چند شمعوں کے بھڑکنے سے سحر ہوتی نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے داخلی اور خارجی مسائل پر ہر دور کی حکومت پر اپوزیشن، عوام اور دیگر رائے عامہ پر نظر رکھنے والے ادارے تنقید بھی کرتے ہیں اور اپنی رائے بھی دیتے آئے ہیں کبھی بات تحریروں تقریروں سے بڑھ کر تحریکوں تک بھی پہنچی اور کبھی جدوجہد راستے میں ہی دم توڑ گئی کبھی عوام کی خواہش پوری ہوئی اور کبھی عوام کی طرف سے پذیرائی نہ ملنے پر رہنما اپنی خواہشات پوری نہ ہونے پر واپس اپنے حجروں میں چلے گئے اور پھر سے حکومت کے خلاف نئی صف بندی میں مصروف ہو گئے۔

پاکستان کی تاریخ ایسے ہی واقعات سے بھری پڑی ہے جہاں کبھی حکومت اور کبھی اپوزیشن کو مات ہوئی ویسے تو ساری دنیا میں ہی ایسے ہوتا ہے لیکن پاکستان میں عوام کو اکثر غیر یقینی صورتحال کا سامنا رہتا ہے جس کے باعث یہاں کی سیاست میں تیزی اور مندی ساتھ ساتھ چلتی ہے حکومت کسی کی بھی ہو وہ ہمیشہ دباؤ میں رہا عوام اور حکومت مخالف رہنماؤں کا یہی نظریہ رہا کہ سب کچھ حکومت نے ہی کرنا ہے نہ عوام کو اور نہ دیگر لیڈروں کو کبھی احساس ہوا کہ وہ اپنی قومی ذمہ داری پوری کریں۔

اس بات کا جائزہ لینا وقت کی اہم ضرورت ہے کہ حکومت کے بعد باقی سب کا کیا کردار ہے، کیا ہم وہ کردار پوری ایمانداری سے پورا کر رہے ہیں یا صرف وقت گزاری کی جا رہی ہے کہ جیسے حالات ہوئے ویسا روپ دھار لیا پہلے اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ حکومت تو اپنے ہر فیصلے کو ملکی مفاد کا نام دیتی ہے کیا عوام بھی ملکی مفاد کو مقدم رکھتے ہیں یا ہر بار اپنی خواہشوں تلے دب کر نور مقدم کی طرح ذبیح ہونے کو ترجیح دیتے ہیں کیا حکومت جب بھی عوام کا خون نچوڑنے کا فیصلہ کرتی ہے اس کو یہ طاقت کون مہیا کرتا ہے ذرا سا غور کریں اور عوام صرف ایک بار اپنے گریبان میں جھانکنے کی ہمت اجتماعی طور پر کر لیں تو ملک میں ایسا انقلاب برپا ہو گا جس کا کسی بھی حکومت نے سوچا بھی نہیں ہو گا پاکستان میں حکومتیں تو کئی بار آئینی اور غیر آئینی طور پر تبدیل ہوئیں لیکن عوام کے مزاج کو تبدیل اور ان کی تربیت کرنے کا کسی نے نہ سوچا ہمارے قومی رہنما سڑکوں گلیوں اور نالیوں کے فنڈ حاصل کرنے میں لگے رہے قوم کی تربیت کا بیڑا کسی نے نہ اٹھایا۔

پاکستان کے قیام کا عمل مکمل ہوتے ہی پا اثر لوگ قیمتی جاگیروں کی الاٹمنٹ کروانے کے چکر میں پڑ گئے جبکہ قربانیاں دینے والے کیمپوں میں سسکتی زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے کیا یہ نا انصافی نہیں کی وطن کی خاطر قربانیاں دینے والے بھیک مانگنے پر مجبور ہوئے اور انگریزوں سے وفاداری کرنے والے ہمارے رہنما بن گئے جنہوں نے آزادی کی اہمیت بتانی تھی وہ ایڑیاں رگڑتے رہے اور جنہوں نے شہدا کے خون کا سودا کیا وہ حکمران بن گئے عوام پر محلاتی سازشیں کرنے والے مسلط ہو گئے اور جب لمبے عرصہ تک ایسا ہی نظام چلتا رہا تو جس سانحے کی ابتدا کا آغاز ہوا اور آج تک جاری ہے وہ تھا عوام کا نیکی کا راستہ چھوڑ کر بدی کا راستہ اختیار کرنا اور یہی کرپٹ اشرفیہ کی کامیابی تھی انہوں نے اپنا پیٹ بھرنے کے لیے عوام کو کرپشن کی طرف لگا دیا اور یہاں بھی اس طبقے نے عوام کو کرپشن کرنے کا مکمل اختیار نہیں دیا ان کو محکوم ہی رکھا جب دل چاہا ان کے راستے محدود کر دیے تا کہ عوام انہی کے زیر اثر رہیں۔

آج یہ صورتحال ہے کہ کوئی شخص چھوٹے سے چھوٹے کاروبار کا آغاز بھی کرے تو غیر حقیقی منافع ذہن میں رکھتا ہے اور یہ تو ایک بچہ بھی جانتا ہے کہ جب کسی چیز میں توازن نہ ہو تو آپ وقتی طور پر فائدہ تو حاصل کر لیتے ہیں لیکن اس کاروبار کی بنیاد کمزور ہوتی ہے جب مقدار میں فرق ڈالیں گے تو معیار کو قائم رکھنا مشکل ہو گا اور جب معیار نہیں ہو گا تو کاروبار کے زوال کو دنیا کی کو طاقت نہیں روک سکتی یہ قدرت کا اصول ہے اور جب اپ قدرت سے لڑنا شروع کر دیں تو کیسے ممکن ہے کہ ترقی اپ کے مقدر میں ہو پاکستانی عوام کی بدقسمتی سمجھ لیں کہ ان کو ایسے رہنما ملے جو ان کی اچھی تربیت نہ کر سکے اور اب ایک ایسی صورتحال پیدا ہو چکی ہے کہ کسی کو سیدھے راستے پر چلنے کی تلقین کریں تو وہ راستہ تبدیل کر لیتا ہے عوام میں اچھے اور برے کی تمیز ختم ہو چکی ہے ہر کسی نے ایسا مائنڈ سیٹ رکھا ہے کہ جو وہ کہہ رہا یا کر رہا ہے وہ ہی درست ہے اور جب اپنی غلطی کے باعث نقصان ہوتا ہے تو گالی حکمران کو دی جاتی ہے۔

قوم کو اپنے کردار پر نظر رکھتے ہوئے اپنے احتساب کی اشد ضرورت ہے حکومت پر تنقید ضرور کریں لیکن جو فرائض عوام کے ہیں ان پر کون عمل کرے گا کیا عوام ملاوٹ کریں ناپ تول میں مقدار کم کریں اپنے جائز کاموں کے لیے رشوت دیں اپنا منافع بڑھانے کے لیے مقدار اور معیار کی سطح کو خراب کر دیں کھیت سے دکان تک کے سفر میں قیمتوں کو آسمانوں تک لے جانے میں کیا ذرائع استعمال کیے جاتے ہیں ٹریفک سگنل کو توڑنے کی عادت میں حکومت کہاں سے قصور وار ہوئی اگر ہم سڑک پر ون ویلنگ کرتے ہیں تو اس میں حکومت کا قصور ہے یا ون ویلنگ کرنے والے کے اہل خانہ اس جرم میں شریک ہیں جب ایک با اثر شخص رقم لے کر نوکریوں کی بندر بانٹ لگا دیے تو اس میں کون قصور وار ہے اور لالچ میں جب مڈل مین اپنی کمیشن لے تو کیا یہ حکومت نے اجازت دی عوام اپنے رویے درست کرنے کی بجائے اس کا دوش حکومت کو دے کر بری الزمہ ہو جاتے ہیں۔

اپ نے اکثر دیکھا ہو گا سڑک پر عوام رانگ سائیڈ سے گاڑی کو چلاتے ہیں اور قانون کو اپنے گھر کی باندی سمجھتے ہیں عوام قانون کو توڑتے فخر محسوس کرتے ہیں اور اگر ان کو روکا جائے تو وہ متعلقہ اہلکار کے گلے پڑ جاتے ہیں اگلے روز ایک وکیل نے ریکارڈ روم کے شیشے توڑ دیے جب قانون کے محافظ قانون کی تشریح کرنے والے قانون کو اپنے ہاتھ میں پکڑے ڈنڈے میں منتقل کر دے تو ڈنڈے کو کیا پتہ کہ کہاں چلنا ہے اور کہاں نہیں چلنا جب حکمران عوام کو کتاب کی جگہ ڈنڈا پکڑنے کی ترغیب دیں گے جب دلیل کی جگہ گالی کا راستہ اپنایا جائے گا تو عوام سے خیر کی توقع کرنا اندھا اور بہرہ ہونے کے مترادف ہے ایک انقلاب حکومت بدلنے یا پھر نظام کی تبدیلی کے لیے ہوتا ہے لیکن ہمارے ملک میں عوام کی اخلاقی تربیت کے لیے انقلاب کی ضرورت ہے اس کے لیے چند لوگ کچھ نہیں کر سکتے قوم کو اپنے رویوں میں تبدیلی کے لیے اجتماعی کوشش کرنی ہو گی وگرنہ جس ڈگر پر قوم چل رہی ہے وہ سیدھا پستی کی طرف جاتا ہے۔ اور اسی حوالے سے اگر مختصر بات کی جائے تو وہ اس شعر میں پنہاں ہے۔ رنگ محفل چاہتا ہے اک مکمل انقلاب۔ چند شمعوں کے بھڑکنے سے سحر ہوتی نہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments