انسان اور جوتے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


جو ان کو تاڑتا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
۔ ۔ ۔ ۔ ۔

جوتوں کا مقصد پیروں کی حفاظت ہے مگر مرور زمانہ سے ان کو فیشن کا درجہ حاصل ہو گیا ہے۔ بلکہ اس دور میں جوتے اپنی قیمتوں کی وجہ سے اس لائق ہو گئے ہیں کہ بجائے ان کو پہننے کے ان کو سر پر رکھا جائے۔ کسی زمانے میں جوتے انسانی پیروں کی حفاظت پر معمور ہوتے تھے مگر اب تو زمانہ بدل گیا ہے انسان جوتوں کی حفاظت پر معمور ہو گئے ہیں۔ جوتوں کے پرستار انسان ہی نہیں محکمے بھی ہوتے ہیں۔ اردو میں کیا خوبصورت محاورہ ہے : جوتوں میں دال با ٹنا۔ مگر اب صورت یہ ہے کہ جوتے اور دال اپنی قیمتوں کی وجہ سے نوادرات میں شامل ہو گئے ہیں۔ کسی زمانے میں عورت کو پیر کی جوتی کہا جاتا تھا شاید اس دور میں جوتیاں ارزاں تھیں۔ بعض لوگ اتنے خر دماغ ہوتے کہ وہ کسی کو جوتی کی نوک پر نہیں رکھتے۔

نظیر اکبر آبادی کی نظم آدمی نامہ میں جوتوں کا ذکر اس رنگ میں کیا گیا ہے
مسجد بھی آدمی نے بنائی ہے یاں میاں بنتے ہیں آدمی ہی امام اور خطبہ خواں
پڑھتے ہیں آدمی ہی قرآن اور نماز یاں اور آدمی ہی ان کی چراتے ہیں جوتیاں
جو ان کو تاڑتا ہے سوہے وہ بھی آدمی

آرکیالوجسٹ کو جو سب سے پرانی چپل ملی ہے وہ قریب آٹھ ہزار سال پرانی ہے جو امریکہ کی ریاست آری گن میں 1939 میں ملی تھی۔ دنیا کے سب پرانے 3500 سال پرانے جوتے 2008 میں آرمینیا میں دریافت ہوئے تھے۔ سکنڈے نیویا میں Jotunheimen shoe اگست 2006 میں دریافت ہوئے تھے۔ آرکیالوجسٹ کا کہنا ہے کہ ان کی کھال 1800 BCمیں بنائی گئی تھی۔

کہا جاتا ہے جب انسان کسی دوسرے شخص کو ملتا تو جو چیز سب سے پہلے دیکھی جاتی وہ اس کے جوتے ہوتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ فلے پینز کی فرسٹ لیڈی اور سابق ڈکٹیٹرفرڈی نینڈ مارکوس (صدر ( 1965۔ 1986 کی اہلیہ امالڈا مارکوس Imalda Marcosکے پاس تین ہزار جوتے تھے۔ ملک کے اندر بنائے جانے والے جوتوں کی قیمت چھ سے دس ڈالر تھی جبکہ درآمد شدہ جوتوں کی قیمت ایک سو ڈالر سے زیادہ تھی۔ یوں ان جوتوں کی قیمت ہزاروں ڈالر تھی۔

کیا اس نے تمام کے تمام جوتے پہنے ہوئے تھے؟ اس سوال کا جواب صرف وہی دی سکتی تھی۔ اقتدار ختم ہونے کے بعد اس کے یہ جوتے کہاں گئے؟ کہا جاتا ہے کہ جوتوں کے 720 جوڑے منیلا کے Marikina Shoe Museum میں ہیں۔ ان میں سے 253 ڈسپلے کیے ہوئے ہیں جبکہ باقی کے 467 سٹوریج میں رکھے ہوئے ہیں۔ ان جوتوں میں کئی ایک ڈیزائنر شوز ہیں جیسے Christian Dior، Gucci، and Oleg Cassini۔ 2012 میں ایسوسی ایٹڈ پریس نے رپورٹ کیا تھا کہ ایک ہزار جوڑے termite & mold کی وجہ سے ضائع ہو گئے ہیں۔ 1987 میں امالڈا مارکوس نے کہا تھا میرے پاس تین ہزار جوتوں کے جوڑے نہیں بلکہ صرف 1060 تھے۔

