم کے ذریعے قانون بنانے کا اختیار کسی افتاد یا ہنگامی صورتحال میں نبرد آزمائی کا ایک وسیلہ ہے۔ چیئرمین نیب کے عہدے کی مدت اچانک ختم تو نہیں ہوئی کہ صدارتی فرمان کے اجراء کا سہارا لیا جاتا! حکومت کی نیت درست ہوتی ( پارلیمانی بالادستی پر یقین) تو اس کے پاس پارلیمنٹ کے ذریعے اتفاق رائے سے ترامیم کا موقع اور وقت موجود تھے

ترمیمی بل میں چیئرمین نیب کے عہدے کی میعاد کو قابل توسیع بنا دیا گیا ہے۔ اور یہ نقطہ حکومت کی ضرورت کے علاوہ محض ایک فرد کے مفاد کے لئے ملکی قانون میں تبدیلی ہے۔ شاید اسی عمل کو جناب عمران خان ”تبدیلی“ کا نام دیتے رہے ہیں۔ بہر طور یہ قانون استقلال کے لئے عدالتی حکم یا پارلیمانی توسیع کا محتاج ہے ممکن ہے کہ اعلیٰ عدلیہ اسے منسوخ کر دے یا پھر اپنی مدت ختم ہونے پر پارلیمان سے عدم توثیق کی بنا پر تاریخ کے کوڑے دان میں چلا جائے۔ ثانی الذکر کا بہر حال امکان محدود ہے۔ آئندہ سطور میں اس پر بات ہوگی

قانون میں اس ترمیم کا بھیانک پہلو عدلیہ اور وہ بھی احتساب کی عدالتوں کو ماضی کی طرح پھر سے انتظامیہ کی ماتحتی میں لاتا ہے۔ ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ ججوں کو احتساب عدالتوں میں بطور جج تعینات کرنے کا صدارتی اختیار عدلیہ کی آزادی کے بر عکس ہو گا۔ عملاً یہ اختیار وزیراعظم کے پاس ہو گا کیونکہ آئین پاکستان صدر مملکت کو حکومت کے مشورے پر عمل کا پابند بناتا ہے۔ اس طریقہ سے تعینات جج انتظامیہ (ایگزیکٹو) کے رحم وکرم کا محتاج ہو گا۔

اپنی ملازمت کے تسلسل و تحفظ کے لئے وہ انصاف کی بجائے حکومت کی خواہشات پوری کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے۔ خیال ہے کہ عدالتی رجوع کے نتیجے میں یہ شق کالعدم ہو سکتی ہے سپریم کورٹ کے ججز اور چیف جسٹس عمر کی مقررہ مخصوص حد گزرنے کے بعد سبکدوش ہو جائیں گے مگر جناب جاوید اقبال 77 برس کی عمر میں بھی چیئرمین نیب ہی رہیں گے! ۔ یہ مفادات کا ٹکراؤ اور ترغیب کا گھاؤ ہے جو انصاف اور شفاف حکمرانی کے سینے میں اتر رہا ہے۔

ترمیمی آرڈیننس کا ابہام اور آئین سے متصادم واقع ہونا بھی ایک عجیب مخمصہ پیدا کر رہا ہے۔ ترمیم کے مطابق نئے چیئرمین کی تقرری تک جناب جاوید اقبال چیئرمین نیب رہیں گے چونکہ تقرری کی راہ میں رکاوٹ حکومت اور اپوزیشن کا متفق الرائے ہونا لازم ہے۔ لہذا تب تک عہدے پر موجود چیئرمین کو نیا چیئرمین سمجھنا غلط ہے بلکہ انہیں عبوری چیئرمین نیب کہا جانا مناسب ہو گا تو کیا نیب قوانین میں کوئی عبوری چیئرمین ان کامل اختیارات کا استحقاق کا حامل ہو گا جو مستقل چیئرمین سے مخصوص ہیں؟ قانون تو عبوری چیئرمین کے متعلق مکمل خاموش ہے۔

لگتا ہے کہ حکومت اس ترمیم پر اپوزیشن سے مشورے میں ناکامی کے بعد اسے پارلیمانی کمیٹی میں لے جائے گی وہاں پارلیمانی اتفاق رائے ممکن نہیں ہو گا لہذا اگلے مرحلے میں ایسے قومی اسمبلی سے منظور کرایا جائے گا سینٹ سے استرداد کے حکومت پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں پیش کردے گی جہاں حکومت کو عددی برتری میسر ہے اور یوں یہ ترمیمی بل ایکٹ آف پارلیمنٹ بن سکتا ہے۔ ایسا ہونا بعید از قیاس نہیں اور یہ بھی اظہر من الشمس ہے کہ ترمیمی فرمان اپنی موجودہ شکل میں قانون کے ساتھ یا احتساب کے ساتھ کھلواڑ کے مترادف ہے۔

اس سے احتسابی عمل محدود ہو جائے گا اور اس کا پورا فائدہ موجودہ حکومت کے اکابرین اٹھائیں گے جنہوں نے ناقص فیصلہ سازی یا ارادی معاونت کے ذریعے قومی خزانے کو اربوں روپے کا چونا لگایا ہے اسی لئے ترمیمی آرڈیننس کو عمران حکومت کی طرف سے اپنے لئے از خود عطاء کردہ این آر او کہلا جا رہا ہے۔ رد بلا کا ایک ہی وسیلہ باقی ہے کہ عدلیہ اس کا جائزہ لے کر مناسب ترامیم کرے یا رد کردے۔ اپوزیشن کو ترمیم فرمان کے ذریعے دیوار کے ساتھ لگایا گیا ہے دریں حالات اپوزیشن پارلیمانی کمیٹی میں اس ترمیم کو جو درحقیقت جناب جاوید اقبال کو بطور چیئرمین برقرار رکھنے کے لیے لائی گئی ہے اگر اسے اگلے انتخابات کے اعلان سے مشروط کر کے قبول کر لے اور بعض استثناء کو حذف کرا لے تو اسے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا کیونکہ پہلے زیر سماعت اور زیر تفتیش مقدمات پر اس کا اطلاق ممکن نہیں۔ آئین مراطلاق بہ ماضی قانون سازی کی ممانعت ہے

حالیہ مہینوں میں عدالتوں نے متعدد درخواستوں کو اس دلیل کے ساتھ سماعت کے لئے نامنظور کیا ہے کہ پارلیمنٹ کی موجودگی میں وہ قانون سازی کے معاملات میں مداخلت نہیں کرنا چاہتی۔ کیا نیب ترمیمی آرڈیننس پربھی یہی رویہ اپنائے جانے کا خدشہ ہے؟

پھر تو سابقہ پارلیمنٹ کے منظور کردہ قوانین بالخصوص انتخابی اصلاحات اور پارٹی قیادت کے متعلق منظور شدہ قانون پر عدالتی تنسیخ پر بھی خط تنسیخ پھیرنا ناگزیر ٹھہرے گا۔

تمدنی مکالمے اور جمہوری اقدار کی پاسداری سے محروم حکمران دور اندیشی کے بر عکس وقتی فائدے کے لئے عجلت آمیز فیصلے کرنے لگیں تو جاننا چاہیے کہ یہ عمل مہذب معاشرے کو اترائی کی طرف دھکیلنے پر استوار ہے۔ جس کا بروقت تدارک مستقبل کی معدوم ہوتی لو کو بچانے کے لئے لازم بلکہ ناگزیر ہے


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments