قوم اپنے محسن سے محروم ہوگئی
ڈاکٹر عبد القدیر خان یکم اپریل 1936 ء کو انڈیا کے شہر بھوپال میں پیدا ہوئے، آپ قیام پاکستان کے بعد 1952 ء میں انڈیا سے ہجرت کر کے پاکستان تشریف لائے۔ آپ نے ہالینڈ کی یونیورسٹی آف ڈیلفٹ سے ماسٹر آف سائنس اور بیلجیئم سے ڈاکٹریٹ آف انجینئرنگ کی اسناد حاصل کیں۔ تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1972 ء میں ڈاکٹر عبد القدیر خان نے ’فزیکل ڈائنامکس ریسرچ لیبارٹری‘ میں یورینکو کی ڈچ شراکت دار ذیلی ٹھیکیدار کمپنی میں ملازمت اختیار کی۔
برطانیہ، جرمنی اور ڈچ (ہالینڈ) کی کمپنیوں کے اشتراک سے یورینکو وجود میں آئی تھی جسے 1971 ء میں قائم کیا گیا تھا تاکہ ’سینٹری فیوجز‘ (مختلف اجزا کو الگ کرنے کے عمل) کے ذریعے یورینیم کی افزودگی کی تیاری اور تحقیق ممکن ہو۔ یہ ’سینٹری فیوجز‘ انتہائی تیز رفتار سے کام کرتے تھے۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان کو اس لیبارٹری میں نچلی سطح کی سکیورٹی کلیئرنس دی گئی لیکن نگرانی کے کمزور عمل کی وجہ سے انھیں ’سینٹری فیوجز ٹیکنالوجی‘ کی مکمل معلومات تک رسائی حاصل ہو گئی۔ انھوں نے ’ایل میلو‘ (مشرقی ہالینڈ کا شہر) میں قائم ڈچ پلانٹ کا متعدد مرتبہ دورہ کیا اور ان کی ایک اہم ذمہ داری جدید ترین سینٹری فیوجز سے متعلق جرمن دستاویزات کا ڈچ زبان میں ترجمہ کرنا بھی شامل تھا۔
17 ستمبر 1974 کو ڈاکٹر اے کیو خان نے اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو خط لکھا جس میں انھوں نے ایٹم بم بنانے کے لیے اپنی خدمات فراہم کرنے کی پیشکش کیں۔ اس خط میں ان کی رائے تھی کہ سینٹری فیوجز کو استعمال کر کے جوہری بم بنانے کا راستہ پلوٹونیم (جس سے پاکستان پہلے ہی بم بنانے کی کوشش کر رہا تھا) کے ذریعے بم بنانے سے بہتر ہے کیونکہ اس میں ’جوہری ری ایکٹرز‘ اور ’ری پراسیسنگ‘ ہوتی ہے۔ دو ہفتوں کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے ڈاکٹر اے کیو خان کو جوابی خط لکھا جس میں انہوں نے ان سے پاکستان واپس آنے کے لیے کہا۔
ڈاکٹر اے کیو خان اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی درخواست پر دسمبر 1974 میں پاکستان واپس تشریف لائے اور بھٹو سے ملاقات کی۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان نے اسی ملاقات کے دوران منیر احمد خان اور ان کی ٹیم کو ایٹمی پروگرام کی ساری تفصیلات سے آگاہ کیا اور ہالینڈ واپسی سے قبل ان سے ’انفراسٹرکچر‘ کی تیاری کے لیے کہا۔ ایک ٹی وی پروگرام میں انہوں نے کہا میں 1975 ء میں جب دوبارہ پاکستان واپس آیا تو میں ہر سال کراچی میں اپنے اہل خانہ سے ملاقات کے لیے آتا تھا۔
1975 میں ذوالفقار علی بھٹو نے مجھے ’سائٹ‘ (متعلقہ جگہ) کا معائنہ کرنے کے لیے کہا تاکہ میں دیکھ سکوں کہ کوئی پیش رفت ہوئی یا نہیں۔ میں نے بھٹو صاحب سے کہا کہ مجھے ہالینڈ واپس جانا ہے ؛ تاہم ان کا اسرار تھا کہ میں واپس نہیں جاسکتا اور مجھے یہاں رہنا ہو گا۔ انہوں نے بارہا مرتبہ بھٹو صاحب سے کہا کہ وہاں (ہالینڈ میں ) میری نوکری ہے اور مجھے واپس جانا ہو گا۔ میں مقامی سائنسدانوں کی سمت کی جانب رہنمائی کر سکتا ہوں۔
میری بیٹیاں ہالینڈ میں زیر تعلیم ہیں اور میری اہلیہ نے اپنے بوڑھے والدین کی دیکھ بھال کرنی ہے۔ ڈاکٹر اے کیو خان نے بھٹو صاحب سے کہا کہ مجھے سوچنے کا کچھ وقت دیں اور مجھے اپنی اہلیہ سے مشورہ کرنے دیں۔ جب میں نے اپنی اہلیہ سے بات کی کہ ہم ہالینڈ واپس نہیں جائیں گے تو وہ حیران اور پریشان ہو گئیں اور اس منصوبے کو مسترد کر دیا۔ ڈاکٹر اے کیو خان نے اپنی اہلیہ سے کہا کہ میں بلند و بانگ دعوؤں سے بچتے ہوئے یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ میرے سوا پاکستان کے لیے یہ کام کوئی اور نہیں کر سکتا۔