صدر بش پر جوتا مارنے کا واقعہ

بغداد میں 14 دسمبر 2008 کو ایک پریس کانفرنس کے دوران صدر امریکہ جارج بش پر ایک صحافی منتظر الزیدی نے یہ کہتے ہوئے اپنا جوتا پھینکا تھا کہ یہ عراقی عوام کی طرف سے الوداعی بوسہ ہے۔ اس کے بعد منتظر عراقی عوام میں عوامی ہیرو بن گیا۔ اس پر مقدمہ چلا یا گیا جس کے دوران عراق کے اندر اور باہر کے ممالک میں مظاہرے ہوتے رہے۔ منتظر کو تین سال قید کی سزا ہوئی تھی مگر بعد میں نو مہینے کی قید کے بعد اس کو رہا کر دیا گیا تھا۔

اس کے بعد جوتے پھینکنے کے واقعات امریکہ، ہندوستان چین، یورپ ایران اور ترکی میں بھی ہوئے تھے۔ جیسے انڈیا کے منسٹر چیتا مبرام پر 17، اپریل 2017 کو پر یس کانفرنس کے دوران جرنیل سنگھ نے جوتا پھینکا تھا۔ مگر ایسے واقعات کو زیادہ شہرت نہ ملی جیسے منتظر زیدی کو ملی تھی۔ منتظر زیدی کی رہائی کے بعد اس کو فرانس مدعو کیا گیا جہاں اس کی تقریر کے دوران ایک عراقی صحافی نے منتظر پر جوتا پھینکا تھا یہ کہہ کر یہ شخص عراق میں ڈکٹیٹر شپ قائم کرنا چاہتا ہے۔

جوتوں کے لئے کھال، لکڑی اور کینوس استعمال ہوتا تھا۔ انسان نے جسم کی حفاظت کے لئے کھال کا استعمال کیا تھا اسی طرح پیروں کی حفاظت کے لئے بھی جانوروں کی کھال استعمال کی جاتی تھی بلکہ ہزاروں سال گزرنے کے باوجود اب بھی استعمال کی جاتی ہے۔ کھال کو استعمال کر نے کے لئے دھوپ میں سکھایا جاتا بعد نمک اور پھٹکری کا استعمال کیا جانے لگا۔ کھالوں کر نرم کر نے کے لئے جانوروں کی چربی استعمال کی جاتی تھی۔ عہد وسطیٰ میں چمڑے کو رنگنے یعنی ٹیننگ کا طریقہ بھی ایجاد ہو گیا تھا۔

کھالوں کو صاف کر کے پیڑوں کی چھالوں، پتوں میں ابال کر انہیں دیر پا بنا یا جاتا تھا۔ اس سلسلے میں شابلوت کی چھال کا استعمال عام تھا جس میں کافی مقدار میں تیزاب tannic acid ہوتا تھا جس کے اثر سے کھال کچے چمڑے میں تبدیل ہوجاتی تھی۔ عہد وسطیٰ میں چمڑے کو رنگنے کاTanning کام عروج پر تھا جس کی وجہ سے جوتوں کی صنعت کو بہت ترقی ملی تھی۔

باٹا شو میوزیم ٹورنٹو

ٹورنٹو میں باٹا میوزیم کا آغاز سونجا باٹا (Sonja Bata d 2018 ) کی ذاتی کولیکشن سے شروع ہوا تھا جس کا خاوند ٹامس باٹا (Thomas Bata d 2008 ) ، باٹا شو کمپنی کا ما لک تھا۔ ستر کی دہائی میں سونجا کی ذاتی کولیکشن میں 1500 جوتے تھے۔ 1979 میں اس نے باٹا شو میوزیم فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی۔ باٹا شو میوزیم کا افتتاح مئی 1995 میں ہوا تھا۔ اس میوزیم میں 13,000 جوتے ہیں جن میں سے چند ایک 4500 ہزار سال پرانے ہیں۔

میوزیم کی کولیکشن میں جوتوں کی بڑی تعداد ڈسپلے کے لئے رکھی ہوئی ہے مگر کثیر تعداد سٹوریج میں رکھی ہوئی ہے۔ جنوری 2006 میں میوزیم سے ماجوری (لیٹویا) سلیپرز چوری ہو گئے جن کا استعمال سکندر جاہ نے کیا تھا۔ 2006 میں ان سلیپرز کی قیمت $ 16,000 جبکہ سونے کی پازیب $ 45,000 اور پاؤں کے انگوٹھے کی انگوٹھی کی قیمت $ 11,000 تھی۔ جوتوں کو دنیا کے مختلف ممالک چین، انڈیا، جاپان، کوریا، مشرق وسطیٰ، افریقہ، نارتھ امریکہ کے مطابق رکھا گیا ہے۔

یورپ میں جوتوں کا استعمال

امریکہ کے شہرہ آفاق کیمسٹ چارلس گوڈ ائر Charles Goodyear 1800۔ 1860 نے 1839 1 میں ایسا کیمیکل پروسیس دریافت کیا جس کی وجہ سے واٹر پروف، موڑ لئے جانے والا ربر بنا یا جا سکتا تھا۔ اس قسم کے ربر سے علاوہ اور چیزوں کے کاروں کے ٹائر اور جوتے بنائے جا سکتے تھے۔ اب چمڑے کے علاوہ ربر بھی جوتے بنانے کے لئے استعمال ہونے لگا۔ امریکہ کی گوڈ ائر کمپنی اسی کے نام سے موسوم ہے۔ جب سلائی مشین 1845 میں ایجاد ہوئی تو جوتے بنانے کی صنعت اور بھی ترقی فزوں ہو گئی۔ چارلس گوڈ ائر نے 1850 میں جوتے بنانے کی ایک بڑی مشین بنائی جس کے ذریعہ لارج سکیل پر جوتے بنانا آسان ہو گیا اور جوتے بنانے کی بڑی بڑی فیکٹریاں قائم ہو گئیں۔ بیسویں صدی میں چمڑے اور ربر کے علاوہ پلاسٹک بھی جوتوں کے لئے استعمال ہونے لگا تھا۔

برطانیہ میں ایڈورڈ سوم Edward III 1312۔ 1377 نے قانون بنا یا تھا کہ عام شہری کے جوتے کے نوک دو انچ سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔ شریف زادے کے جوتے کی نوک بارہ انچ تک لمبی ہو سکتی تھی جبکہ صاحب حیثیت شخص کے جوتے کی نوک 24، انچ تک ہو سکتی تھی۔ فرانس میں سولہویں صدی میں شاہی خاندان کے افراد 24، انچ نوک والے جوتے استعمال کر سکتے تھے۔ پندرہویں صدی میں عورتوں کے جوتوں کے لئے قواعد بنائے گئے جس کے مطابق خواتین کو چھ انچ سے زیادہ جوتے استعمال کرنے پر ممانعت تھی۔

وینس (اٹلی) میں خواتین میں 13، انچ کے جوتے پہننے کا رواج تھا۔ امریکہ میں جوتوں کے متعلق قوانین 1960 کے بعد وضع کیے گئے۔ شکاگو میں لال اور کالے جوتے پہننے پر ممانعت تھی۔ فلوریڈا کے سکولوں میں سبز رنگ کے جوتوں پر پابندی تھی۔ لڑکیاں ایک انچ سے زیادہ اونچی ایڑی والی جوتی نہیں پہن سکتی تھیں۔ لاس اینجلس میں ایسے جوتے پہننے پر ممانعت تھی جس میں شیشے لگے ہوں۔ فرانس میں ننگے پیر چلنا غربت کی علامت تھی۔ بڑے پیر نفرت سے دیکھے جاتے جبکہ چھوٹے پیر اعلی نسب ہونے کی علامت تھے۔ امیر لوگ بچوں کو تنگ جوتے پہناتے تا ان کے پیر چھوٹ رہیں۔ چین میں بھی چھوٹے پیروں کو مستحب جانا جاتا تھا۔

جوتوں سے علاج

ہندوستان میں جوتے پہننے کا رواج اہل ثروت اور امراء تک ہی محدود رہا تھا۔ عام طور پر لوگ ننگے پیر ہی رہتے اور سفر کرتے تھے۔ جوتے بنا نے کا کام گھروں میں ہوتا تھا۔ پنجاب میں ایسے جوتوں کو کھسے کہا جاتا تھا۔ یورپین جوتوں کا استعمال انگریزوں کے ہندوستان پر قابض ہونے کے بعد شروع ہوا تھا۔ بمبئی، بنگال اور مدراس میں انگریز افواج کے لئے جوتے بنانے کے لئے فیکٹر یاں قائم ہو گئیں جہاں ہاتھ سے جوتے بنائے جاتے تھے۔ ہم نے بچپن میں شو میکر کو ہاتھ سے جوتے (چپل) بناتے دیکھا ہوا ہے۔

بر صغیر ہند و پاکستان میں بعض علاقوں میں مرگی کا علاج جوتا سونگھا کر کیا جاتا ہے۔ بعض ایک شفیق مائیں ایسی بھی ہیں جو بچوں کی تربیت اور علاج جوتوں سے کرتی ہیں۔ ماں کی ہر چیز انسان فراموش کر سکتا ہے مگر کھائے جوتے کبھی نہیں بھولتے۔ گھروں میں اگر ایک جوتے پر دوسرا جوتا چڑھ جائے تو کہا جاتا کہ فلاں شخص لمبے سفر پر جائے گا۔ اگر کسی اور کا جوتا پہن لیا جائے تو کہتے ہیں کہ اس کی بد قسمتی پہننے والے کو مل جاتی ہے۔ باپ کا جوتا پہننا اس کے قدموں میں چلنے کے مترادف ہوتا ہے۔ اور انگلش میں لوگ کسی دانشور کے الوداع ہونے پر کہتے ہیں it ’s hard to fill his shoes۔

جوتے اور اردو محاورے

جوتیوں کا صدقہ دیا جاتا ہے جو کہ انکساری کا کلمہ ہے یعنی آپ کی بدولت۔ جوتے کا یار بھی ہوتا یعنی جو طاقتور کا ساتھ دے۔ جوتی پر رکھ روٹی بھی کھائی جاتی ہے۔ شوہر کو فرماں بردار بنانے کے لئے جوتی پر کاجل پار کر شوہر کو سرمہ لگایا جاتا ہے۔ جوتی کی نوک پر اتنی جگہ نہیں ہوتی مگر دشمن کو جوتے کی نوک پر رکھا جاتا ہے۔ فضول کوشش کو جوتے توڑنا کہا جاتا ہے۔ جوتا تنگ ہو تو کاٹتا ہے جس کے لئے کلبوت ہوتے جو اس کو کھلا کر دیتے۔

کسی چیز سے لاتعلقی ظاہر کرنا ہو تو میری جوتی سے کہا جاتا۔ شدید لڑائی جھگڑے کو جوتیوں میں دال بٹنا کہا جاتا ہے۔ جوتی پر مارنا (حقیر سمجھنا) ، جوتیاں اٹھانا (کسی بزرگ کی خدمت کرنا) ، جوتی کی نوک پر مارنا (ذلیل سمجھنا) ، جوتی سے (میری بلا سے، کچھ پرواہ نہیں ) ، جوتیاں بغل میں دبانا (بھاگ جانا) ، جوتیاں توڑنا ( کوشش کرنا) ، جوتیاں سر پر رکھنا (عقیدت کا اظہار کرنا) ، جوتیوں سمیت آنکھوں میں بیٹھنا (آنکھوں میں دھول جھونکنا) ، جوتیوں میں بیٹھنا ( محفل میں ادنیٰ سمجھنا) ، جوتی (جوتے کا مؤنث) ۔