اس طرح ان کا ذہن بدل گیا اور انھوں نے پاکستان میں رہنے کا فیصلہ کر لیا۔ دسمبر 1974 میں ذوالفقار علی بھٹو جب ڈاکٹر اے کیو خان سے ملے تو ان کی حوصلہ افزائی کی کہ جوہری بم کے حصول کے لیے وہ پاکستان کی جس حد تک مدد کر سکتے ہیں کریں۔ اگلے سال ڈاکٹر خان نے سینٹری فیوجز کے نقشے تیار کیے اور بنیادی طور پر مغربی سپلائرز کی فہرست تیار کی جو اس کام کے لیے پرزہ جات فراہم کر سکتے تھے۔ 15 دسمبر 1975 کو ڈاکٹر اے کیو خان ہالینڈ سے پاکستان کے لیے روانہ ہوئے تو ان کے ہمراہ ان کی اہلیہ اور دو بیٹیاں بھی تھیں۔
اس سفر میں وہ اپنے ہمراہ ’بلیوپرنٹ‘ (نقشے یا خاکے ) اور پرزے فراہم کرنے والوں کی فہرست پاکستان لا رہے تھے۔ ابتداء میں ڈاکٹر اے کیو خان نے پاکستان اٹامک انرجی کمشن (پی اے ای سی) کے ساتھ کام کیا لیکن ادارے کے سربراہ منیر احمد خان سے ان کے اختلافات ہو گئے۔ 1976 کے وسط میں ذوالفقار علی بھٹو کی ہدایت پر ڈاکٹر اے کیو خان نے ’انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹری‘ قائم کی تاکہ یورینیم افزودگی کی صلاحیت کو پروان چڑھایا جائے۔
جس کو بعد ازاں ضیاء الحق نے مئی 1981 میں اس لیبارٹری کا نام ’ڈاکٹر اے کیو خان ریسرچ لیبارٹری‘ رکھ دیا جس کا مرکز کہوٹہ میں تھا۔ ڈاکٹر اے کیو خان نے جرمن نمونے کے مطابق سینٹری فیوجز کا ابتدائی نمونہ تیار کیا اور ضروری اجزا کی درآمد کے لیے پرزے فراہم کرنے والوں کی فہرست استعمال کی۔ پرزے فراہم کرنے والوں میں دیگر کے علاوہ سوئس، ڈچ، برطانوی اور جرمن کمپنیاں شامل تھیں۔ جب عبد القدیر خان نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر کام کرنا شروع کیا تو ہالینڈ کی حکومت نے غلطی سے اہم معلومات چرانے کے الزام میں ان پر مقدمہ دائر کیا لیکن جب ہالینڈ، بیلجیئم، برطانیہ اور جرمنی کے پروفیسروں نے ان تمام الزامات کا جائزہ لیا تو انہوں نے ڈاکٹر عبد القدیر خان کو بری الزمہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جن معلومات کو چرانے کی بنا پر یہ مقدمہ عدالت میں داخل کیا گیا ہے تو وہ ساری معلومات عام کتابوں میں موجود ہیں، جس کے بعد ہالینڈ کی عدالت نے ان کو باعزت بری کر دیا۔
بعد ازاں اس مقدمے میں فتح یاب ہونے کے بعد ڈاکٹر عبد القدیر خان کا شمار ان مایہ ناز سائنس دانوں میں ہوا جنہوں نے آٹھ سال کے انتہائی قلیل عرصہ میں انتھک محنت و لگن کی ساتھ پاکستان میں ایٹمی پلانٹ نصب کر کے دنیا کے نامور نوبل انعام یافتہ سائنس دانوں کو حیرت میں ڈال دیا۔ مئی 1998 ء کو ڈاکٹر اے کیو خان نے بھارتی ایٹمی تجربوں کے مقابلہ میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف سے تجرباتی ایٹمی دھماکے کرنے کی درخواست کی۔
بالآخر وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے دور میں آپ نے چاغی کے مقام پر چھ کامیاب تجرباتی ایٹمی دھماکے کیے۔ اس موقع پر ڈاکٹر عبد القدیر خان نے پورے عالم کو پیغام دیا کہ ہم نے پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر بنا دیا ہے۔ یوں آپ پوری دنیا میں مقبول عام ہوئے۔ سعودی مفتی اعظم نے ڈاکٹر عبد القدیر خان کو اسلامی دنیا کا ہیرو قرار دیا اور پاکستان کے لیے خام حالت میں تیل مفت فراہم کرنے کا فرمان جاری کیا۔ اس کے بعد سے پاکستان کو سعودی عرب کی جانب سے خام تیل مفت فراہم کیا جا رہا ہے۔ مغربی دنیا نے پروپیگنڈا کے طور پر پاکستانی ایٹم بم کو اسلامی بم کا نام دیا جسے ڈاکٹر عبد القدیر خان نے بخوشی قبول کر لیا۔
1993 ء میں کراچی یونیورسٹی نے ڈاکٹر عبد القدیر خان کو ڈاکٹر آف سائنس کی اعزازی سند سے نوازا جبکہ 14 اگست 1996 ء میں صدر پاکستان سردار فاروق لغاری نے ان کو پاکستان کا سب سے بڑا سول اعزاز نشان امتیاز دیا اور 1989 میں ہلال امتیاز کا تمغہ بھی ان کو دیا گیا۔
ڈاکٹر عبد القدیر خان کافی عرصے سے پھیپھڑوں کی بیماری میں مبتلا تھے اور ان کا کافی عرصہ تک راولپنڈی کے مختلف ہسپتالوں میں علاج ہوتا رہا اور بالآخر وہ 10 اکتوبر 2021 کو اس دنیا فانی سے کوچ کر گئے۔ ان کی وفات کی خبر سن کر ہر پاکستانی کی آنکھوں میں آنسوں جاری ہو گئے اور یوں قوم اپنے ایک اور محسن سے محروم ہو گئی۔ دعا ہے کہ اللہ تعالٰی محسن پاکستان کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطاء فرمائے۔