بی بی سی ایک رپورٹ کے مطابق انڈیا میں ایک ایسا گاؤں انڈمان میں ہے جہاں لوگ جوتے نہیں پہنتے۔ انڈمان جنوبی انڈیا کی ریاست تامل ناڈو کے دارالحکومت چنئی سے 450 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہاں 130 گھرانے رہتے ہیں جو کھیتوں میں کام کرتے ہیں۔ یہاں سوائے بزرگوں اور کمزور افراد کے گاؤں میں کوئی بھی جوتے نہیں پہنتا۔ سکول جاتے بچے اور نوجوان جوتے اپنے ہاتھوں میں اٹھائے چلتے ہیں جیسے ان کے جوتے پرس یا بیگ کی طرح کی چیز ہوں۔ (بی بی سی کملا تھیاگ راجن 14 مارچ 2019 )

جوتوں کی اقسام

جوتوں کی کئی اقسام ہیں جیسے بوٹ، کھڑائین، سینڈل، گرگابی، افغانی چپل، کھسہ، ہوئی چپل، کینوس شوز اور جوگر (casual، sleepers and loafers) ۔ جوتوں کی اتنی اوقات اتنی نہیں کہ انہیں پہن کر گھر کے اندر لا یا جائے۔ انہیں گھر کی دہلیز پر یا کمرے سے باہر اتار کر رکھ دیا جاتا ہے۔ بعض عبادت گاہوں میں جوتے داخلی دروازے پر ہی اتار دیے جاتے کیونکہ جوتے ناپاک اور قابل نفرت تصور کئے جاتے۔ ہسپتالوں کے آپریشن تھیٹر میں بھی جوتے اتار دیے جاتے ہیں۔ جوتا مارنا ذلت کی زبان ہے۔

شادی بیاہ کے موقعہ پر جوتوں سے وابستہ رسم کو جوتا چھپائی کہا جاتا ہے جب سالیاں جوتا چھپا کر دولہا سے پیسے طلب کرتی ہیں۔ ایسے موقعوں پر دولہا کے دوستوں یاروں اور دلہن کی بہنوں میں نوک جھونک قابل دید ہوتی ہے۔ شاعر کہتا ہے : دولہا کا جوتا جس نے چرایا منہ مانگا اس نے انعام پایا

جوتے خریدنے کے بعد انہیں سنبھال کر رکھنا مشکل مراحل میں سے گزارتا ہے۔ نامہ محبوب کی طرح چھپانے کے باوجود یہ چوری ہو جاتے ہیں۔ آج کل اچھے سے

اچھے جوتے کھونے اور پانے کا مقام تقریب گاہوں کے ساتھ عبادت گاہوں کو بھی گردانا گیا ہے۔ چاہے مشرق ہو یا مغرب جوتے مسجدوں میں اکثر غائب ہو جاتے ہیں۔ بعض لوگ عمدا اور بعض لوگ سہوا دوسروں کے نئے جوتے پہن کر گھر چلے جاتے ہیں۔ اس ضمن میں گجرات شہر کو بہت بدنام کیا جاتا ہے۔ چند سال قبل جب ہم لاہور کی بادشاہی مسجد کی زیارت کے لئے گئے تو داخل ہونے سے قبل جوتے ایک صاحب کو دیے اور فیس ادا کی کہ جب واپس آئیں گے تو ہمیں ہمارے ہی جوتے بخیریت مل جائیں گے۔ راقم الحروف جب عمرہ کی نیت سے حرمین شریفین کی زیارت کے لئے گیا تھا تو مکہ میں ہوائی چپل (Flipflop) پہن کر جاتا تھا۔ واپسی پر جو چپل ملی پہنی اور چل دیے۔

جوتے عرصہ دراز تک خوش خبری کی علامت قرار دیے جاتے رہے۔ جوتے چونکہ امیر لوگ پہنتے تھے اس وجہ سے جوتے عظمت کی علامت جانے جاتے تھے۔ مغربی ممالک میں گھوڑے کی نعل (یعنی جوتے Horse Shoe) کو خوش قسمتی کی علامت سمجھا جاتا رہا۔ لوگ گھروں میں ان کو دیوار پر لگاتے تھے جیسے ہمارے گھر میں پلاسٹک بنی یہ نعل دیوار پر آویزاں ہے جس میں چابیاں لٹکی ہوئی ہیں۔ بعض لوگوں کا خیال تھا کہ سفر پر روانہ ہونے سے قبل پرانا جوتا گھر کے باہر لٹکانے سے سفر خیریت سے طے ہوتا ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments